اوگرا کیس نیب کو چالان پیش کرنے کی ہدایت توقیر صادق نے سزا کو چیلنج کر دیا

رپورٹس ماہرین کے پاس ہیں،4ہفتے کاوقت درکارہے،نیب افسر،چالان میں سابق وزرائے اعظم کی شمولیت کاامکان


News Agencies/Monitoring Desk October 22, 2013
چالان میں کاروباری،اعلیٰ سرکاری وسیاسی شخصیات کے نام ملزموں کی فہرست میں شامل کیے جائیں گے۔فوٹو: آئی این پی/فائل

احتساب عدالت اسلام آبادنے نیب کوآئندہ سماعت پراوگراکرپشن کیس کاچالان پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

پیرکواوگراکرپشن کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمدبشیرنے کی سابق چیئرمین اوگراتوقیرصادق کوعدالت پیش کیاگیاملزم توقیرصادق کوانتہائی سخت سیکیورٹی میں عدالت لایاگیا۔این این آئی کے مطابق نیب تفتیشی افسرمحمدوقاص نے دوران سماعت عدالت کوحتمی چالان سے متعلق آگاہ کیااوربتایاکہ نیب کی جانب سے اوگرا کرپشن کیس کاحتمی چالان نومبرکے پہلے ہفتے تک مکمل کرلیاجائے گا۔چالان میں20سے زائد گواہوں کوشامل کیاگیاہے،حتمی چالان میں دوسابق وزرائے اعظم کانام بھی شامل کیے جانے کاامکان ہے۔

ذرائع کے مطابق چالان میں کاروباری،اعلیٰ سرکاری وسیاسی شخصیات کے نام ملزموں کی فہرست میں شامل کیے جائیں گے۔عدالت نے نیب کوآئندہ سماعت پر مقدمے کاچالان پیش کرنے کی ہدایت کی جس پرتفتیشی افسر وقاص خان نے موقف اختیارکیاکہ کچھ رپورٹس تصدیق کیلیے ماہرین کے پاس بھجوائی ہیں،رپورٹس آنے کے بعدچالان مرتب کیاجائے گا،چالان کیلیے چیئرمین نیب کی منظوری بھی ضروری ہے، تفتیشی افسر نے کہاکہ حتمی چالان کیلیے3سے 4ہفتے کاوقت درکارہے۔



عدالت نے واضح کیاکہ چالان 14 روزمیں پیش کرناضروری ہے۔اوگرا کرپشن کی سماعت 4 نومبر تک ملتوی کردی۔دوسری جانب توقیرصادق نے غیرحاضری پر 3 سال کی سزاکیخلاف درخواست عدالت میں دائرکردی جس میںموقف اختیارکیاگیاہے کہ نیب نے عدالت سے جھوٹ اورغلط بیانی سے کام لے کرانھیں سزادلوائی۔احتساب عدالت نے توقیرصادق کی درخواست پرنیب سے جواب طلب کر لیا ۔ آئی این پی کے مطابق احتساب عدالت نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈمیں مزید14روز کی توسیع کر دی ، ملزم نے عدالت سے استدعاکی کہ اسے انکوائری رپورٹ اور تحقیقاتی رپورٹ کی کاپیاں فراہم کی جائیں۔

جس پرعدالت نے ملزم کوکاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت کی،عدالت نے توقیرصادق کی عدم موجودگی میں نیب کی طرف سے دلوائی جانے والی3سالہ سزا کے خلاف درخواست دائرکوسماعت کیلیے منظورکرلیا،پیرکوملزم کوجب پیشی کے کمرہ عدالت لایاگیاتواس نے جسٹس محمد بشیرسے کہا کہ عدالت نے صرف ایک ہاتھ میں ہتھکڑی لگانے کاحکم دیاتھا مگر عدالتی حکم کے باوجودپولیس نے میرے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگائی ہیں جس پرعدالت نے ایک ہاتھ سے ہتھکڑی کھولنے کاحکم دیا،پولیس نے کمرہ عدالت میں ہی توقیرصادق کے ایک ہاتھ سے ہتھکڑی کھول دی۔