اسکریپ کنسائمنٹ کی کلیئرنس میں بے قاعدگیوں کاانکشاف

کسٹمز پورٹ قاسم کلکٹریٹ میں کھیپ کی ایگزامینشن کے بغیرکلیئرنس کی جا رہی ہے


Business Reporter October 27, 2013
آٹوپارٹس وکپڑے سمیت متفرق اشیاکی اسمگلنگ اورقومی خزانے کونقصان ہو رہاہے،ذرائع. فوٹو؛ فائل

LAYYAH: محکمہ کسٹمز پورٹ قاسم کلکٹریٹ میں اسکریپ کے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس بغیرایگزامینشن کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

جس کے باعث قومی خزانہ کو بھاری مالیت کے ریونیو خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع نے ''ایکسپریس''کو بتایاکہ محکمہ کسٹمزپورٹ قاسم کلکٹریٹ میں اسکریپ کے درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کاسلسلہ سال 2008 سے جاری ہے اور دوسری جانب اسکریپ کے کنسائنمنٹس کی فل کنٹینر لوڈ (ایف سی ایل) ڈلیوری بھی دی جا رہی ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان کسٹمز ایکٹ کے تحت اسکریپ کے کنسائنمنٹس کی ڈلیوری لیس کنٹینرلوڈ (ایل سی ایل) کے تحت ہی کی جاسکتی ہے لیکن مذکورہ کلکٹریٹ میں تعینات افسران کی جانب سے چشم پوشی اختیارکی ہوئی ہے۔



ذرائع نے بتایاکہ بغیر ایگزامیشن کلیئرنس کی وجہ سے اسکریپ کے درآمدی کنسائنمنٹس کی آڑ میں آٹوپارٹس، کپڑا، کاسمیٹکس، الیکٹرانکس آئٹمز سمیت متفرق اشیا کی اسمگلنگ کرکے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔