ربیع کیلیے 3 لاکھ ٹن یوریا کی قلت ہے فرٹیلائزرسیکٹر

حکومت کا5لاکھ ٹن کھادکی درآمدکافیصلہ درست نہیں،2لاکھ ٹن کم منگوائی جائے


Ehtisham Mufti October 24, 2013
قیمتی زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ ڈالرکی قدر کوبڑھنے سے روکنے میں مدد ملے گی،ذرائع فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے ربیع کے سیزن میں زرعی شعبے کی یوریا کی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے 5لاکھ ٹن یوریا درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

لیکن مطلوبہ مقدار میں یوریا کی درآمدات سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائرکوایک دھچکا لگے گا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے نومبر اور دسمبر 2013کے دوران 5لاکھ ٹن یوریا درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے اکتوبر تا مارچ2014 کے دوران ربیع کے سیزن کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا تاہم فرٹیلائزرانڈسٹری کے باخبرذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت صرف 3لاکھ ٹن یوریا درآمد کرکے ربیع کے سیزن کی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے کیونکہ مطلوبہ مقدار سے2لاکھ ٹن کم یوریا درآمد کرنے کے فیصلے سے قیمتی زرِمبادلہ بچانے میں مدد ملے گی اور امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر میں مزید اضافے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیاتھا کہ ملک میں ربیع کے سیزن میں 3.21ملین ٹن یوریا کی ضرورت ہو گی جبکہ مقامی پیداوار 22لاکھ ٹن رہے گی۔

ذرائع کے مطابق مقامی یوریا انڈسٹری زیرتبصرہ مدت میں اس سے کہیں زیادہ یوریا پیداکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ملک میں ربیع کے سیزن میں مزید 3ملین ٹن کی ضرورت ہوگی لہٰذا حکومت 5لاکھ کے بجائے اگر صرف 3لاکھ ٹن یوریا درآمد کرے تو نہ صرف سیکڑوں ملین ڈالر کا زرمبادلہ بچایاجاسکتاہے بلکہ حکومت اربوں روپے کی سبسڈی کی بھی بچت کر سکتی ہے جو درآمدی مہنگی یوریا کو مقامی یوریا کی قیمت پر کسانوں کو فروخت کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔



 

ذرائع نے بتایا کہ ن لیگ کی حکومت کے قیام کے بعد ملک میں یوریا کی پیداوار میں بہتری آئی ہے کیونکہ موجودہ حکومت کواس حقیقت کا احساس ہوگیا ہے کہ مقامی طورپر یوریا کی پیداوار سے کسانوں کی لاگت میں لانے کے علاوہ حکومت کو بھی سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد کی زرمبادلہ کی بچت ہوسکتی ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ ملک میں 6.9 ملین ٹن یوریا پیداکرنے کی گنجائش ہے جبکہ ملکی ضرورت 5.7ملین ٹن ہے، اگر حکومت چاہے تو نہ صرف کہ ملکی ضرورت کے لیے تمام یوریا مقامی طور پر پیداکی جاسکتی ہے بلکہ پاکستان اضافی یوریا کو بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرکے زرِ مبادلہ بھی کماسکتا ہے۔ ذرائع نے کہاکہ زرِ مبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر، روپے کی قد ر میں کمی اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کے نتیجے میں یوریاکی درآمد پہلے سے زیادہ مہنگا سودا ثابت ہوگی لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ مقامی پلانٹس کو زیادہ سے زیادہ چلا کر یوریا کی درآمد پر خرچ ہونے والے زر مبادلہ کو بچاکر مالیاتی فوائد حاصل کرے اور اس زر مبادلہ کو دوسرے زیادہ اہم معاملات کے لیے خرچ کیا جائے۔

مقبول خبریں