عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں قائم علی شاہ

میرپورخاص میںجلد پاسپورٹ آفس اورسرکٹ بینچ قائم ہوگا،وزیراعلیٰ،نہری نظام کی مانیٹرنگ کی ہدایت،کابینہ کےاجلاسوں سے خطاب.


Nama Nigar/Numainda Express September 02, 2012
عمرکوٹ:وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ دربار ہال میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں جاری مفاہمتی پالیسی صدر آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں جمہوریت مضبوط ہے بلکہ پاکستان کی تاریخ میں موجودہ حکومت پہلی مرتبہ اپنی پانچ سالہ مدت بھی پوری کرے گی ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ڈپٹی کمشنر آفس عمر کوٹ میں سندھ کابینہ کے اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، آغا سراج درانی، جام سیف اللہ دھاریجو، سید علی مراد شاہ، سید علی نواز شاہ، مردان شاہ، مظفر شجرہ، جام مہتاب ڈہر، منظور حسین، اراکین قومی اسمبلی اسمبلی نواب یوسف تالپور، یوسف تالپور، پیر آفتاب شاہ جیلانی، ڈاکٹر کھٹو مل جیون، اراکین صوبائی اسمبلی نواب تیمور تالپور، میر منور تالپور، حاجی علی مراد راجڑ کے علاوہ صوبائی محکموں کے سیکریٹریز بھی شریک تھے۔

قائم علی شاہ نے ضلع عمر کوٹ میں سڑکوں، نکاسی وفراہمی آب، آبپاشی نظام سمیت دیگرترقیاتی کاموں کے حوالے سے ضلع عمرکوٹ کے لیے ساڑھے 3ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا اورکہا کہ موجودہ حکومت عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے، ہم گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہیں، گندم کی قیمت بڑھانے سے آبادگاروں کو فائدہ ہوگا جبکہ کسانوں کو چھوٹے قرضے بھی دیے جائیں گے۔

انھوں نے عمرکوٹ ضلع کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی سے 28 کروڑ روپے کی اسکیمیں طلب کرتے ہوئے بتایاکہ ضلع عمر کوٹ میں ترقیاتی پروگرام کے تحت 1700ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ضلع کے ترقیاتی فنڈز میں 500ملین روپے کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے 1965 اور 1971کی جنگوں کے دوران حاصل ہونے والی دشمن کی پراپرٹی عمر کوٹ اور تھرپارکر کے مقامی افراد کو الاٹ کرنے اور کنری اور نیو چھور میں آر او پلانٹ لگانے کا اعلان بھی کیا۔

انھوں کہا کہ ان کی حکومت شہید بے نظیر بھٹو کے نظریات وافکار پر عمل پیرا ہے جس کے تحت ہم نے غریب ہاریوں میں مفت زرعی زمین بھی تقسیم کی۔ اس موقع پر ضلع عمر کورٹ سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر سید علی مردان شاہ اور اقلیتی رہنماوں نے وزیر اعلیٰ و دیگر وزراء کو ضلع اور اقلیتی برادری کے مسائل کے بارے میں آگاہی دی۔ بعد ازاں میرپورخاص میں سندھ کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے صوبہ سندھ کی ترقی کے لیے بے شمار ترقیاتی کام کرائے اور میرپورخاص شہر کو خوبصورت بنانے کے لیے 400ملین روپے کا ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے جبکہ واٹر سپلائی اور ڈرینج سسٹم کی اسکیموں کے لیے پہلے ہی فنڈز دیے جاچکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ضلع میں جلد پاسپورٹ آفس قائم کیاجائے گا جبکہ یہاں ہائی کورٹ کی سرکٹ بینچ کے قیام کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ انھوں نے پبلک اسکول میرپورخاص کی ترقی کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے 5کروڑ روپے گرانٹ کا اعلان کیااور محکمہ آبپاشی سیکریٹری کونہری نظام کی موثرمانیٹرنگ کرنے اورپانی کی قلت کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ تمام کینالوں کا روٹیشن ایک ہفتے سے زیادہ نہ کریں اور غیر قانونی واٹر کورسز رینجرز کی مدد سے بند کیے جائیں اور ٹیل تک پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اس موقع پر پی پی ایم این اے میر منور تالپور، سینیٹر ہری رام کشوری لال نے کہا کہ اقلیتوں کے مسائل ترجیح بنیادوںپر حل کیے جائیں۔ سینیٹرہری رام کشوری لال نے بتایاکہ صدر پاکستان نے انہیں اقلیتوں کے معاملات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کارکن منتخب کیا ہے اور وہ جلد اقلیتوں کے مسائل کے متعلق جامع رپورٹ تیار کرکے صدرپاکستان کو پیش کریں گے۔ ایم این اے پیر آفتاب حسین جیلانی نے مطالبہ کیا کہ میرپورخاص شہر کے لیے کم از کم ایک ارب کا ترقیاتی پیکج دیا جائے کیونکہ گزشتہ سال طوفانی برساتوں میں ضلع کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں