عید الاضحی پیشہ ور قصابوں کے ساتھ موسمی قصائی بھی میدان میں آگئے

پیشہ ور قصابوں نے پہلے روز گائے کی کٹائی کے نرخ8ہزار،دوسرے روز کے5اور تیسرے روز کے نرخ3 ہزار روپے مقررکردیے


Business Reporter October 15, 2013
اندرون سندھ اور پنجاب سے موسمی قصابوں کے ٹولے کراچی پہنچ گئے،موسمی قصاب 50فیصد کم نرخ پر جانور ذبح کرنے پر تیار. فوٹو؛ فائل

عید الا ضحی کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔

ماہر اور پیشہ ور قصابوں کے ساتھ موسمی قصابوں کی بڑی تعداد نے بھی چھری بغدے تیز کرلیے ہیں اور عیدالاضحی کی نماز کے فوری بعد ہی شہر بھر میں سنت ابراہیمی کے فریضے کی ادائیگی شروع کردی جائیگی، ہر سال کی طرح اس سال بھی پیشہ ورقصابوں کے ساتھ موسمی قصاب بھی میدان میں آگئے ہیں، ان موسمی قصابوں میں دیگر شہروں سے محنت مزدوری کے لیے کراچی آنے والے محنت کشوں کے علاوہ کراچی کے مقامی ''ہنرمند'' بھی پیش پیش ہیں جن میں زیادہ تر دیگر پیشوں سے وابستہ افراد شامل ہیں عیدِ قرباں پر شہر بھر میں قربانی کے لیے پیشہ ور قصابوں کی شدید قلت پیش آتی ہے۔

جسے دور کرنے کے لیے شہر کے پلمبر، پینٹر، موٹرمکینک، رکشا وٹیکسی ڈرائیور اور سبزی اور پھل فروخت کرنے والے افراد بھی قصابوں کا بھیس بناکر دیہاڑیاں لگاتے ہیں، اندرون سندھ اور پنجاب سے موسمی قصابوں کے ٹولے کراچی پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے ان جانوروں کے مالکان سے رابطے کرکے اپنی بکنگ شروع کردی ہے۔



پیشہ ور قصابوں نے پہلے روز گائے بچھیا کی کٹائی کے نرخ 7 سے 8 ہزار جبکہ دوسرے روز کے 5 اور تیسرے روز کے نرخ 3 ہزار روپے تک مقرر کئے ہیں۔ اس کے برعکس موسمی قصاب 50فیصد کم نرخ پر جانور ذبح کرنے پر تیار ہیں۔

شہر کے مختلف مقامات پر چھری اور چاقو تیز کرنے کے عارضی اسٹال لگ گئے ہیں جبکہ سال کے 12ماہ دھار کا کام کرنے والی دکانوں پر قطاریں لگی ہوئی ہیں، پیشہ ور قصاب اپنے ''اوزار'' پتھر کی سرخ سل سے تیز کرتے ہیں اس کے برعکس شہر کے مختلف مقامات پر لگائے گئے گرینڈرز سے لوہے کو گھس کر دھار لگائی جارہی ہے، قصابوں کے مطابق سرخ پتھر کی سل سے تیز کیے گئے اوزاروں کی کاٹ گرینڈر کی دھار سے کہیں زیادہ تیز ہوتی ہے، شہر میں قربانی کے گوشت کی تکہ بوٹی، شیخ کباب، گولہ بوٹی، کڑھائی گوشت اور روسٹ بنانے کے لیے بھی جگہ جگہ پر اس کا اہتمام کردیا گیا ہے۔