سارہ لورین نے معروف کو ریوگرافر گنیش ہیج سے رقص کی تربیت لینے کا فیصلہ کرلیا

بالی ووڈ میں اداکاری کے جوہر دکھانے کے ساتھ ہی رقص کے مختلف انداز پر مہارت ہونا بھی بے حد ضروری ہے، پاکستانی ادارکارہ


Qaiser Iftikhar October 27, 2013
کبھی ایسی حرکت کا نہیں سوچا جس سے بدنامی ہو، سارہ لورین کی ایکسپریس سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

پاکستان کی معروف اداکارہ وماڈل سارہ لورین نے ڈانس کی مختلف اصناف پر مہارت پانے کے لیے بھارت کے معروف کوریوگرافر گنیش ہیج سے تربیت لینے کا فیصلہ کر لیا۔

اس سلسلہ میں سارہ لورین نے گزشتہ دنوں ایک تقریب کے دوران گنیش ہیج سے ملاقات کرتے ہوئے ڈانس کی مختلف اصناف کی مہارت کے لیے گفتگو کی جس کے لیے اب وہ باقاعدہ ممبئی میں قائم اسکول سے ڈانس کی کلاس لیں گی۔ اس دوران گنیش ہیج جہاں سارہ لورین کو مغربی ڈانس فارمز کی تربیت دینگے وہیں بالی وڈ ڈانس میں ٹریننگ دی جائیگی۔ تین ماہ تک جاری رہنے والے پہلے مرحلے کے دوران سارہ لورین کو رقص کی تربیت کے ساتھ ساتھ سخت ورزش بھی کرنا ہو گی۔ اس ٹریننگ کے دوران سارہ کو ہر روز دو سے تین گھنٹے تک اسکول میں جانا ہو گا۔ سارہ لورین نے فون پر گفتگوکرتے ہوئے ''نمائندہ ایکسپریس'' کو بتایا کہ بالی ووڈ فلموں میں گنیش ہیج کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، وہ ہریتک روشن جیسے باکمال ہیرو کو ڈانس کی تربیت دینے کے ساتھ ان کے فلمی گیت بھی کوریو گراف کرتے ہیں، اس کے ساتھ انہیں موجودہ دور کی بہت سی ڈانس فارم پر عبور حاصل ہے جس کیوجہ سے میں نے رقص کی تربیت کے لیے گنیش ہیج کا انتخاب کیا، وہ ایک بہترین ڈانسر ہونے کے ساتھ بہت اچھے انسان بھی ہیں، اس لیے مجھے ان سے تربیت لیتے ہوئے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ بالی ووڈ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے کے ساتھ ساتھ رقص کے مختلف انداز پر مہارت ہونا بھی بے حد ضروری ہے کیونکہ یہاں پر زندگی کے مختلف موضوعات پر فلمیںبنائی جاتی ہیں جن میں میوزک ایک لازمی جزو کے طور پر شامل ہوتا ہے۔ فلمی گیتوں پر رقص کرنا ہر ہیروئن کے لیے بیحد ضروری ہوتا ہے، مجھے ویسے بھی رقص کرنا بہت پسند ہے اور میں اپنی اس صلاحیت کے کچھ جلوے بین الاقوامی معیار کے پروگراموں میں دکھا بھی چکی ہوں مگر اس میں مزید نکھار لانے کے لیے میں نے تربیت لینے کا فیصلہ کیا تھا، جو مستقبل میں میرے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں سارہ لورین نے بتایا کہ بالی وڈ میں فلموں کی آفرز کا سلسلہ جاری ہے اور میں نے مزید دو نئے پراجیکٹس سائن کر لیے ہیں۔ ان میں بھی مرکزی کرداروں کے لیے منتخب کیا گیا ہے لیکن اپنے معاہدے کے مطابق فی الحال فلم کا نام، کہانی اور اپنے کردار بارے کچھ نہیں بتا سکوں گی۔



ویسے بھی جب فلم مکمل ہونے کے بعد نمائش کے لیے پیش کی جائے گی تو پھر سب اس کو دیکھنے کے لیے سینما گھر کا رخ کرینگے۔ لیکن اتنا ضرور بتا دینا چاہتی ہوں کہ نئے پراجیکٹ میں میرے مدمقابل بالی ووڈ کے سپراسٹار ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک منفرد فلم ہو گی جس میں فلم بینوںکے لیے ایکشن، رومانس، کامیڈی سمیت بہت کچھ شامل ہو گا۔ جہاں تک فلم میں بولڈ مناظر عکسبندکیے جانے کی بات ہے تو اس کا فیصلہ فلم بین ہی کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ بولڈ سین کہانی کی ڈیمانڈ ہوتے ہیں، کہانی اگر کسی طوائف کے گرد گھومتی ہے تو اس میں وہی کچھ دکھایا جائے گا جو '' بازارحسن '' میں ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی اداکارہ ڈاکٹر یا وکیل کا کردار ادا کرتی ہے تو اس کردار کی ڈیمانڈ کے مطابق ہی منظرکشی کی جائیگی۔ اس لیے اب ہمیں لوگوںکو ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

بولڈ سین اگر کہانی کی ڈیمانڈ میں شامل ہیں توایک فنکارکی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس کو پورا کرے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ منفرد کردار ملے اور میںاس میں حقیقت کے رنگ بھروں، میں نے اس بارے میںکبھی نہیں سوچا کہ مجھے راتوں رات بالی ووڈ کی دس فلمیں مل جائیں۔ مجھے تعداد سے نہیں معیار سے غرض رہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بننے والے ڈراموں میں میں نے ہمیشہ منفرد کردار منتخب کیا جس کی وجہ سے لوگ مجھے آج بھی مختلف کرداروںکی بدولت جانتے ہیں، یہی ایک فنکارکی کامیابی ہوتی ہے اور اس کے لیے ایوارڈ بھی۔ میری ڈائریکشن بالکل درست ہے اور میں بھارت میں کام کرتے ہوئے کبھی ایسی کوئی حرکت کرنے کا نہیں سوچتی جس سے پاکستان کی بدنامی ہو اور میرا نام بلاوجہ اخبارات، نیوز چینلز کی زینت بنے، میں صرف اپنا کام کرتی ہوں اور اس کے بل پر ہی میں نے اپنا نام اور مقام بنایا ہے۔