ہم کہاں کھڑے ہیں
کسی بھی بڑے یا سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے اس کی سنگینی کا ادراک ضروری ہوتا ہے۔
کسی بھی بڑے یا سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے اس کی سنگینی کا ادراک ضروری ہوتا ہے، اس کے بعد ایسی منصوبہ بندی ایسا اتحاد ایسی حکمت عملی ضروری ہوتی ہے جو سنگین مسائل سے کامیابی کے ساتھ نمٹ سکے۔ ویسے تو پورا پاکستان ہی سنگین ترین مسائل کی آماج گاہ بنا ہوا ہے لیکن اس حوالے سے کراچی کی صورت حال اس لیے زیادہ خطرناک بنی ہوئی ہے کہ کراچی پورے ملک کی معیشت کا مرکز ہے۔ لیاری کے خراب حالات کا اثر پورے ملک کی معاشی سماجی اور سیاسی زندگی پر پڑتا ہے غالباً اسی سنگینی کے احساس نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم کو مجبور کردیا تھا کہ وہ کراچی کے مسئلے کو حل کرنے میں صوبائی حکومت کی مدد کریں۔
ستمبر کے مہینے میں بلائی جانے والی اے پی سی اسی سلسلے کی کڑی تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ جب ملک کی سالمیت کو ہی خطرہ لاحق ہوجائے تو ایک وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس قسم کے سنگین مسائل کے حل کی ذمے داری بنیادی طور پر حکمراں جماعت پر عائد ہوتی ہے۔ کراچی میں منعقد ہونے والی اے پی سی میں اس بات پر تو اتفاق کیا گیا کہ کراچی اور ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن اس بات کو غالباً زیادہ اہمیت نہیں دی گئی کہ ملک کو جو خطرات لاحق ہیں ان سے نمٹنے کے لیے، سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔ کیا آج ملک میں سیاسی اتفاق رائے موجود ہے؟ اس سوال پر سیاستدانوں کو خلوص نیت اور ایمانداری سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک کو جو خطرات لاحق ہیں کیا وہ کسی گروہ کے ساتھ ہونے والی کسی ناانصافی کا نتیجہ ہیں یا ان کی نوعیت ملکی سالمیت اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے جیسی ہے یہ جاننا اور سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ آئین کی روشنی میں سیاسی اور قومی اتحاد کی ضرورت یا عدم ضرورت کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم اس تفصیل میں گئے بغیر صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ملک کو جو خطرات لاحق ہیں وہ کسی حق تلفی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایسے حق کا مطالبہ ہے جسے کوئی حکومت نہیں مان سکتی۔ جب اس قسم کے خطرے کا احساس تمام سیاسی جماعتوں کو ہوتا ہے تو ملک سے ان کی محبت کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو دریا برد کرکے ایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں جس سے یہ خطرات ٹکرا کر پاش پاش ہوجائیں اور یہ بالکل ممکن ہے بشرطیکہ ملک کو بچانے پر ساری سیاسی طاقتیں متفق ہوجائیں لیکن اسے ہم اپنی بدقسمتی کہیں یا اس ملک و قوم کی بدقسمتی کہیں کہ ملک و قوم کو درپیش اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ ہمارے درمیان سیاسی اتفاق رائے موجود ہے نہ عوام میں وہ یکجہتی نظر آتی ہے جو اس قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔
اس کے برخلاف ہر طرف سیاسی مفادات اور نظریاتی انتشار کی بھرمار نظر آتی ہے۔ ہوسکتا ہے بعض طاقتیں بوجوہ اس حوالے سے نظریاتی تحفظات رکھتی ہوں لیکن ہم ان محترمین کی خدمت میں بڑے ادب سے یہ کہنے کی جسارت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر انسان زندہ ہے تو پھر نظریاتی یا سیاسی اختلافات کی کوئی اہمیت ہوتی ہے ملک باقی ہے تو نظریاتی اور سیاسی اختلافات کی گنجائش ہوتی ہے لیکن اگر انسان اور ملک ہی باقی نہ رہیں تو سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو ایک بدترین حماقت کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے؟
ان خطرات کے حوالے سے ہم نے کراچی کی اہمیت واضح کردی ہے اور اس اہمیت سے ملک کا ہر سیاستدان واقف بھی ہے لیکن کراچی کو ان سنگین خطرات سے بچانے کے لیے جس اتحاد اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے اس کا دور دور تک پتہ نہیں چلتا۔ اس کے برخلاف سیاسی اختلافات کی سنگینی کا عالم یہ ہے کہ یہ اختلافات فیوڈل دشمنی سے زیادہ بدتر نظر آرہے ہیں۔ سندھ غلط یا صحیح دو حصوں میں بٹا ہوا ہے ایک شہری سندھ دوسرا دیہی سندھ یہ تقسیم کیوں عمل میں آئی اس پر بات کرنے کا نہ یہ موقع ہے نہ اس سے کسی فائدے کی امید ہے اس حوالے سے اصل پریشانی یہ ہے کہ شہری اور دیہی سندھ دانستہ یا دانستہ کراچی کو لاحق خطرات کو پس پشت ڈال کر سیاسی دوستیوں، سیاسی دشمنیوں میں گھر گئے ہیں۔ اس حماقت کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ کراچی کو لاحق خطرہ نہ صرف شدید ہورہا ہے بلکہ اس قدر مستحکم ہورہا ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی سیاسی اتحاد اور عوامی یکجہتی بھی شاید اس کا مقابلہ نہ کرسکے۔
یہ بڑا المیہ ہے کہ دیگر ملکوں کو اگر اس قسم کے خطرات لاحق ہوں تو نہ صرف سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی اختلافات اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ایک مرکز پر جمع ہوجاتی ہیں بلکہ عوام میں یکجہتی پیدا کرکے اس قسم کے خطرات کامقابلہ کرتی ہیں، لیکن پاکستان سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان کی صورت حال پر نظر ڈالیں تو اتفاق رائے اور قومی یکجہتی کے بجائے ہر جگہ اختلاف رائے اور مفاد پرستی کی قابل مذمت صورت حال ہی نظر آتی ہے۔ غالباً اسی پس منظر میں اے پی سی نے ایسے فیصلے کیے ہیں جو کسی آزاد خود مختار ملک اور کسی باوقار قوم کے شایان شان نہیں کہلاسکتے۔ اس شکست خوردہ ذہنیت کی وجہ سے ملک کی سالمیت عوام کے مستقبل کو لاحق خطرات اور زیادہ سنگین ہوتے جارہے ہیں۔
اس سنگین ترین صورت حال سے نکلنے کے لیے جو فلسفے گھڑے جارہے ہیں ان کے مطابق ''ہر جنگ کا فیصلہ آخر کار مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے'' اس منطق پر بحث کیے بغیر ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ''جنگ کا فیصلہ مذاکرات کی میز پر کرنے میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟''اے پی سی کے شرکاء بھی یہی سوال کر رہے ہیں لیکن یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ مذاکرات کا مینڈیٹ حاصل کرنے والے مذاکرات کیوں شروع نہیں کر پارہے ہیں؟ملک کے بے چین اور خوفزدہ عوام مذاکرات کے نتیجے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں یہ جنگ اگرچہ پاکستان کے شہروں میں لڑی جارہی ہے لیکن یہ ہماری جنگ نہیں ہے یہ امریکا کی جنگ ہے اس موقف کے حامیوں سے عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ آپ اس امریکی جنگ سے پاکستان کو کیوں نہیں نکال رہے ہیں؟
جو خطرہ اس وقت ملک و قوم کے سامنے کھڑا ہوا ہے اس کی نوعیت اس قدر سنگین ہے کہ خود مذہبی جماعتیں اس کی نوعیت پر نوحہ کناں ہیں۔ اس حوالے سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب بھی بعض طبقے یا تو ان خطرات کی سنگینی کو سمجھنا نہیں چاہتے یا سمجھ رہے ہیں تو اس کی مخالفت اس لیے نہیں کرنا چاہتے کہ ان خطرات سے یہ حلقے ذہنی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ بات صرف ملکی اقتدار یا ملکی سالمیت کی نہیں ہے بلکہ خطرہ یہ ہے کہ انسانوں نے ہزاروں سالوں کے ارتقائی سفر کے بعد جو انسانی تہذیب تشکیل دی ہے یہ طوفان اس تہذیب ہی کو اڑا لے جانا چاہتا ہے اس حوالے سے یہ خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہ جاتا بلکہ اس کی نوعیت عالمی ہوجاتی ہے۔ ہمارے بعض پڑوسی ملک اس خطرے کی نوعیت کو پس پشت ڈالتے ہوئے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر پاکستانی حکومت پر یہ الزامات لگا رہے ہیں کہ وہ اس خطرے کا ذمے دار ہے اور اس کی پرورش بھی کر رہا ہے۔ ہوسکتا ہے ماضی میں پاکستان کی بعض بالادست قوتوں نے اس نوعیت کی غلطیاں کی ہوں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں اور دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ ان قوتوں کو ان کی ممکنہ غلطیوں کا بہت بڑا معاوضہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ملک کے 50 ہزار سے زیادہ بے گناہ عوام بھی اس خطرے کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔
صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ جماعتیں جو کل تک مذاکرات کی مخالفت کر رہی تھیں آج مذاکرات پر اصرار کر رہی ہیں اس فکری تبدیلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں اور پاکستان کس قسم کی سنگین صورت حال سے دوچار ہے۔ کیا اب بھی سیاستدانوں میں اتفاق رائے ضروری نہیں؟