جمہوری خیرسگالی اور معاشی استحکام کی ضرورت

جمہوری قوتوں کو ایک مستحکم ، آسودہ ، معتدل اور متوازن پالیسیوں کی سمت کا انتظار ہے۔


Editorial November 27, 2019
جمہوری قوتوں کو ایک مستحکم ، آسودہ ، معتدل اور متوازن پالیسیوں کی سمت کا انتظار ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

سیاست اورمعیشت کا بحران ابھی تک جاری ہے۔ جمہوری قوتوں کو ایک مستحکم ، آسودہ ، معتدل اور متوازن پالیسیوں کی سمت کا انتظار ہے ، تاہم حکومت اس تاریک سرنگ سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس کے آخری سرے میں عوام کو اکثر اقتصادی ریلیف کی کوئی کرن نظرآتی ہے، بظاہر عالمی ، علاقائی معاملات ، سیاسی قربتوں ، بین الاقوامی تعلقات ، سفارت کاری اور تجارتی رابطے معمول کے مطابق چل رہے ہیں لیکن بنیادی سوال پی ٹی آئی کی حکومت کی انصاف ، تبدیلی، ترقی اور خوشحالی کے اہداف کے حصول کا ہے۔

حکومت مخالف حلقوں اوراپوزیشن کا استدلال اس نقطہ پر ہے کہ حکومت اور پارٹی کا منشور انصاف پر مبنی ایک غیر استحصالی سماجی کی تعمیرکا تھا، بلا امتیاز احتساب اس کی حکمت عملی اور منصوبوں کا اہم ستون تھا ، پی ٹی آئی اس عہد کے ساتھ پاکستان کی سیاست اور معیشت کانقشہ بدلنے کی بات کرتی تھی کہ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے ملک کئی سال پیچھے چلا گیا، ملکی خزانہ تقریباً خالی تھا اور معیشت آخری سانس لے رہی تھی۔

اس عظیم نقصان کا ازالہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہی کرے گی ، اور دلچسپ اور فطری حقیقت یہ ہے کہ عوام کو یقین بھی تھا کہ عمران خان کی قیادت میں جمہوریت کا کایا پلٹ جائے گی ، ملک فرسودہ سیاست کو رد کرکے جدید دورکے ترقی پسند، متوازی جمہوری روایات اور مستحکم معاشی نظام اور اسلامی تشخص کے ساتھ اپنے سفرکا آغاز کرے گا۔ اس سفر کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے مابین تعلقات کی کیمسٹری بھی بدل جائے گی، اشرافیہ کی بالادستی کو قبول نہیں کیا جائے گا، غربت، بے روزگاری، جرائم ، میرٹ کی بے تقریری، معاشی آسودگی اصل حکومتی اہداف ہونگے اور حکمرانی جمہور اور عام آدمی کے مفادات کو پیش نظر رکھے گی۔

اس وقت ضرورت ان اہداف کو یاد دلانے کی اس لیے آن پڑی ہے کہ عوام کو وہ سمت نظر نہیں آرہی جو ملکی ترقی وخوشحالی کے ایک غیرمعمولی سفر سے مشروط ہو۔ وزیر اعظم نے اپنے سیاسی کیریئر اور گذشتہ انتخابی مہم اور دھرنے کے دوران نئے پاکستان کی تشکیل کی بات کی تھی، ان کا دعوی تھا کہ اس نئے پاکستان میں وہ غریب کو اوپر اٹھائیںگے، لیکن عوام منتظر ہیں کہ ملک کب سیاسی و جمہوری قوتوں کا ایک مہکتا گلستان بنے گا، سیاسی جماعتیں ایک مستحکم پاکستان کے لیے پارلیمانی اور سیاسی نظام کی تشکیل کے لیے فروعی اختلافات بھلاکر عوام کے مسائل حل کریں گی۔

اس وقت ضرورت گریٹر مصالحت، خیر سگالی، دور اندیشی ، مفاہمت ، گلوبل وژن ، داخلی استقامت اور سمت سازی کے ساتھ انقلابی، غیر روایتی اور دلیرانہ فیصلہ سازی کی تھی ، ملکی سواد اعظم کا ایک نکاتی ایجنڈا یہی ہے کہ حکومت بے یقینی کا خاتمہ کرکے'' حیات لے کے چلوکائنات لے کے چلو '' کی حکمت عملی کا مظاہرہ کرے، عوامی توقعات کو پورا کرنے پر اپنی ساری توانائی خرچ کرے، احتساب بلا امتیاز جاری رکھا جائے اور سسٹم کے اندر دراڑ اندر دراڑ کی جو چہ مگوئیاں اور افواہیں ہیں ان کا ازالہ ہونا چاہیے، کشیدگی اور محاذ آرائی خانہ جنگی کی نوبت تک نہ پہنچے، قوم کی امنگوں کا ادارک کیا جائے اور ہر قسم کی الزام تراشی، شعلہ بیانی بند ہونی چاہیے ، تاکہ سیاسی اور معاشی اشتراک عمل کا نیا باب رقم کیا جاسکے۔

حقیقت یہ ہے کہ بے منزل اور لاحاصل سیاسی تناؤ نے حکومت اور اپوزیشن کو عوام کی فلاح وبہبود کے بڑے آدرش سے دور پھینک دیا ہے ، ایک طرف وزیراعظم کا بیانیہ ہے کہ فارن فنڈنگ پر دامن صاف ہے، اپوزیشن عوام کو گمراہ کررہی ہے، دوسری جانب جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کاکہنا ہے کہ آیندہ سال انتخابات نہ ہوئے تو تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ نے کہاکہ ملک میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی ہدف سے زیادہ رہے گی، سخت اقدامات کے بعد معیشت کی صورت حال بہترہوئی ہے، تاہم اسلام آباد میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ معیشت کومشکلات کا سامنا ہے، اس حقیقت سے ملک بھرکے اقتصادی ماہرین متفق ہیںکہ ملک کا اصل ٹیسٹ کیس معاشی بریک تھرو میں مضمر ہے، مشیر خزانہ کو ادراک ہے کہ مشکلات درپیش ہیں، حفیظ شیخ نے حکومتی کوششوں کا مثبت انداز میں ذکر کیا، ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے کردہ معاشی اہداف کو پورا کیا جائے گا۔

اقتصادی فیصلہ سازی میں صوبوں کا کردار بڑھایا جارہا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئی ہے، سرمایہ کاری بڑھی ہے، انھوں نے کہا کہ 16 ماہ میں معیشت کو درست راہ میں گامزن کرنے میں مصروف رہے، درست سمت میں صحیح فیصلے کیے گئے، شرح مبادلہ کا تعین کرنے سے استحکام ملا جو پاکستان کی ترقی کے لیے دیرپا فیصلے کرنے میں مددگار ثابت ہورہا ہے۔ اپوزیشن رہنما اور مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ حکومتی بیانیے سے معیشت کے حالات خراب ہوئے، ادھر چین نے پاکستان کی اقتصادی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ٹیکسز اور بجلی کے نرخ میں استحکام برقرار رکھنا چاہیے ، عالمی بینک نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ آیندہ 9 سال میں پاکستان کی ٹیکس آمدنی 82 ارب ڈالرز سے زائد ہوسکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نئے ٹیکس کے نفاذ اور ٹیکس شرح میں اضافے کے بغیر ٹیکس آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔

تفصیلات کے مطابق، پاکستان ریونیو اتھارٹی(پی آر اے) کے قیام پر ملازمین کی جانب سے رکاوٹ کے باعث عالمی بینک کا کہنا ہے کہ 40کروڑ ڈالرز قرض کے '' پاکستان محصولات اضافہ منصوبے'' کے تحت ٹیکس اقدامات کے بغیر آیندہ نو سال میں مالی سال 2028-29 تک ایف بی آرکی ٹیکس آمدنی 82اعشاریہ 4ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔ تاہم، ٹیکس اقدامات کی صورت میں اس آمدنی کو 96اعشاریہ6 ارب ڈالرز تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ٹیکس فرق تجزیے کے مسئلے پر عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس عمل درآمد 75 فیصد تک بڑھ جائے تو پاکستان کی ٹیکس آمدنی جی ڈی پی کے 26 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔گو کہ ایف بی آر نے کچھ وقت کے لیے ایف بی آر کو پی آر اے میں تبدیل کرنے کا عمل موخرکر دیا ہے۔

عالمی بینک کا اپنی تفصیلی رپورٹ میں کہنا ہے کہ پاکستان میں نئے ٹیکس نفاذ اور ٹیکس شرح میں اضافے کے بغیر ٹیکس آمدنی میں اضافے کی صلاحیت موجود ہے۔ ٹیکس حکام ملک کی ممکنہ ٹیکس آمدنی کا صرف آدھا ہی حاصل کررہے ہیں یعنی اصل اور ممکنہ ٹیکس آمدنی میں فرق 50 فیصد ہے۔اس فرق کا انحصار ٹیکس آلات اور شعبے پر ہے۔ مینوفیکچرنگ کے مقابلے میں سروسز سیکٹر میں یہ فرق زیادہ ہے۔

جب کہ انکم ٹیکس کے مقابلے میں یہ اشیا پر جی ایس ٹی اور سروسز پر جی ایس ٹی ایس میں زیادہ ہے۔صوبوں کو تفویض کردہ ٹیکسز میں یہ فرق اور بھی زیادہ ہے، خاص طور پر جی ایس ٹی ایس کے حوالے سے ، یہی وجہ ہے کہ صوبے ملک کی ٹیکس آمدنی میں زیادہ بڑا حصہ شامل کرسکتے ہیں۔ ٹیکس دائرہ کارکو وسیع کرنے کے لیے ٹیکس کے بڑے اخراجات کوکم کرنا ہوگا۔

ٹیکس دائرہ کار بڑھانے کے لیے ٹیکس نیٹ کو بھی بڑھانا ہوگا۔ ٹیکس پابندی نا ہونے اور قانونی کمزوریوں کی وجہ سے ٹیکس چوری بڑھ رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے پاک ایران تاپی منصوبہ کی تکمیل پر استفسار کیا ہے، اورکہا ہے کہ یہ منصوبہ کہاں تک پہنچا۔ سابق گورنراسٹیٹ بینک شمشاد اختر نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو جی ڈی پی کا 8 فی صد سے زائد انفرااسٹرکچر پر لگنا چاہیے۔

لہذا شواہد اور سیاسی نشیب وفراز بھی اس امرکی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ملکی معیشت کو منزل مقصود تک لے جانا اولین ٹاسک ہے ، باقی سیاسی بازی گری تو ہوتی رہے گی، ملک کا مفاد معاشی استحکام اور جمہوری غیرسگالی کے رویے میں مضمر ہے۔ سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو موجودہ اعصابی تناؤ سے نجات دلائیں۔ ملک ایک ہیجان میںمبتلا ہے، ایسا توکسی نے نہیں سوچا تھا۔

مقبول خبریں