لوڈشیڈنگ اورٹیکسوں کیخلاف تاجروں کا احتجاجی تحریک کا اعلان

کراچی میں تجارت کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ختم کیا جارہا ہے، سندھ تاجر اتحاد


Business Reporter October 20, 2013
جمیل پراچہ کے مطابق کراچی کے بازاروں میں 12گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول ہے جس کی وجہ سے دکاندار دن بھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے پر مجبور ہیں۔ فوٹو: فائل

سندھ تاجر اتحاد نے طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، بجلی کے نرخ میں اضافے اور ٹیکسوں کی بھرمار کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے اعلان کردیا ہے۔

سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل احمد پراچہ کے مطابق رینجرز کے آپریشن کے باعث کراچی کے تاجروں کو بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان جیسے سنگین مسائل سے کسی حد تک ریلیف ملا ہے تاہم بجلی کی طویل غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ، بجلی کے نرخ میں اضافے اور ٹیکسوں کی بھرمار تجارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔ جمیل پراچہ کے مطابق کراچی کے بازاروں میں 12گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول ہے جس کی وجہ سے دکاندار دن بھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے پر مجبور ہیں، دوسری جانب کارخانوں میں پیداواری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کے باوجود تاجروں کو اضافی بلوں کا بھی سامنا ہے اس پر ستم یہ کہ بجلی کے نرخ میں اضافہ کیا جارہا ہے تاجر برادری رواں ہفتے سے بجلی کے بحران لوڈشیڈنگ اور نرخ میں اضافے کے خلاف احتجاج کریگی۔



انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس قوانین جنہیں تاجر کالے قوانین سمجھتے ہیں تاجر طبقے کی کمر توڑنے اور رہی سہی معیشت برباد کرنے کے لیے مسلط کیے جارہے ہیں، جن میں ویلتھ ٹیکس کا نفاذ ٹرن اوور ٹیکس میں اضافے سمیت انکم ٹیکس کے دیگر مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجر ان حالات سے دلبرداشتہ ہوچکے ہیں اور اپنی جمع پونجی اور دکانیں اوپنے پونے داموں فروخت کرکے ملک سے باہر کاروبار منتقل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کراچی کی تجارت کو ختم کیا جارہا ہے اور تجارت دشمن فیصلے زبردستی مسلط کیے جارہے ہیں۔