فرانس میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف مظاہرے

جہاں اس حقیقت کا بیان ضروری ہے کہ اس ایک سال کے دوران فرانس میں 116 عورتوں کو تشدد سے ہلاک کیا گیا


Editorial November 25, 2019
جہاں اس حقیقت کا بیان ضروری ہے کہ اس ایک سال کے دوران فرانس میں 116 عورتوں کو تشدد سے ہلاک کیا گیا

سیکڑوں ہزاروں عورتوں نے خواتین پر تشدد اور دیگر زیادتیوں کے خلاف فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں جلوس نکالا اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں زیادہ تر شادی شدہ جوڑوں نے شرکت کی۔ جلوس کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر خواتین پر تشدد کے خلاف نعرے درج تھے۔

پیرس شہر کے مرکز میں ہزاروں مردوں اور خواتین کا ایک جم غفیر جمع ہوگیا تھا۔ کئی پلے کارڈز پر اپنے ساتھی مرد یا عورت کا نام بھی لکھا ہوا تھا، جنھیں تشدد کے ذریعے ہلاکت کا شکار بنادیا گیا۔ بعض پلے کارڈز میں کہا گیا تھا کہ تشدد کے خلاف آواز ضرور اٹھائی جائے، تشدد کا زیادہ تر شکار عورتوں کو بنایا گیا تھا جس میں ان کی جان بھی چلی گئی۔ مظاہرین کا اصرار تھا کہ تشدد کا شکار ہونے والی عورتیں تنہا نہیں ہیں بلکہ ہم سب بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جلوس کی رپورٹنگ کرنے والے میڈیا کا دعویٰ تھا کہ مظاہرین میں شریک لوگوں کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز تھی۔ جلوس کے شرکاء کا یہ دعویٰ تھا کہ پیرس میں ہونے والا یہ مظاہرہ سب سے بڑا تھا جس کا مقصد خواتین کے خلاف تشدد کو روکنا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پیرس کے علاوہ فرانس کے دیگر شہروں میں بھی 30 سے زائد مظاہرے کیے گئے۔ فرانس کی تاریخ میںیہ احتجاجی مظاہرے سب سے بڑے مظاہرے قرار دیے گئے ہیں۔

ان کو ستر سے زائد تنظیموں نے منظم کیا جن میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ سماجی تنظیمیں بھی شامل تھیں۔ پیرس میں ایک تنظیم کی منتظمہ کارڈین دی ہاس نے کہا کہ یہ مسئلہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ سب مردوں اور عورتوں کو مل کر اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے۔

جہاں اس حقیقت کا بیان ضروری ہے کہ اس ایک سال کے دوران فرانس میں 116 عورتوں کو تشدد سے ہلاک کیا گیا، قاتلوں کی اکثریت مقتول عورتوں کے شوہروں کی تھی جب کہ گزشتہ برس ہلاک کی جانے والی عورتوں کی تعداد 121 تھی۔ تشدد کے باعث ہلاکتوں کے اعداد و شمار جمع کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر تین دن میں ایک عورت اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے جب کہ پورے ملک فرانس میں ہر سال دو لاکھ سے زیادہ خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ احتجاج کو منظم کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ ان خواتین کی تعداد معلوم نہیں کر سکے جو قتل ہونے سے بچ گئیں۔

فرانس کے وزیر انصاف نکولے بیلوبیٹ نے اعتراف کیا ہے کہ ہمارا نظام اس قابل نہیں ہے کہ وہ گھریلو خواتین کو مکمل طور پر تحفظ فراہم کر سکے۔ لہٰذا لازم ہے کہ خواتین اپنی حفاظت کے لیے میدان میں نکلیں اور اپنے مطالبات منوائیں۔ تازہ اطلاع کے مطابق حکومت فرانس جلد ہی خواتین کے تحفظ کے حوالے سے 40 بنیادی اقدامات کا اعلان کرے گی۔ حکومت اس مسئلہ کے لیے کوئی ٹھوس نظام تیار کرنا چاہتی ہے تو اس پر ابتدائی طور پر ایک بلین (ایک ارب یورو) کا خرچ آئے گا۔

جب کہ فرانس میں ہر دو جنسوں میں توازن پیدا کرنے والی وزارت کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت کا سالانہ خرچہ تقریباً چالیس کروڑ ڈالر کا ہے۔ فرانس کے علاوہ روس میں بھی شوہروں کے ہاتھوں عورتوں کے قتل کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے۔

مقبول خبریں