Tomato سیاست سے آگے

بلاشبہ حکومتی منصوبے صائب ہیں لیکن ساتھ ساتھ روزگارکی فراہمی کے لیے بھی قابل عمل منصوبہ بندی ضروری ہے۔


Editorial November 16, 2019
بلاشبہ حکومتی منصوبے صائب ہیں لیکن ساتھ ساتھ روزگارکی فراہمی کے لیے بھی قابل عمل منصوبہ بندی ضروری ہے۔ فوٹو: فائل

معاشی اور سیاسی صورتحال کے حوالہ سے مبصرین میں بحث اس سمت جا رہی ہے کہ حکومت اقتصادی بریک تھروکے قریب ہے تو عوام کو جمہوری ثمرات ملنے کے آثارکیوں نظر نہیں آتے، لوگ منتظر ہیں کہ مہنگائی کا کوئی حل حکومت کو اب تک نظر آجانا چاہیے، تاہم ماہرین کی اپنی محتاط صفوں میں پیدا شدہ بے یقینی اور سراسیمگی گزشتہ دنوں ٹماٹرکی قیمتوں پر ہونے والی دلچسپ اور شگفتہ قیاس آرائیوں سے عیاں ہوگئی ہے۔

میڈیا کے مطابق احتجاجی دھرنوں کے باعث ایرانی ٹماٹرکی درآمد میں تاخیر کا خدشہ ہے، پہلی کھیپ تافتان بارڈر پہنچ گئی، تاہم شاہراہوں کی بندش سے ٹماٹروں کی منڈیوں تک پہنچنے میں دیر ہوسکتی ہے۔

ٹماٹروں کی قیمتوں میں استحکام حیران کن طور پر ابھی تک جاری ہے جب کہ سنجیدہ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور اس کے معاشی ماہرین جب تک اقتصادی سمت کی درستگی کے لیے فیصلہ کن اقدام نہیں کریں گے اس مالیاتی اور اقتصادی پیش رفت کی حقیقت عوام پرکبھی نہیں کھلے گی اور وہ بدستور حکومتی مثبت اور امید افزا ء بیانات ہی پر تکیہ کرتے رہیں گے اور ان ہی کو اپنے دکھوں کا مداوا اور ازالہ سمجھنے لگیں گے۔ مگر زمینی حقائق کا جبر اس بات پر کسی کو متفق ہونے نہیں دے رہا کہ ملکی معیشت واقعی سنبھل چکی ہے اور معاشی نشاۃ ثانیہ میں بس چند ہفتوںکی دیر ہے۔ اس مسئلہ پر رائے عامہ تقسیم در تقسیم ہے۔

میڈیا کے مطابق مالی سال 2019-20 کے ابتدائی 4ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 33.52 فیصد کمی سے 7.77 ارب ڈالر کی سطح پر آگیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی رپورٹ کے مطابق تجارتی خسارے میں کمی کی بنیادی وجہ درآمداتی حجم کا محدود ہونا ہے۔

پی بی ایس کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں درآمدات میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 19.21فیصد کمی آئی اور درآمداتی حجم 15.32 ارب ڈالر رہا جو مالی سال 2018-19 میں 18.96ارب ڈالر تھا۔ زیر تبصرہ عرصے کے دوران برآمدات میں صرف 3.81فی صد اضافہ ہوا اور برآمداتی حجم 7.54 ارب ڈالر ہوگیا جو گزشتہ مالی سال کی اس مدت میں 7.27 ارب ڈالر رہا تھا۔

اقتصادی عدم توازن کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات جیسے روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافہ اور درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ سے تجارتی توازن کو بہتر بنانے میں مدد ضروری ملی ہے مگر ان اقدامات کی وجہ سے صنعتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور معاشی نموکی رفتار دھیمی پڑگئی ہے۔

جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ حسین حیدر نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت درآمدات پر قابل ذکر حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوجاتی تو تجارتی خسارے میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کے باوجود سپرمارکیٹیں درآمداتی سامان سے بھری پڑی ہیں۔ حکومت کے اصلاحاتی اقدامات برآمداتی حجم میں اضافہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

حسین حیدرکا مزید کہنا تھا کہ چار ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں کمی اتنی بڑی کامیابی نہیں کہ اس پر خوشیاں منائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر معاشی نمو کی رفتار سست پڑچکی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی نموکی شرح کا تخمینہ 3.5 فیصد لگایا ہے جو نو برس میں گزشتہ سال رہنے والی سب سے کم شرح نمو 3.3 فیصد کے قریب قریب ہے۔

حسین حیدرکا کہنا تھا کہ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے مگر یہ بہتری ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں نظر نہیں آرہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کوئی حکومت لاکھوں نوکریاں نہیں دے سکتی، انھوں نے مزید یہ کہا کہ کوئی ملک تزویراتی شراکت داری کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، اس لیے حکومت سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنا رہی ہے، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے مطابق علاقائی تجارت کے لیے تاجکستان تک ریلوے کا منصوبہ تیارکیا جا رہا ہے۔

بلاشبہ حکومتی منصوبے صائب ہیں لیکن ساتھ ساتھ روزگارکی فراہمی کے لیے بھی قابل عمل منصوبہ بندی ضروری ہے، حکومت اگر روزگار نہیں دے سکتی تو نجی شعبے کے لیے فراہمی روزگارکی صنعتی اور معاشی پالیسی کا اعلان کیا جائے، اس ملک کی افرادی طاقت کو روزگار ملنا تو ناگزیر ہے ورنہ داخلی سماجی اور معاشی مسائل دوچند ہوسکتے ہیں، لوگوں میں اضطراب پیدا ہو رہا ہے، جس کا اندازہ حکمرانوں کو آزادی مارچ کے بعد اب شاہراہوں پر دھرنے کے ملک گیر اقدامات سے لگایا جانا چاہیے، لازم ہے کہ حکومت اس سیل رواں کو روکے، مفاہمت کی حکمت عملی پر سنجیدگی سے غورکیا جائے۔

مذکورہ بالا مالیاتی منظر نامہ سرکاری حقائق کی عکاسی کرتا ہے لیکن سیاسی اور سماجی صورتحال معاشی نشیب وفراز سے ماورا ہے۔ میڈیا کے انکشافات اور سیاسی واقعات وحالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں ، حکومت اور اپوزیشن میں کشیدگی ، محاذ آرائی کے دو دھارے تو واضح انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، ایک انڈیمنٹی بانڈ کا قصہ ہے، مسلم لیگ ن نے اسے تاوان قراردے دیا ہے جب کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ تاوان اغوا کار طلب کرتے ہیں ، ہم تو سہولت کار ہیں، شہباز شریف نے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا ، عدالتوں کی طرف سے کیے گئے جرمانوں کو تاوان کہا۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بانڈ جمع نہیں کرائے جائیں گے کیونکہ ان بانڈ کے ذریعے عمران خان یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ میں نے نوازشریف سے وصولی کرلی ، پارٹی قائد اور رہنماؤں نے حکومت کے مطالبے کو مسترد کر دیا اورکہا کہ عدالت نے سابق وزیر اعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔ ادھر لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر وفاق سے جواب طلب کرلیا۔

ادھر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں سیاسی صورتحال زیر بحث آئی، قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف کو باہر جانے دیا جائے، حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ جان پیاری ہے یا دولت، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے قراردیا کہ کسی کی صحت پر سیاست نہیںہونی چاہیے ،دونوں جانب سے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ دریں اثنا سندھ حکومت نے ایک اور سیاسی پیش رفت کے تحت نیب ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سمیت جے یوآئی کی قیادت کو دھرنا پلان '' بی'' پرعملدرآمد کے قومی مضمرات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے، ذرایع ابلاغ کے مطابق بی پلان کے تحت کوئٹہ، کراچی، سکھر گھوٹکی سمیت شاہراہ ریشم بند ہے، حب ریور، جیکب آباد میں مظاہرین نے رات سڑک پر گزاری، بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا اور دیگر بڑے شہروں کی شاہراہیں بند کرنے کے احکامات روبہ عمل لائے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کو درپیش خطرات، اور چیلنجز کے پیش نظر کسی کو بھی ریڈ لائن عبور نہیں کرنا چاہیے اسی میں ملک کا مفاد ہے۔

 

مقبول خبریں