نواز اوباما ملاقات دو ٹوک باتیں

نواز شریف امریکی صدر بل کلنٹن سے ملنے بھی امریکا گئے تھے۔


Zahida Hina October 26, 2013
[email protected]

وزیر اعظم محمد نواز شریف کا دورۂ امریکا جسے ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ نواز شریف 1999ء میں معزول ہونے، جیل جانے اور جلاوطن ہونے سے کچھ پہلے جنرل مشرف کے کارگل ایڈونچر کے بحران میں پھنسے ہوئے پاکستان اور اس کی افواج کو باہر نکالنے کے لیے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن سے ملنے امریکا گئے تھے۔ 14 سال بعد ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے چند مہینوں بعد وہ پہلی مرتبہ واشنگٹن گئے ہیں۔ ان 14 برسوں کے دوران بات پلوں کے نیچے سے بہت زیادہ پانی گزر جانے والی کہاوت سے کہیں آگے نکل گئی ہے۔ اب پرانے پل تو دور کی بات ہے تاریخ کے دریا اپنا رخ بدل چکے ہیں۔ سوویت انہدام کے بعد امریکا کی پالیسیوں میں بھی بنیادی تبدیلیاں آنی تھیں لیکن بش جونیئر کے اقتدار میں آنے سے امریکا بروقت، سرد جنگ کی نفسیاتی حالت سے باہر نہیں نکل سکا اور فوجی مہم جوئی کی پالیسی پر گامزن رہ کر خود اور دنیا، دونوں کو مسائل سے دوچار رکھا۔ بارک اوباما کی کامیابی اس حقیقت کی غماز ہے کہ امریکا تاریخ کے تیور جان گیا ہے کہ فوجی مہم جوئی معاشی ترقی کی رفتار اور کم کر دے گی۔ اوباما امریکا کو سابقہ مسائل اور تنازعات سے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ان کے رویے میں لچک ہے اور وہ زیادہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب نواز شریف کا ایک بار پھر اقتدار میں آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی پرانی اشرافیہ جان گئی ہے کہ ملک کو ماضی کی ڈگر پر چلانا خود کشی کے مترادف ہو گا۔ سوچ میں یہ تبدیلی نہ آئی ہوتی تو میاں صاحب کے لیے عوامی مقبولیت کے باوجود اقتدار میں آنا اتنا آسان نہ ہوتا۔ وہ حکومت میں آ بھی جاتے تو انھیں مخلوط حکومت بنانی پڑتی اور وہ وہی کرنے پر مجبور ہوتے جو طاقت ور حلقے چاہتے ۔ انکار کی صورت میں کوئی اتحادی ناراض ہو کر الگ ہو جاتا، ان کی عددی اکثریت ختم ہوتی اور وہ جمہوری طور پر معزول کر دیے جاتے۔ نواز شریف کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ ان کے پاس وقت کم ہے۔ پہلا ایک سال ان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس دوران وہ اگر پاکستان کی خارجہ، معاشی اور داخلی پالیسیوں کو بنیادی طور پر تبدیل نہ کر سکے تو یہ موقع دوبارہ ان کے ہاتھ نہیں آئے گا۔

امریکا 2014ء میں افغانستان سے واپس جانے والا ہے۔ اس مرتبہ وہ افغانستان کو کسی ''سوویت یونین'' سے آزاد کرانے کے مشن پر نہیں ہے۔ اسے ایک پرُامن، جمہوری اور معاشی و سماجی در و بست رکھنے والا افغانستان درکار ہے جس کے ذریعے خطے کے کئی ملک معاشی طور پر ایک دوسرے سے جڑ سکیں۔ یہ وہ ملک ہیں جہاں امریکا اور یورپ کی کمپنیاں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔ لہٰذا ایک پرُامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان صرف امریکا ہی نہیں یورپ، چین، روس، ہندوستان ، وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ سمیت سب کی مشترک ضرورت ہے۔ افغانستان کی خصوصی اہمیت کے سبب پاکستان بھی معاشی حکمت عملی کے حوالے سے کافی اہم ہو گیا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع جو سرد جنگ میں اس کے لیے وجہ عذاب بنا رہا اب اس کے لیے باعث رحمت ثابت ہو سکتا ہے۔ مستحکم، دہشت گردی سے پاک، جمہوری اور معاشی اعتبار سے متحرک پاکستان کے بغیر افغانستان کی خصوصی اہمیت سے پوری طرح فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں خاصی تبدیلیاں کی ہیں۔ اب اس کی ترجیح ہے کہ پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہو کیونکہ آج اس خطے کے تقاضوں اور امکانات کو فوجی نہیں بلکہ جمہوری پاکستان پورا کر سکتا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر پاکستان میں استحکام نہیں آ سکتا اور معاشی ترقی نہ ہونے سے بھی دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے۔ لہٰذا یہ دونوں معاملات بھی امریکا کی ترجیح میں شامل ہیں۔

اوباما کی طرح میاں نواز شریف بھی یہ جانتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کے ملکوں کے ساتھ امن اور تجارت کے بغیر پاکستان کی معاشی بحالی اور ترقی ممکن نہیں، اس کام کے لیے جہاں انھیں ملک کے اندر موجود قوتوں کو مطمئن کرنا ہے وہیں عالمی برادری کو بھی یقین دلانا ہے کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے سنجیدہ ہے اور کارگل مہم جوئی جیسا کوئی الم ناک واقعہ اچانک رونما نہیں ہو گا۔ وہ اس حقیقت سے بھی باخبر ہیں کہ دہشت گردی پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے اور اب انتہا پسند اعلانیہ طور پر پاکستان کے آئین اور قانون کو نہ مان کر اس کی حاکمیت کو بھی قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کا مظہر سادہ نہیں بلکہ پیچیدہ ہے اس کے ڈانڈے سرد جنگ سے ملے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نواز شریف متعلقہ عناصر کو ایک چھت کے نیچے یکجا کرنا چاہتے ہیں جس میں امریکا کا کردار بہت اہم ہے۔ پاکستان کی بدترین معاشی حالت بالخصوص توانائی کا بحران، بجٹ خسارہ اور زرمبادلہ کی کمیابی جیسے سنگین مسائل کو نظر انداز کرنا انتہائی خطرناک ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف امریکا سے معاشی اور توانائی کے بحران میں تعاون اور امریکی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی کے خواہش مند ہیں۔

صدر اوباما اور وزیر اعظم نواز شریف کی ترجیحات کے اس سرسری جائزے سے یہ امر سامنے آتا ہے کہ دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان اہم اور بنیادی امور پر اتفاق رائے موجود ہے۔ بعض معاملات ایسے ہیں جن پر اختلاف پایا جاتا ہے لیکن یہ بہت اہم معاملات نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر شکیل آفریدی، عافیہ صدیقی اور ڈرون حملوں کے مسائل محض اپنی ترجیحات پر دوسرے کو قائل کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں کیونکہ ان معاملات کے حل کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹوں سے دونوں ملک بخوبی آگاہ ہیں۔ اس وقت پاکستان اور امریکا کے درمیان مستقبل کے معاملات کے حوالے سے جو وسیع اتفاق رائے ہے اس کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ اوباما اور نواز شریف دونوں نے دوستانہ ماحول میں کھل کر اور دو ٹوک انداز میں باتیں کی ہوں گی۔

بارک اوباما نے کہا ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت آپ کی اپنی مرضی تھی۔ پچھلے دس برسوں میں امریکا نے پاکستان کو 25 ارب ڈالر کی امداد دی۔ ڈرون حملے آپ کی مرضی سے ہوتے تھے اور اس کے لیے آپ کے ملک کی سرزمین بھی استعمال ہوتی تھی۔ ہم سے کہا کچھ گیا اور کیا کچھ گیا۔ غلطیاں ہم سے ہوئیں لیکن بہت سی غلطیاں آپ نے بھی کیں۔ ڈرون حملے ہم وہاں کرتے ہیں جہاں آپ کی حاکمیت اور عمل داری نہیں ہے۔ پہلے وہاں آپ اپنی خود مختاری قائم کریں پھر ہم سے گلے شکوے کریں۔ نواز شریف نے بھی روبرو ملاقات میں یہی کہا ہو گا کہ ماضی میں امریکا نے فوجی جرنیلوں پر تکیہ کیا۔ اب ہم سے گلہ بیکار ہے۔ امریکا اور پاکستان آج سے نہیں 65 برس سے دوست ہیں۔ بانی پاکستان 46ء اور 47ء سے امریکی دوستی اور تعاون کے خواہاں تھے اور میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ ہم دونوں اپنی اپنی غلطیاں تسلیم کر کے ایک نئے دور کا آغاز کریں تا کہ پورا خطہ بحران سے نکل سکے۔ ہم مالی امداد نہیں بلکہ تجارت چاہتے ہیں۔ پاکستان کے معاشی بحران کی قیمت عام لوگ ادا کر رہے ہیں۔ اس بحران کے حل میں تعاون کریں تا کہ پاکستانی سمجھ سکیں کہ امریکا پاکستان کے حکمرانوں کو چھوڑ کر اب اس کے عوام سے دوستی کرنا چاہتا ہے۔ دونوں ملکوں نے جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے اس میں ان حقائق کو سفارتی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔

ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ نواز شریف کے امریکی دورے کے زمانے میں ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھی چین کا سرکاری دورہ شروع کیا۔ ان کا یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ آنے والے عام انتخابات میں کانگریس جیت کر انھیں ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز نہیں کرتی تو اس حوالے سے حالیہ دورہ چین ان کا آخری سرکاری دورہ ثابت ہو گا۔ چین کو بھی اندازہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں کانگریس کی فتح زیادہ یقینی نہیں ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد تعلقات کو جلد بہتر بنانے کا عمل سست پڑ جائے گا لہٰذا اس نے ہندوستان کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کے ضمن میں زیادہ پرُجوش رویے کا مظاہرہ کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان معیشت کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے لیکن ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی دفاعی تعاون کا معاہدہ تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

چین، ہندوستان سرحدی دفاعی معاہدے کے تحت دونوں ملک فوجی تصادم سے بچنے کے لیے اپنی افواج کے گشت کے بارے میں ایک دوسرے کو پیشگی آگاہ کرینگے، فوجی کمانڈر باقاعدگی سے ملاقاتیں کرینگے تاکہ لائن آف ایکچویل کنٹرول کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔ یہ بات دوہرانے کی ضرورت نہیں کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے وسیع سرحدی علاقوں پر دعویٰ رکھتے ہیں۔ دونوں ملکوں نے کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حقیقت کا ادراک کیا کہ دنیا کے دو سب سے بڑے ملک جو دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقتیں بھی ہیں انھوں نے اگر کشیدہ تعلقات ختم نہ کیے تو وہ پائیدار معاشی ترقی نہیں کر سکیں گے۔ یہ وہی چیلنج ہے جو پاکستان کو درپیش ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ہم دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت نہیں بلکہ اپنی معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ دنیا کے اہم ممالک باہمی تعلقات کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے محاذ آرائی سے گریز کر کے مفاہمت کی راہ اپنا رہے ہیں۔ اوباما نواز ملاقات کا بھی یہی خوش کن پہلو ہے۔

مقبول خبریں