فلاحی اداروں اورچمڑاانڈسٹری میں کھالوں کے ایڈوانس سودے

12ارب روپے سے زائد مالیت کی قربانی کی کھالیں جمع کی گئیں، نرخ ایک ہزار روپے بڑھ گئے


INP October 19, 2013
عید پر قربان کیے گئے جانوروں کی کھالوں کی مالیت کا اندازہ 12ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ فوٹو: آئی این پی

کراچی سمیت ملک بھر میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے والے سماجی اور فلاحی اداروں کی جانب سے چمڑا انڈسٹری سے کھالوں کی فروخت کے ایڈوانس سودے طے پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

عید پر قربان کیے گئے جانوروں کی کھالوں کی مالیت کا اندازہ 12ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر سے گائے کی 20سے 25لاکھ، بکرے کی 34سے 35لاکھ کھالیں اور دنبوں کی 10لاکھ سے زائد کھالیں جمع ہوئی ہیں، لیدر انڈسٹری کے پاس بھرپور برآمدی آرڈرز ہونے اور روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے گائے کی کھال کے نرخ میں ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلسل تیسرے سال کراچی میں ٹینرز ایسوسی ایشن نے کھالوں کی خریداری کے لیے بڈنگ نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔



کھالوں کی خریداری ہر ٹینری انفرادی سطح پر کریگی، ملک بھر میں قربانی کی کھالوں کی مالیت کا اندازہ 12ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے، رواں سال لیدر انڈسٹری کے پاس بھرپور برآمدی آرڈرز ہونے اور روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے گائے کی کھال کے نرخ میں ایک ہزار روپے کا اضافہ دیکھا جارہا ہے، ٹینرز انڈسٹری کے سابق چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر گلزار فیروز کے مطابق ملک بھر میں گائے کی 20سے 25لاکھ کھالیں۔بکرے کی 34سے 35لاکھ کھالیں اور دنبوں کی 10لاکھ سے زائد کھالیں جمع ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

عیدِ قرباں پر حاصل ہونے والی کھالیں چمڑہ سازی کی سالانہ 25سے 30فیصد طلب پوری کرتی ہیں، باقی طلب سال بھر ذبح ہونے والے مویشیوں کی کھالوں سے پوری کی جاتی ہے، اس سال عیدِ قرباں پر گائے بیل کی 8سے 9ارب روپے کی کھالیں حاصل ہوں گی، اسی طرح بکروں کی کھالوں کا ملک گیر تخمینہ 2.5سے 3ارب روپے جبکہ دنبوں کی کھالوں کا تخمینہ 50کروڑ روپے تک لگایا گیا ہے، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے سینئر رکن امان آفتاب نے بتایا کہ ملک بھر میں جمع ہونے والی کھالوں میں سے کراچی کا حصہ 30سے 35فیصد ہے، اس لحاظ سے کراچی میں جمع ہونے والی کھالوں کی مالیت کا اندازہ 4سے 5ارب روپے لگایا گیا ہے۔