ڈاکٹر مالک کی عملداری

آواران کے لوگ امداد کے منتظر ہیں، زلزلے سے تباہ ہونے والی تحصیل مشکے میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں...


Dr Tauseef Ahmed Khan October 22, 2013
[email protected]

آواران کے لوگ امداد کے منتظر ہیں، زلزلے سے تباہ ہونے والی تحصیل مشکے میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مصروف ہونے کی اطلاعات ہیں۔مقتدر قوتیں اس کی تردید کرچکی ہیں، بلوچستان کے وزیراعلیٰ آواران میں امدادی سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی تنظیموں کی مدد کو ضروری قرار دے رہے ہیں۔ حکومت پاکستان غیر ملکی امدادی تنظیموں کو آواران میں داخلے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بین الاقوامی تنظیموں کی آمد کو غیر ضروری سمجھتی ہے، اس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حالات اتنے برے نہیں کہ غیر ملکی آکر امدادی کارروائی کریں۔

کہا جاتا ہے کہ مشکے کے لوگ سیکیورٹی فورسز کی امداد لینے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تباہی کے بعد مزید تباہی نہیں چاہیے۔ اقوام متحدہ کی خصوصی ٹیم بلوچستان میں داخلہ نہ ملنے پر کراچی سے واپس چلی گئی ہے۔ گزشتہ مہینے آنے والے زلزلوں کا مرکز بلوچستان کے علاقے آواران کی تحٖصیل مشکے تھی، اس علاقے میں زلزلے سے 500 سے زیادہ افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ پاکستان کی سرکاری امدادی ٹیمیں 72 گھنٹے بعد اس علاقے میں داخل ہوئیں۔ مشکے اور اطراف کے علاقوں میں آبادی کی اکثریت زراعت پیشہ افراد پر مشتمل ہے۔

مشکے کا شمار آواران کے خوشحال علاقے میں ہوتا ہے، یہاں چشموں کا پانی دستیاب ہے، کھجور کے باغات کے علاوہ گندم بھی پیدا ہوتی ہے مگر اس پورے علاقے میں طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ مشکے میں ایک ڈسپنسری تھی جس کا انتظام ایک کمپاؤڈر کے پاس تھا، یوں ہلاکتیں زیادہ ہوئیں۔ جن زخمیوں کے لواحقین صاحب استطاعت تھے وہ کسی نہ کسی طرح زخمیوں کو لے کر کراچی پہنچ گئے۔ آواران سے کراچی کا سفر 8 سے 10 گھنٹوں کا ہے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ مشکے میں بیشتر مکانات تباہ ہوئے اور زلزلے کے بعد سے بجلی کی سپلائی معطل ہے۔ رات کو مچھروں کا راج ہوتا ہے۔ شہر میں کوئی ہوٹل نہیں ہے جہاں باہر سے آنے والے ٹھہر سکیں۔یہ بلوچستان کی آزادی کے علم بردار ڈاکٹر اﷲ نذر کا آبائی علاقہ ہے، اس لیے یہ علاقہ گزشتہ 5 سال سے سیکیورٹی آپریشن کی زد میں ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے باوجود صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ کراچی سے آواران جانے والے رپورٹروں کا کہنا ہے کہ سڑک پر سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹس قائم ہیں، ہر جانے والی گاڑی کو ان چیک پوسٹوں کے اہلکاروں کی اجازت سے آگے جانے کا موقع ملتا ہے۔

یہ اہلکار صحافیوں کے ساتھ تو اچھا سلوک کرتے ہیں مگر مقامی لوگوں کے ساتھ ان کا سلوک ہتک آمیز ہوتا ہے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ امدادی ٹیمیں جو سامان لے کر جاتی ہیں، سیکیورٹی کے اہلکار یہ سامان روک لیتے ہیں، یا پھر اپنی ترجیحات کے مطابق امدادی سامان تقسیم کرتے ہیں۔ مشکے کے علاقے میں ایک سیاسی تنظیم بلوچستان نیشنل موومنٹ نے اپنی امدادی سرگرمیاں شروع کی تھیں۔ بی این ایم سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں کا تعلق مشکے اور آواران کے دوسرے علاقوں سے ہے، اس بنا پر ان کی امدادی سرگرمیوں کے زیادہ بہتر نتائج سامنے آرہے تھے۔

بی این ایم کی مدد کے لیے پی ایس او آزاد نے بھی اپنے کیمپ لگائے تھے مگر سیکیورٹی فورسز نے مشکے کے علاقے میں صبح آپریشن شروع کیا۔ ایک خاتون رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ابھی مشکے میں لوگ بیدار نہیں ہوئے تھے کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔ فضا میں فوجی ہیلی کاپٹر نچلی پروازیں کرتے نظر آنے لگے۔ سیکیورٹی فورسز نے بی این ایم اور پی ایس او کے کیمپوں پر دھاوا بول دیا، ان کیمپوں میں موجود بہت سے نوجوان گرفتار ہوئے، بہت سے نوجوان موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر فرار ہوئے۔

بی این ایم اور پی ایس او آزاد نامی تنظیموں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بلوچستان کی آزادی کی طالب بلوچستان لبریشن فرنٹ کے عوامی فرنٹ ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے ان تنظیموں کے کیمپوں کے خاتمے کے لیے آپریشن کیا تھا مگر اس آپریشن کے نتیجے میں علاقے میں نہ صرف امدادی سرگرمیاں تہس نہس ہوئیں بلکہ مقامی آبادی اور وفاقی سیکیورٹی فورسز میں اعتماد کا بحران اور گمبھیر ہوگیا۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ مقامی لوگوں نے سیکیورٹی فورسز سے آنے والا امدادی سامان لینے سے انکار کیا۔ بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ مقامی افراد سیکیورٹی فورسز سے اس بنا پر بھی دور رہنا چاہتے ہیں کہ انھیں بی ایل ایف کے جنگجوؤں سے انتقام کا خطرہ ہے، مگر متاثرہ افراد کا امداد قبول نہ کرنے کا مطلب صورتحال کا مزید خراب ہونا ہے۔

بلوچستان کی آزادی کا دعویٰ کرنے والے مسلح گروہوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز امدادی کاموں سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرنے کی حکمت علمی پر عمل پیرا ہیں۔ جن ماہرین نے کشمیر اور ہزارہ ڈویژن میں 2005 میں آنے والے زلزلے میں امدادی کاروائیوں میں حصہ لیا، ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تنظیمیں خاص طور پر (MSF) Medicines Sans Frontiers / Doctors without Borders بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) اور اقوام متحدہ کی امدادی تنظیم نے کشمیر کے زلزلے میں اہم خدمات انجام دی تھیں۔ یہ تنظیمیں State of Arts ٹیکنالوجی کو استعمال کرتی ہیں، پاکستان کی سرکاری ایجنسیاں اور امدادی تنظیمیں اس صلاحیت سے محروم ہیں۔

حکومت پاکستان بین الاقوامی تنظیموں کو آواران میں امددی سرگرمیوں کی اجازت نہ دے کر زلزلہ زدگان کی مشکلات بڑھا رہی ہے۔ جب مئی 2013 کے انتخابات کے بعد نیشنل پارٹی کو حکومت قائم کرنے کی دعوت دی گئی تو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت کی تمام صوبے پر عملداری ہوگی۔ وزیراعظم نواز شریف نے ڈاکٹر عبدالمالک کے موقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام وفاقی اور صوبائی ایجنسیاں بلوچستان حکومت کے احکامات کی پاسداری کریں۔

ڈاکٹر عبدالمالک نے عزم کا اظہار کیا تھا کہ اب لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہوجائے گا۔ مگر حقائق ظاہر کررہے ہیں کہ ڈاکٹر مالک مکمل بے اختیار ہیں۔ ڈاکٹر مالک فرنٹیئر کانسٹبلری کی چیک پوسٹوں کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آواران میں زلزلے کے بعد صورتحال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تنظیموں کی مدد کی ضرورت ہے، مگر وزیراعلیٰ کی ان اہم باتوں پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ آواران اور اس کی تحصیل مشکے میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن صوبائی حکومت کی مرضی کے خلاف ہوا ہے، اس سے صوبائی حکومت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

بلوچستان گزشتہ 13 سال سے سخت ترین حالات کا شکار ہے، اب اگر سیکیورٹی فورسز نے ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کی عملداری کو قبول نہیں کیا اور جنرل پرویز مشرف کی ناکام ڈاکٹرائن پر عمل جاری رکھا تو اس کا نقصان نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کو بھی ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کی عملداری کو تمام وفاقی ایجنسیوں کو تسلیم کرنا چاہیے اور آواران میں امدادی کاروائیاں صوبائی حکومت کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں کو بھی گوریلا کارروائیاں چھوڑ کر پرامن راستے پر غور کرنا چاہیے تاکہ زلزلہ زدگان کی مشکلات کم ہوں۔ انھیں 1973 سے 1977 تک بلوچستان میں ہونے والے آپریشن کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔ اس آپریشن کے خاتمے پر بلوچستان میں غیر سیاسی اور مذہبی قوتیں ابھری تھیں۔ تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والے اپنی قوم کا مستقبل تباہ کرتے ہیں۔