پی آئی اے عوام کی ملکیت ہے بتایا جائے ملک سرکار چلا رہی ہے یا آئی ایم ایف سپریم کورٹ

قومی ایئرلائن کے چیئرمین کا تقرر نہ کرنا تاخیری حربے ہیں،چیف جسٹس پاکستان


Numainda Express October 23, 2013
اہل شخصیات کو ایم ڈی اورچیئرمین پی آئی اے لگایاجائے،چیف جسٹس کےریمارکس۔فوٹو: فائل

KARACHI: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ قومی ایئرلائن کاچیئرمین اورمنیجنگ ڈائریکٹر پاکستانی ہوناچاہیے۔

منگل کو چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میںپی آئی اے میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اہل شخصیات کو ایم ڈی اورچیئرمین پی آئی اے لگایاجائے۔ عدالتی حکم پرپہلے قائم مقام چیئرمین آصف یاسین کو ہٹایا گیا، اب پھرانھیں ہی قائم مقام لگا دیاگیا ہے۔ اس پراٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ وہ قائم مقام چیئرمین نہیں، انھیں دیکھ بھال کی ذمے داریاں دی ہوئی ہیں۔ پی آئی اے کے چیئر مین کی تقرری کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے کہا کہ عدالت نے شفافیت لانے کیلیے کمیشن کے ذریعے چیئرمین کی تقرری کی ہدایت کی تھی لیکن کمیشن کو متنازع بنانے کیلیے عدالت کی ہدایت کو منفی طورپرلیاگیا ہے تاکہ عدالت کی ہدایت کو غیرموثرکیاجاسکے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ چیئرمین تقررنہ کرناتاخیری حربے ہیں۔

جسٹس جوادایس خواجہ نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پی آئی اے کی نجکاری کا وعدہ کیا ہواہے، اس لیے ادارے کوجان بوجھ کرنقصان سے دو چارکیاجارہا ہے۔ اگراس وقت نقصان کاتخمینہ200 فیصدہے تو اگلے سال جون تک 300 فیصد ہوجائیگا۔ فاضل جج نے کہاپی آئی اے حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے عدالت کو بتایاکہ پی آئی اے کے 26فیصدحصص فروخت کرنے کافیصلہ کیاجاچکاہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نجکاری کافیصلہ مشترکہ مفادات کونسل کریںگی کیاای سی سی سے منظوری لی جاچکی ہے؟اس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایاکہ اس بارے میں لیٹر میں کچھ موجودنہیں۔ علاوہ ازیں عدالت عظمٰی نے ای او بی آئی بورڈ آف ٹرسٹی کے چیئرمین کی عدم تقرری کاسخت نوٹس لیاہے اورحکومت سے اس بارے و ضاحت طلب کرلی۔



جسٹس شیخ عظمت سعیدنے ریمارکس دیئے ہیںای او بی آئی بورڈ کی تشکیل اس لیے نہیں ہوسکی کہ حکومت کو اس میں دلچسپی نہیں ہے بورڈ آف ٹرسٹی کے چیئرمیں کی تقرری ہو گی تو اربوں روپے کے اسکینڈل کے کرداروں کے خلاف کاروائی ہو سکے گی۔دریں اثنا سپریم کورٹ نے ایل پی جی کوٹہ کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔منگل کوچیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری ،جسٹس جوادایس خواجہ اورجسٹس گلزار احمد پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعدمقدمے پرفیصلہ محفوظ کرلیاجو بعد میں سنایا جائے گا۔ایل پی جی ترسیل سازکمپنیوں نورایل پی جی اورگولڈن گیس کی طرف سے سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے اوربتایاکہ ایل پی جی کی پیداوارروک دی جائے توپہاڑوں پررہنے والے لوگوںکومشکلات کاسامناکرنا پڑے گااور حکومت کومالی نقصان بھی ہوگا۔جسٹس گلزاراحمدنے ریمارکس دیے کہ اگرشیل کمپنی کل سب کچھ بیچ کرپاکستان سے چلی جائے توکیاپورے ملک کی گاڑیاں رک جائیں گی؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کسی کوضمانت نہیں دے سکتی ،تمام کمپنیاںجے جے وی ایل کے رحم وکرم پرہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے وفاقی وزیربرائے بجلی وپانی خواجہ محمدآصف سے استفسارکیا کہ گزشتہ سماعت میںترسیل سازکمپنی نے بہت سنگین الزامات لگائے ہیںکہ وزیرصاحب سارادن سپریم کورٹ بیٹھے رہتے ہیںجس کی وجہ سے کارکردگی متاثرہورہی ہے۔ اس پرخواجہ آصف نے عدالت کوبتایاکہ ان کی کارکردگی متاثرنہیں ہورہی،گزشتہ 8 سال سے ایل پی جی پرایک گروپ کی اجارہ داری ہے اورکوٹہ بغیر بولی کے حاصل کیاگیا ہے۔خواجہ آصف نے عدالت کومزیدبتایاکہ میں سپریم کورٹ میں بطورعام شہری کے آیاہوں ۔عدالت کے استفسارپرسوئی سدرن گیس کمپنی کے وکیل عابدمنٹونے عدالت کوبتایاکہ 2008ء میں ایل پی جی کنٹریکٹ کے لیے بورڈ میٹنگ کااجلاس بلایاگیاجبکہ اُس وقت کی بورڈ میٹنگ میں کل ممبران کی تعداد14تھی جن میںسے 11ممبران سرکارکے تھے جبکہ دوسرے ایگریمنٹ میں بورڈ میٹنگ کے 14کے 14 ممبران حکومتی تھے۔

علاوہ ازیں جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کرپشن میں مبینہ ملوث ایک ملزم اقبال دائودکی طبی معائنے کیلیے سینٹرل فیڈرل میڈیکل بورڈ کی تشکیل کیلیے دائردرخواست مستردکردی جبکہ انکی ضمانت کا معاملہ ٹرائل کورٹ پرچھوڑ دیاہے۔آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے ظہیر مظفر اور حافظ جمیل لاپتہ کیس میں وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے 2 ہفتوں میں جامع رپورٹ طلب کرلی جبکہ 2 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، لاپتہ افراد کے معاملات ان کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ مقدمات ختم نہیں ہورہے، وزارت دفاع اور داخلہ واضح موقف کے ساتھ رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔