ہماری عالمی تنہائی اور وزیر اعظم کا دورۂ امریکا
یہ سطریں جب آپ کی نظروں سے گزریں گی اس وقت تک وزیر اعظم کا دورۂ امریکا اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہوگا۔
یہ سطریں جب آپ کی نظروں سے گزریں گی اس وقت تک وزیر اعظم کا دورۂ امریکا اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہوگا۔ میاںصاحب کا یہ دورہ ایک ایسے مشکل وقت میں ہوا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر شدید تنہائی کا شکار ہے۔ اس تنہائی کا آغاز سرد جنگ کے آخری دور میں ہماری جہادی سرگرمیوں سے ہوا۔ سرد جنگ میں ہم امریکا کے حلیف بنے، سوویت یونین کے خلاف امریکی جہاد میں فرنٹ لائن ریاست بن کر امریکی مفادات کی آبیاری کی، دنیا بھر کے 'نام نہاد' جہادیوں کو پاکستان بلایا، انھیں تربیت دے کر افغانستان روانہ کیا ، امریکا نے 'جہاد' کے موضوع پر جو کتابیں اورکتابچے تیار کیے تھے، ان کے مختلف زبانوں میں ترجمے کرکے لوگوں میں پھیلایا گیااور انھیں افغانستان میں اس وقت کے سوویت یونین کے خلاف 'جہاد فی سبیل اللہ' کے لیے راغب کیا گیا۔ افغانستان سے سوویت یونین واپس چلا گیا لیکن اس کے جانے کے بعد' جہادیوں' نے ایک دوسرے کے خلاف 'جہاد فی سبیل اللہ' شروع کردیا۔
امریکانے ''کام'' نکل جانے کے بعدان جہادیوں سے منہ موڑا تو ہم نے طالبان کے ذریعے جہادیوں کی خانہ جنگی کا خاتمہ کیا اور وہ ہماری مددسے افغانستان پر قابض ہوگئے۔ اس طرح مسلم دنیا میں ایران کے بعد ایک دوسری مذہبی ریاست قائم ہوئی، جس سے القاعدہ نے روابط بڑھائے اور 9/11 کا واقعہ رونما ہوا ۔امریکا نے اقوام متحدہ کی اجازت سے جس میں ہماری تائید بھی شامل تھی افغانستان پر حملہ کردیا۔ جنرل پرویز مشرف نے جنگ میں عملی شرکت کا فیصلہ کیا ۔یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس جنگ کا دائرہ افغانستان سے پھیل کر پاکستان تک وسیع ہوگیا۔ وقت کے ساتھ اس جنگ میں شدت آتی گئی۔ امریکا نے افغانستان کے اندر طالبان کی قوت کو محدود کردیا لیکن پاکستان ایسا کرنے میں ناکام رہا اور دہشت گردی کی کارروائیاں ملک بھرمیں پھیل گئیں۔ محتاط اندازے کے مطابق اس جنگ میں اب تک 40 ہزار پاکستانی شہری اور تقریباً ساڑھے تین ہزار فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ وہ نقصان ہے جو ہندوستان سے ہونے والی تمام چھوٹی بڑی جنگوں اور جھڑپوں کے مجموعی نقصان سے کئی گنا زیادہ ہے۔
اس وقت حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں مرنے والے بھی مسلمان ہیں اور مارنے والے بھی مسلمان ۔اکیسویں صدی کے آغاز میں مسلمانوں پر یہ ایک نئی آفت نازل ہوئی جس میں امریکا کی مالی مدد، سیاسی، انتظامی اور فوجی تعاون سے افغان جہاد کی جو فصل کاشت کی گئی تھی اس نے ایسے جہادی پیدا کیے جنھوںنے نہ صرف افغانستان بلکہ روس، چین، امریکا، ہندوستان، وسط ایشیا، افریقا اور پاکستان میں اپنے پرائے کی تمیز کے بغیر بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنایا جو اس جنگ میں فریق ہی نہ تھے۔ نقصان سب کا ہوا لیکن سب سے زیادہ نقصان میں تین ملک رہے۔ پہلا افغانستان جہاں سوویت یونین کے خلاف امریکی معاونت اور سرپرستی میں جہاد کا آغاز ہوا تھا، دوسرا امریکا جس نے اس جہاد کی دامے، درمے اور سخنے بھرپور حمایت کی تھی اور تیسرا پاکستان جس کے فوجی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ملک کو اس ''جہاد'' کی بھیانک بھٹی کا ایندھن بنادیا۔ ہماری اس'' شاندار'' حکمت عملی سے ہمارے دوست ملک ناراض ہوئے اور وہ جو دوست نہیں تھے ان سے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں منافقت کا رویہ اپنایا گیا، امریکا سے تعاون کا وعدہ کیا گیا، اس کی بھرپور مدد بھی کی گئی لیکن ساتھ ہی طالبان سے بھی پس پردہ گہرے تعلقات رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر یہ الزام عائد ہوا کہ وہ دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی نے بد اعتمادی کو انتہا پر پہنچا دیا۔ عالمی سطح پر اتنی بڑی تنہائی سے پاکستان پہلے کبھی دوچار نہیں ہوا تھا۔
9/11 کے بعد بھی امریکا کئی برس تک پاکستان کی بھرپور فوجی اور مالی مدد کرتا رہا جس سے پاکستان کی معیشت کو عارضی فائدہ حاصل ہوا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد امریکا پر یہ عقدہ کھلا کہ جنرل مشرف اسے''ڈبل کراس'' کررہے ہیں۔ امریکا نے بار بار یہ بات کہی کہ افغانستان میں کارروائی کرنے والے پاکستان کے سرحدی علاقوں اور بعض شہروںکو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور حکومت ان سے صرف نظر کررہی ہے جب کہ بعض طاقتور حلقے ان کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ یہ حقیقت آشکار ہونے کے بعد امریکا نے متبادل حکمت عملی اپنائی۔ اس نے ڈرون حملوں میں اضافہ کیا اور پاکستان کو مالی امداد فراہم کرنے کا فراخدلانہ رویہ بتدریج کم اور پھرختم ہونے لگا ۔ اس صورتحال نے جنرل مشرف کے دور کی خوشحال معیشت کے ''بلبلے'' کو دیکھتے ہی دیکھتے فنا کردیا اور پاکستان میں اس معاشی بحران کا آغاز ہوگیا جس کی انتہا آج ہمیں نظر آرہی ہے۔
بدترین عالمی تنہائی اور معاشی مسائل کے تناظر میں جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کہ وہ پاکستان کے وسیع تر ''قومی مفاد'' میں جمہوریت پسند بن جائیں، انتخابات کروائیں اور اقتدار سول جمہوری حکومت کو منتقل کردیں تاکہ منتخب حکومت مسائل کی بھیانک دلدل میں پھنس جائے اور جمہوریت کی تضحیک کرکے عوام کو بار بار یہ بتایا جائے کہ ماضی کی فوجی حکومت، جمہوری حکومت سے کس قدر بہتر تھی۔
جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں نے مجبوری اور بے بسی کے عالم میں اقتدار منتخب حکومت کو سونپ دیا ، معاملات اس طرح طے کیے گئے کہ پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو چاروں طرف سے گھیر کر رکھا جائے تاکہ اس کو طے شدہ ''حدود'' سے تجاوز کرنے کی کسی بھی کوشش سے باز رکھا جاسکے۔ گزشتہ حکومت کو ان معاملات کا مکمل علم و ادراک تھا۔ ابتدائی دور میں اس نے اپنی ''حدود'' سے باہر نکلنے کی جرأت ضرور کی لیکن اس کے جو نتائج نکلے انھیں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ تلخ تجربے کے بعد گزشتہ حکومت نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ طاقت ور شراکت داروں سے براہ راست ٹکرانے کی بجائے پارلیمنٹ کو مضبوط بنایا جائے۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں کو مدد پر مائل کرکے پاکستان کو عالمی تنہائی سے باہر نکالا جائے تاکہ ملک کے اندر معاشی بحالی کا عمل شروع ہو اور جمہوری حکومت کو تقویت حاصل ہو۔ اس حکمت عملی کے تحت پیپلز پارٹی کی حکومت نے چین، ایران اور امریکا سے خصوصی طور پر تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کیں۔ تاہم، ایک کمزور مخلوط حکومت ہونے کی وجہ سے اس میں زیادہ پُر عزم اور جرأت مندانہ فیصلے کرنے کی قوت محدود تھی۔ بہرحال پیپلز پارٹی کی حکومت کی داخلی سیاسی حکمت عملی کامیاب رہی، اس نے اپنی آئینی معیادمکمل کرلی، جمہوی عمل کا تسلسل جاری رہا جس کی وجہ سے غیر جمہوری قوتوں کو پسپائی اختیارکرنی پڑی۔
آج نواز شریف کو بھی وہی مسائل درپیش ہیں جو گزشتہ حکومت کو آمریت سے ورثے میں ملے تھے۔ فرق اتنا ہے کہ ان مسائل کی سنگینی میں کہیں زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ عالمی تنہائی، معاشی بحران اور دہشت گردی۔ یہ تینوں مسئلے ایک دوسرے سے ایک عجیب و غریب انداز میں باہم پیوست ہیں۔ دہشت گردی پر قابو پائے بغیر عالمی تنہائی ختم نہیں ہوسکتی اور ان دونوں مسائل کے ختم ہوئے بغیر معاشی بحران کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ انھیں الگ الگ نہیں بلکہ ایک ساتھ ہی حل کیا جاسکتاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تینوں سنگین مسائل کے بارے میں عوام کوحقیقت بتائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان میں وہ ادارے جو طویل عرصے سے اقتدار کا سرچشمہ رہے ہیں اور اب بہ امر مجبوری جمہوری حکومت کے سامنے سرتسلیم ختم کرتے ہیں، ان پر یہ امر واضح کردینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔ دہشتگردی کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑ رہا ہے اور گزشتہ 10 برسوں میں ملک کو کم از کم 50 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ عالمی برادری پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان جس تنہائی کا شکار ہے اور دنیا کے اہم ممالک کو ہمارے بارے میں جو تحفظات ہیں ان پر بھی کھل کر بات کرنے اور عوام کواعتماد میں لینے کی وقت آگیا ہے۔
میاں نوازشریف پرامریکی صدر بل کلنٹن جس قدر اعتماد کرتے تھے اس کا اندازہ چند دنوں پہلے جاری ہونے والی خفیہ دستاویز وں سے ہوتاہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ 1998 میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے انٹیلی جنس رپورٹوں کی روشنی میں امریکا پر القاعدہ کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر وزیراعظم نواز شریف سے ذاتی طور پر مدد مانگی تھی اور اس سلسلے میں 18 دسمبر 1998 کو انھوں نے نواز شریف سے 6 منٹ تک ٹیلی فون پر بات کی اور انھیں القاعدہ کے ممکنہ حملے رکوانے کے لیے کردار ادا کرنے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ذریعے اسامہ بن لادن کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی درخواست کی تھی۔
میاں نواز شریف ایک بار پھر اقتدار میں ہیں اور اس وقت جب کہ وہ امریکا کے سرکاری دورے پر ہیں انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان ، امریکا سمیت تمام عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایک ذمے دار ملک کے طور پر کام کرنا چاہتا ہے۔ لفظ ''ذمے دار ملک'' کا انتخاب میاں صاحب نے یقینا بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔امید یہ کی جارہی ہے کہ ان کا یہ سفر پاکستان کی عالمی تنہائی ختم کرنے اور اسے ایک 'ذمے دار ملک' کا درجہ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔