روس نوجوان کے قتل پر نسلی فسادات پھوٹ پڑے 1600 سے زائد افراد گرفتار

حراست میں لیے گئے تارکین وطن ہیں، فسادات کا آغاز ماسکو کے 25 سالہ مقامی نوجوان کے قتل کے بعد ہوا، شہر کی سیکیورٹی سخت


INP October 15, 2013
روسی دارالحکومت میں نسلی منافرت کی بنیاد پر گزشتہ3 برسوں میں ہونے والی یہ سب سے بڑی گڑبڑ ہے۔فوٹو:فائل

روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک نوجوان کے قتل کے نتیجے میں پھوٹنے والے نسلی فسادات کے بعد پولیس نے 1600 سے زائد تارکینِ وطن کو حراست میں لے لیا۔

حکام کے مطابق روسی دارالحکومت میں نسلی منافرت کی بنیاد پر گزشتہ3 برسوں میں ہونے والی یہ سب سے بڑی گڑبڑ ہے جس پر قابو پانے کے لیے ماسکو میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا۔ فسادات کا آغاز اتوار کو ماسکو کے ضلع بریولوف میں ایک 25 سالہ مقامی نوجوان کے قتل کے بعد ہوا تھا۔ علاقہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ نوجوان کے قتل میں روس کے مسلم اکثریتی علاقے قفقاز سے تعلق رکھنے والا ایک تارکِ وطن ملوث ہے۔ نوجوان کے قتل کے خلاف نکلنے والے ایک جلوس کے مشتعل شرکا نے ان دکانوں، چھابڑوں اور دیگر کاروباری مراکز میں توڑ پھوڑ کی تھی جہاں بڑی تعداد میں تارکینِ وطن ملازمت کرتے ہیں۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی تھیں جس کے بعد حکام نے فسادات میں ملوث ہونے کے شبہ میں 380 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔



ماسکو کے ڈپٹی میئر الیگزنڈر گوربینکو نے فسادات کا الزام قوم پرست عناصر پر عائد کیا ہے۔ بریولوف کے مقامی رہائشیوں نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا' گزشتہ روز سبزی منڈی میں کام کرنے والے 1200 سے زائد تارکِ وطن مزدوروں کو بھی گرفتار کرلیا ہے جس پر گزشتہ روز مقامی افراد نے حملہ کرکے وہاں توڑ پھوڑ کی تھی۔ حکام نے دارالحکومت کے شمال مشرقی علاقے میں قائم ایک اور سبزی منڈی سے بھی 450 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حالیہ فسادات کے بعد روس میں تارکِ وطن مزدوروں کے حقو ق کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ماسکو میں قفقازاور وسطِ ایشیا کی سابق سوویت ریاستوں سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن پر حملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔