ملکی سطح پر توانائی کے وسائل اور ذرائع بڑھانا ہونگے سارک چیمبر

2 لاکھ میگاواٹ ہائیڈل بجلی کی استعداد کے باوجود 60ہزار میگاواٹ قلت کا سامنا ہے


Business Reporter October 19, 2013
افتخار علی ملک نے کہا کہ تھرکول منصوبے سے پاکستان100 سال تک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اور ایف پی سی سی آئی میں برسر اقتدار بزنس مین پینل کے شریک چیئرمین افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ خطے میں2 لاکھ میگاواٹ ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کی استعداد کے باوجود 60ہزار میگاواٹ بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔

گزشتہ9سال میں توانائی کی طلب میں 17 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، ہمیں علاقائی اور ملکی سطح پر توانائی کے وسائل اور ذرائع بڑھانے ہوں گے، سارک ممالک کو اس شعبے میں باہمی تعاون بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں توانائی کا بحران شدید ہے لیکن حکومت اس بحران پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور قوی امید ہے کہ ملک میں جلد ہی توانائی کا بحران دور ہوگا، اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ماحول دوست جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ملک میں بجلی اور گیس کا بحران دور ہوسکے اور انڈسٹری اپنی اصل پیداواری قوت پر چل سکے۔افتخار علی ملک نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مشترکہ اقدامات کریں۔



ترقی کے راستے پر گامزن ممالک کو اپنی معیشت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ماحول پر اثرات کا بھی نوٹس لینا چاہیے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ حکومت نے بجلی بنانے کے بند منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کیلیے جو انقلابی کام شروع کیے ہیں اگر ان منصوبوں کو تیز رفتاری کے ساتھ مکمل کیا جائے تو بجلی کی قلت اور لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ افتخار علی ملک نے مزید کہا کہ تھرکول منصوبے سے پاکستان100 سال تک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرسکتا ہے، اس لیے اس منصوبے پر فوری کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں کہا ہے کہ تیل و فرنس آئل کی مد میں اس سے سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے خطے کو قدرتی آفات کا سامنا ہے، ترقی کے راستے پر گامزن ممالک کو اپنی معیشت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ماحول پر اثرات کا بھی نوٹس لینا چاہیے۔