تیزگام ایکسپریس کا ہولناک سانحہ

تیزگام ایکسپریس کا سانحہ بلاشبہ قوم کے لیے انتہائی صدمہ اور دل خراشی کا باعث بنا ہے


Editorial November 01, 2019
تیزگام ایکسپریس کا سانحہ بلاشبہ قوم کے لیے انتہائی صدمہ اور دل خراشی کا باعث بنا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

کراچی سے پشاور جانے والی تیزگام ایکسپریس میں ہولناک آتشزدگی سے 73مسافر جاں بحق، بیشتر بدنصیب زندہ جل گئے، 60 سے زائد زخمی، ٹرین کی 3 بوگیاں جل کر خاکستر ہوگئیں، لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگاتے رہے 53لاشیں ناقابل شناخت رہیں،زخمی ہونے والے مسافروں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا، ٹرینوں کی آمدورفت گھنٹوں معطل رہی، تیزگام ٹرین میں آتشزدگی کا مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ مقدمہ گارڈ محمد سعیدکی مدعیت میں تھانہ ریلوے پولیس خانپور میں نامعلوم افرادکے خلاف دفعہ 126ریلوے ایکٹ، 427,436 کے تحت درج کیاگیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ کی وجہ گیس سلنڈر کا پھٹنا قرار دیا گیا ہے۔

تیزگام ایکسپریس کا سانحہ بلاشبہ قوم کے لیے انتہائی صدمہ اور دل خراشی کا باعث بنا ہے، علی الصبح ہونے والے اس سانحہ کی متضاد تاویلیں اپنی جگہ مگر جس ہولناک طریقے سے آگ لگی اور اس نے جس تیزی سے تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اسے بھولنا آسان نہیں ہوگا، ماضی کے سانگی اسٹیشن کے سانحہ کے بعد یہ درد انگیز خبر تھی جو قوم کے اعصاب جھنجھوڑ گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیر ریلوے شیخ رشید کو فون کرکے تحقیقاتی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت کی، شیخ رشید نے کہا کہ ہماری کوتاہی ہے کہ مسافر ٹرین پر چولہے لے جانے میں کامیاب ہوگئے، دریں اثنا چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹونے انکوائری تک شیخ رشید کی برطرفی کا مطالبہ کیا، دیگر سیاستدانوں نے کہا کہ صرف سیلنڈروں سے اتنی بڑی آگ ممکن نہیں ،اس میں تخریب کاری کے امکانات بھی رد نہیں کیے جاسکتے۔

بہر حال تحقیقاتی رپورٹ غیرجانبداری کے ساتھ جلد تیار کی جائے اور اس پر عملدرآمد کراکے ذمے داروں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع رحیم یارخان کی تحصیل لیاقت پورکے گاؤں چنی گوٹھ کے قریب تیزگام ایکسپریس میں جمعرات کو علی الصبح سوا چھ بجے کے قریب لاہورکے تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے جانے والے بوگی نمبر 3کے مسافروں نے ناشتہ و چائے بنانے کے لیے سلنڈر جلایا تو، اسی دوران گیس لیک ہونے کے باعث سلنڈر زورداردھماکے سے پھٹ گیا، جس سے بوگی میں آگ بھڑک اٹھی، آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے بوگی نمبرچار اور پانچ کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسافر جانیں بچانے کے لیے چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگاتے رہے جس کے نتیجے میں دس کے قریب افراد دم توڑگئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے ۔ ڈرائیور نے تنواری ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹرین کو روک کر ٹرین کو جلتی بوگیوں سے الگ کیا۔ تاہم ایک سو سے زیادہ مسافر ٹرین سے باہر نہ نکل سکے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوان تیزگام ٹرین حادثے کے مقام پر پہنچ گئے، آرمی ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ9شدید زخمیوںکو سی ایم ایچ ملتان ،11کوشیخ زیداسپتال جب کہ دیگر 20کو ایمبولینسزکے ذریعے رحیم یارخان اور بہاولپور ریفرکردیا گیا ہے۔ ادھر شیخ زیداسپتال سمیت تحصیل اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور چھٹیوں پر جانے والے ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کو طلب کرلیا گیا۔

ڈی سی رحیم یارخان اور ڈی پی او نے بتایا کہ متاثرین میں تبلیغی جماعت کا ایک وفد بھی شامل تھا جولاہورمیں ہونے والے اجتماع کے لیے سفر کر رہا تھا۔ مسافروں کے پاس ناشتے کا سامان اور مٹی کے تیل کے چولہے اور گیس سلنڈرتھے جن کے پھٹنے سے آگ لگی'انھوں نے بتایاکہ آگ پرقابو پا لیاگیا ہے اورتین بوگیاں متاثر ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں میڈیکل رپورٹ میں متعدد افراد کی ہڈیاں ٹوٹی پائی گئی ہیں،ان میں سے دس افراد آگ لگنے کے بعد چلتی ٹرین سے کودنے پر جاں بحق ہوئے ، ریسکیو 1122کے مطابق جھلسنے والے 53افراد کی لاشیں''ناقابل شناخت''جب کہ 13کے قریب شناخت کے قابل ہیں۔

حادثہ کے نتیجہ میں دونوں ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت گھنٹوں معطل رہی جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ٹریک کلئیر ہونے کے بعد تمام ٹرینوں بشمول تیزگام ایکسپریس کو اپنی اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ کر دیاگیا۔ تیزگام ٹرین میں آتشزدگی کا مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ مقدمہ گارڈ محمد سعیدکی مدعیت میں تھانہ ریلوے پولیس خانپور میں نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ 126ریلوے ایکٹ، 427,436 کے تحت درج کیاگیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ کی وجہ گیس سلنڈر کا پھٹنا قرار دیا گیا ہے۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ریلوے حادثات پر اظہار رنج وغم کا سیاق وسباق ابھی تک نہیں بدلا، حادثہ ہوا ہے، اور اس میں ریلولے حکام اور متعلقہ عملے کی کوتاہی کے باعث چولہے کے استعمال سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک بڑے احساس زیاں کا سبب بننا چاہیے، روایتی تحقیقاتی رپورٹ سے ماورا اقدامات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور ورثا کی فوری مالی امداد اور زخمیوں کی نگہداشت میں کسی قسم کا تساہل نہ برتا جائے،اور فوری طور پر زخمیوں کو اسپتال کے برنس وارڈ شفٹ کرکے ان کے علاج کے لیے ہنگامی انتظامات ہونے چاہئیں۔

مقبول خبریں