پاکستان سے ایف ٹی اے آئندہ سال ہوجائیگا انڈونیشی قونصل جنرل

معاہدے سے تجارتی حجم بڑھے گا اور آزادتجارتی معاہدے کی راہ بھی ہموار ہو گئی، انڈونیشین کونسل جنرل


Business Reporter October 24, 2013
مشیرکی خدمات لینے کیلیے اشتہاردیدیا، وزیرمملکت کومختلف امور پر بریفنگ فوٹو: فائل

انڈونیشین قونصلیٹ مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے کراچی کے بارے میں منفی پراپیگنڈوں کے خاتمے کیلیے سرگرمی سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ بات انڈونیشیا کے قونصل جنرل روسیلز روزمین عدنان نے بدھ کوکراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ایوان صنعت وتجارت جکارتہ اورکراچی چیمبرکے درمیان مفاہمتی یادداشت پردستخط سے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہونگے، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی حجم بڑھ رہاہے، گزشتہ سال تجارتی حجم 1ارب 1 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 1.6ارب ڈالرکی سطح تک پہنچ گیا، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) نے تجارتی حجم بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور آزادتجارتی معاہدے کی راہ بھی ہموار ہو گئی، توقع ہے آئندہ سال دونوں ممالک معاہدے پردستخط کردیں گے جس سے دونوں ملکوں کا باہمی تجارت کا حجم دگنا ہوجائے گا۔



انڈونیشیا پاکستانی تاجروں کیلیے سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک پرکشش ملک ہے جس سے پاکستانی تاجروں کونہ صرف استفادہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ انڈونیشیا کے تاجروں سے روابط کو توسیع دینا چاہیے۔ انڈونیشی معیشت کی کارکردگی کے بارے میں انہوں نے بتایاکہ گزشتہ 6 سال سے زائد عرصے سے شرح نمو 6فیصد ہے، انڈونیشیی حکومت نے بیوروکریسی میں بھی اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور اینٹی کرپشن کمیشن قائم کیا گیا ہے تاکہ ہرسطح پر کرپشن کی روک تھام کی جاسکے اور تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کے سی سی آئی کے تحت مجوزہ مائی کراچی نمائش کے انعقاد کے ذریعے پاکستان کے مثبت تشخص کوفروغ دینے کی کوشش کوسراہتے ہوئے کہاکہ انڈونیشیا کے تاجر باقاعدگی سے اس نمائش میں شرکت کرتے رہے ہیں، ہرسال نمائش میں تاجروں کی شرکت بڑھ رہی ہے، گزشتہ سال 25تاجروں نے شرکت کی تھی اس سال زیادہ انڈونیشی تاجروں کی شرکت متوقع ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی اس خطے میں تجارت کوفروغ دینے کے لیے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انڈونیشی کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ انڈونیشی حکومت ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری پرتوجہ دے رہی ہے، درآمدات کم کرنے کی حکمت عملی پر بھی عمل پیراہیں جس سے ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی مستحکم ہوگی اور معیشت کی پائیدار ترقی کا عمل بھی یقینی بنایاجاسکے گا۔