پیداواری لاگت میں اضافہ سیمنٹ کی قیمتیں بڑھنے کاامکان

ٹیکسز، بجلی ڈیزل وخام مال کے نرخوںمیں اضافے اورروپے کی بے قدری سے لاگت بڑھی.


Business Reporter October 22, 2013
ترسیل پربھی1200روپے ٹن اضافی اخراجات ہورہے ہیں،سیمنٹ مہنگی ہوگی، ذرائع فوٹو : فصیح منگی

حکومت کی جانب سے بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے سیمنٹ کی قیمتوں پر بھی اثر پڑے گا اور پیداواری لاگت میں اضافہ سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافے کا باعث ہوگا۔

سیمنٹ انڈسٹری ذرائع کے مطابق گزشتہ 4 ماہ سے سیمنٹ انڈسٹری استحکام کی حامل تھی تاہم حالیہ بجٹ میں ٹیکسوں کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ انڈسٹری کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے، روپے کی قدر میں کمی نے درآمدی کوئلے کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اس کے علاوہ دیگر خام مال جو سیمنٹ کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی روپے کی قدر میں کمی کے باعث مہنگا ہوگیا ہے اور انڈسٹری کو پیداوار کے لیے زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

ملک کے شمالی علاقے میں قائم سیمنٹ کارخانے بشمول ڈی جی خان سیمنٹ، میپل لیف سیمنٹ اور فوجی سیمنٹ 50کلو گرام سیمنٹ کی بوری 480 روپے سے لے کر 490 روپے فی بوری فروخت کررہے ہیں، اسی طرح اٹک سیمنٹ اور لکی سیمنٹ جو ملک کے جنوبی علاقے میں قائم ہیں وہ 50 کلو گرام سیمنٹ کی بوری 480 روپے سے 485 روپے فی بوری فروخت کررہے ہیں، رواں برس اگست میں حکومت نے پاور ٹیرف 10.51 روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 15.31 روپے فی یونٹ کردیا تھا جو تقریباً 46 فیصد اضافہ ہے۔



اسی طرح دن کے وقت کے نرخ میں 35 فیصد اضافہ کر کے 18.81 روپے فی یونٹ کردیا گیا جبکہ اس سے پہلے ٹیرف 13.99 روپے فی یونٹ تھے، اسی طرح بجلی کے زیادہ استعمال کے وقت کے نرخ میں 62 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 13.31 روپے فی یونٹ کیا گیا۔

جبکہ پہلے نرخ 8.22 روپے فی یونٹ تھے۔ مزید برآں پاکستانی روپے کی قدر میں 15 اگست سے مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور ایک ڈالر 106.5 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سیمنٹ انڈسٹری کو ایکسل(axle) لوڈ کی شرط کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن کی مد میں تقریباً 1000سے 1200 روپے فی ٹن کے اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں کیونکہ کراچی سے ملک کے شمالی علاقوں میں کوئلہ اور دیگر اشیا سیمنٹ کے کارخانوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ستمبر 2013 میں سیمنٹ انڈسٹری نے 13.01 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 2.951 ملین ٹن سیمنٹ فروخت کی تھی جو گزشتہ برس اسی مدت میں 2.611 ملین ٹن تھی تاہم اس دوران برآمدات میں کمی واقع ہوئی۔