2030تک8800 میگاواٹ ایٹمی بجلی پیداکرنے کامنصوبہ

34.6 ارب روپے کے اضافی اخراجات کے ساتھ حکومت نے تقریباً نصف کام مکمل کر لیا ہے


APP October 22, 2013
حکومت نے 660 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے بڑے منصوبوں پر 62.4 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن 2030 تک ایٹمی ری ایکٹروں کے ذریعے 8800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

چشمہ میں 340، 340 میگاواٹ کے ایٹمی بجلی گھر زیر تعمیر ہیں جو چین کی مدد سے 2016تک مکمل ہو جائیں گے، ایک معاہدے کے تحت ان ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر ممکن ہوئی جبکہ دیگر تعمیر شدہ 3 نیوکلیئر پاور پلانٹس تکمیل کے بعد بجلی کی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مالی سال 2013-14 کے لیے پی اے ای سی کا مختص بجٹ تقریباً 49ارب 51کروڑ 20لاکھ روپے ہے، حکومت نے 660 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے بڑے منصوبوں پر 62.4 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔



34.6 ارب روپے کے اضافی اخراجات کے ساتھ حکومت نے تقریباً نصف کام مکمل کر لیا ہے، 300 میگاواٹ کا چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ Iکندیاں پنجاب میں واقع ہے جس نے 2000میں پیداوار شروع کر دی، 300 میگاواٹ چشمہ کا دوسرا نیوکلیئر پاور پلانٹ II تھل دوآب میں واقع ہے جو چشمہ نیوکلیئر پاور کمپلیکس کا حصہ ہے، 28 اپریل 2009 کو چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری اور فور کے لیے جنرل انجینئرنگ اینڈ ڈیزائن کا معاہدہ شنگھائی نیوکلیئر انجینئرنگ ریسرچ اینڈ ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ طے پایا۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے حکام کے مطابق حکومت مختلف وزارتوں، محکموں اور ریسرچ سینٹرز کی ہم آہنگ کوششوں سے توانائی کونسل قائم کرے گی جو توانائی کے شعبے سے متعلق تحقیق و ترقی وسائل کے انتظام کی ذمے دار ہو گی۔