مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم

تفتیش کے نام پر اٹھائے گئے بے گناہ نوجوانوں کی بعدازاں تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔


Editorial November 19, 2019
تفتیش کے نام پر اٹھائے گئے بے گناہ نوجوانوں کی بعدازاں تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔ (فوٹو: فائل)

مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی فوج کے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے، دنیا بھر کی ہیومن رائٹس کی تنظیمیں اپنی رپورٹس میں مظلوم کشمیریوں پر بھارتی افواج کے ظالمانہ اور جابرانہ ہتھکنڈوں کا مسلسل ذکر کر رہی ہیں' ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ کا عنوان ''کشمیر میں بھارتی مقدس فوج' تنازع کو اجاگر کرنے کے لیے تشدد کے نئے طریقے'' دیا ہے جس میں بھارتی قابض افواج کو سنگین نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث دکھایا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات کی عدالت یا میڈیکل حکام کی جانب سے کوئی تحقیقات نہیں کی جاتی۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی فوج کے جبر اور مظالم سے بخوبی آگاہ ہیں۔ بھارتی فوج تلاشی کے بہانے کشمیریوں کے گھروں میں داخل ہو کر نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتی' بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتی اور خواتین کی بے حرمتی کرتی ہے۔

تفتیش کے نام پر اٹھائے گئے بے گناہ نوجوانوں کی بعدازاں تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارتی فوج کے ان مظالم کے خلاف عدالتی شنوائی بھی نہیں ہو سکتی' بھارتی فوج کو کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ہر طرح کے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اور ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔

حال ہی میں ایک بھارتی چینل کے ٹی وی مذاکرے میں سابق بھارتی جنرل ایس پی سنہا، جو اب بی جے پی کا رہنما ہے' نے بے حسی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کی عصمت دری کی وکالت شروع کر دی، ایس پی سنہا نے مقبوضہ کشمیر سے 1990 کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کے انخلا کا ذکر کرتے ہوئے ''موت کے بدلے موت اور ریپ کے بدلے ریپ'' کی بات کر کے تنازع کھڑا کر دیا' ٹی وی مذاکرے میں شریک دیگر شرکاء کی اکثریت نے بھی سنہا کے ان شرمناک ریمارکس کو غلط قرار دیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی قابض فوج خواتین کی عصمت دری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ بھارت کی توجہ جب بھی اس طرف دلائی جاتی ہے تو وہ اپنا جرم تسلیم کرنے کے بجائے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے۔

اس کے اس پروپیگنڈے کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم سے ہٹانا ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کی دعوے دار اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کی روک تھام کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں