ناجائز مراعات یافتہ صحافی کا خط


Saad Ulllah Jaan Baraq July 07, 2012
[email protected]

پچھلے دنوں ہم نے کے پی کے (خدا پہنچائے خیر) صوبے کے ایک صحافی سے متعلق کچھ تفصیلات بیان کی تھیں کہ کس طرح صوبے کی حکومت نے اسے ناجائز مراعات اور بخششیات دی ہوئی ہیں، دراصل ہمارا مقصد نہ حکومت کے اجلے دامن پر سفید داغ لگانے کا تھا اور نہ ہی اس ناجائز مراعات یافتہ صحافی سے کوئی پُرخاش تھی بلکہ ثابت ہم یہ کرنا چاہتے تھے کہ دوسرے صوبوں اور شہروں کے صحافی اور اینکر پرسن ہمیں اتنا بھی نالائق نہ سمجھیں، ہمارے ہاں بھی وہی ہوائیں چلتی ہیں جو تمہارے ہاں چلتی ہیں اور ''جو جو'' تم کر سکتے ہو ''وہ وہ'' ہم بھی کر سکتے ہیں، لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ یہ حقائق نامہ اس صحافی کو اتنا برا لگے گا اور وہ اتنا زناٹے کا ''خط'' ہمیں لکھ مارے گا۔

لکھتا ہے ''یہ بات تو تیری صحیح ہے کہ حکومت کے پی کے نے مجھے کچھ پلاٹ، کچھ زمینیں اور کچھ نقدیات بخشی ہیں لیکن ہنوز دلی دور است، ایک کالونی میں مجھے جو پلاٹ تقریباً چھ کنال کا ملا ہے اس کا حدود اربعہ اس کالونی کے اوپر کوئی دس ہزار فٹ اوپر جا کر شروع ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ جو اصل شرط ہے وہ تم نے بتائی ہی نہیں، یہ پلاٹ ابھی صرف کاغذات میں میرے نام ہوا ہے، قبضہ تب ملے گا جب میں اس دار فانی سے اپنی آخری سانس مکمل کر کے اوپر پرواز کروں گا۔ حکومت کی طرف سے ایسی کوئی شرط رکھی نہیں گئی ہے، میں اب بھی جا کر وہاں رہائش اختیار کر سکتا ہوں لیکن دس ہزار فٹ سے لے کر نامعلوم بلندیوں تک میں جاؤں گا کیسے کیوں کہ ٹرانسپورٹیشن کی ذمے داری حکومت نے نہیں لی ہے، ظاہر ہے کہ میں موجودہ جسم و جان کے ساتھ تو وہاں پہنچ نہیں سکتا گویا اصل انتقال مع قبضہ میرے انتقال پرملال کے ساتھ ہو گا۔

یہ تو پلاٹ کا قصہ ہوا اور اس قبضے میں مزید ٹوسٹ پیدا کرنے کے لیے اس نے لکھا ہے کہ حکومت کے پی کے نے اس قسم کی غلط بخشیاں صرف مجھے نہیں کی ہیں بلکہ اور بھی بہت سارے ہیں جن کو اس مخصوص بلندی سے پرے جائیدادیں، پلاٹ، بنگلے اور لگژری اپارٹمنٹ دیے گئے ہیں، مثلاً اجمل خٹک، قلندر مومند، ولی محمد طوفان، میر مہدی شاہ مہدی وغیرہ کو تو بنے بنائے لگژری بنگلے ملے ہیں، اجمل خٹک کے بنگلے میں ستّر کمرے ہیں اور ہر کمرہ ستّر میل کا ہے چنانچہ اجمل خٹک اس میں چلنے پھرنے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں جو مع پائلٹ کے سرکاری طور پر ملا ہوا ہے، ان بنگلوں میں ملازمین کی تعداد اتنی ہے کہ حورو غلمان کی ٹیمیں اکثر شام کو آپس میں کرکٹ، ٹینس اور والی بال وغیرہ کے میچ کھلتی ہیں،

اپنی مزروعہ زمینوں اور جاگیروں کے بارے میں بتاتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ بے شک مجھے صوبہ کے پی کے کے سارے دریاؤں اور پہاڑوں کے نیچے والی ساری زمین الاٹ ہوئی ہے جس میں اٹک پل کے سامنے والے دریائے سندھ اور دریائے کابل کے سنگم والی وسیع زمین بھی شامل ہے اور تربیلہ ورسک وغیرہ کی جھیلوں کے نیچے والی زمین بھی ہے، اور پہاڑ تو قراقرم سے لے کر بلوچستان تک سب کے سب میری ہی جائیداد پر کھڑے ہیں لیکن یہاں بھی مسئلہ قبضے کا ہے، میں کئی کئی بار ان دریاؤں اور پہاڑوں کے پاس گیا ہوں، انفرادی طور پر نہ مانے تو جرگے بھی لے کر گیا لیکن خدا کے لیے یہ زمین جس پر تم لیٹے ہو میری ہے کاغذات بھی دکھائے،

لیکن وہ قہقہے مار کر میرا مذاق اڑاتے ہیں کہ میاں دعویٰ جھوٹا اور قبضہ سچا ہوتا ہے، لے سکتے ہو تو ہمارے نیچے سے زمین کھنیچ کر لے لو، پوری سے آدھی پر بھی میں نے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی کہ چلو تھوڑا تھوڑا سا ہی ہٹ کر تھوڑی سی زمین مجھے دو، باقی سب پر لیٹے رہو لیکن یہ بھی نہیں مانے، اب تم ہی بتائو میرے نام ہزاروں ایکڑ کی زمین الاٹ بھی ہے تو مجھے کیا فائدہ، حکومت سے کئی مرتبہ داد رسی کی درخواستیں کیں لیکن وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرنے لگتے ہیں کہ میاں ہمیں تو معاف ہی کر دو، ان پہاڑوں اور دریاؤں کا غصہ ہم ایک دو مرتبہ سیلابوں اور زلزلوں کی صورت میں دیکھ چکے ہیں، تو جانے اور تیرا قبضہ

یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا

تم اپنا راستہ خود ہی بدل سکو تو چلو

تو میاں یہ کچھ ملا ہے مجھے اگر چاہو تو تم بھی آجائو ابھی پکا انگوٹھا لگا کر آدھا حصہ دینے کو تیار ہوں اور ہاں اس میں کنگال بینک میں میرے اکاؤنٹ کا بھی ذکر کیا ہے اور اس میں چار سو صفروں پر مشتمل رقومات کا قصہ بھی بیان کیا ہے بے شک یہ بھی درست ہے میرا اکاؤنٹ اتنے ہی صفروں پر مشتمل ہے بلکہ مجھے اختیار ہے کہ آٹھ دس صفر اور بھی بڑھا سکتا ہوں لیکن اصل قصہ بھی تو سن لو

لیجیے سنئے اب افسانہ فرقت مجھ سے

آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا

ابتداء میں جب اس چار سو صفری اکاؤنٹ کا پتہ مجھے چلا تو مجھے شادی مرگ ہوتے ہوتے بچا بلکہ تم سے کیا پردہ اس خوشی میں جو کچھ اندوختہ میرے پاس تھا وہ بھی لٹا دیا کیوں کہ اس وقت صفر نہیں تھے بلکہ آخر میں ایک (9) بھی لکھا ہوا تھا جسے میں ہندسہ سمجھ بیٹھا لیکن ہائے وائے کہ یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔ جسے سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی، بینک جا کر اصل کاغذات دیکھے تو وہ (9) ہندسہ نہیں تھا بلکہ انگریزی کا حروف NO تھا

ہے کیا جو کس کے باندھیے میری بلا ڈرے

کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں

کسی کلرک نے چار سو صفر لگانے کے بعد (شاید تھک کر) انگریزی کا لفظ (NO) لکھنے کے بجائے (9) کا ہندسہ ڈال دیا تھا، دنیا جانتی ہے کہ بینک میں صرف وہی تشریح مانی جاتی ہے جو بینک والے کرتے ہیں، کنزیومر اور کسٹمر کو صرف اس کے نام کا آخری حصہ ''مر'' یاد رہ جاتا ہے گو یاں یہاں بھی سلسلہ اسی نامراد ''مر'' سے جڑا ہوا تھا۔ ساری بحث کا آخری نتیجہ یہ نکلا کہ صفروں کے بعد جو (9) لکھا ہوا تھا اس کی تصحیح کر کے (NO) کو پکا کر دیا گیا اور میرا اکاؤنٹ اب چار سو صفروں کے بعد (NO) پر مشتمل ہے اور اس (NO) کی دم کنزومر و کسٹمر کی سانس سے جڑی ہے

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی اپنا ''اکاؤنٹ'' پائے کیوں

آخر میں اس دل جلے صحافی نے غصے میں آ کر لکھا ہے کہ یہ جو کچھ مجھے دیا گیا ہے خدا تیرا نصیبہ کرے میری طرف سے پکے کاغذات پر اجازت ہے کہ یہ سب کچھ تم لے لو،

یہ ''دولت'' بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی

مگر مجھ کو لوٹا دو ''کاغذ'' کی ''کرنسی''وہ جیون کا پانی

آپ سے کیا پردہ، ہمیں بہت کچھ خجالت محسوس ہو رہی ہے کہ ہم نے خواہ مخواہ اس بے چارے ''مرے'' پر سو ''درے'' لگائے وہ تو ہم سے بھی زیادہ کشتہ تیغ ستم نکلا، ہم سے بھول ہوئی ہم کا معافی دئی دییو، واقعی ہم بڑے بڑے شہروں کے بڑے بڑے ''ان'' کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔