مفروریٰسین نے مقدس کو زیادتی کے بعد قتل کیاتحقیقاتی افسر

معاملہ رفع دفع کرنے کیلیے لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی،والد کی بات سے بات میں گفتگو۔


Monitoring Desk September 02, 2012
معاملہ رفع دفع کرنے کیلیے لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی،والد کی بات سے بات میں گفتگو، فوٹو: فائل

ساہیوال میں یوم آزادی پرزیادتی کے بعد قتل ہونیوالی 13 سالہ مقدس کے قتل کیس کے تحقیقاتی آفیسر نور محمد نے بتایا کہ مقدس کا والد اور گرفتار ملزمان سارے ایک ہی بھٹے پر کام کرتے تھے، مفرور ملزم یٰسین نے مقدس کو زیادتی کے بعد قتل کیا اور گرفتار دو ملزمان نے اس سے تعاون کیا، ابھی وہ مفرور ہے جلد گرفتار کرلیاجائیگا۔

پروگرام بات سے بات میں اینکر پرسن ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ہمیں میڈیکل رپورٹس کا انتظار ہے جس میں پتہ چل جائیگا کہ بچی سے زیادتی کی گئی تھی یا نہیں تاہم جب ہم نے لاش اپنی تحویل میں لی تواس وقت اس کے گلے میں پھندا تھا ، گرفتار ملزمان غلط بیانی کرتے ہیں انہوں نے خود یٰسین سے تعاون کیا ہے۔ مقد س کے والد نے کہاکہ چودہ اگست کی شام کو میری بیوی کا آپریشن تھا میں ہسپتال تھا اور شام کو ان لوگوں نے رفع حاجت کے لئے جاتے ہوئے میری بیٹی پر ظلم کی انتہا کردی، ہمیں انصاف چاہئے وہ ہمیں لاکھ ڈیڑھ لاکھ دے کر معاملہ رفع دفع کرنے کی بات کررہے ہیں لیکن ہمیں ایک کروڑ بھی ملے تو بھی ہم قاتلوں کو معاف نہیں کریں گے۔

گرفتار ملزم نے بتایا کہ وہ مفرور ملزم یٰسین کا بھائی ہے اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں مفرور یٰسین کے ساتھی شہباز نے کہاکہ میں قرآن اٹھا کر کہنے کو تیار ہوں کہ میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ گرفتار ہونیوالے تیسرے ملزم نے بتایا کہ یٰسین نے میرے سامنے منشی سے موبائل مانگا جو اس نے نہیں دیا اس دن بارش کی وجہ سے میں نے اپنا موبائل کمرے میں رکھا تھا جس کو یٰسین لے گیا میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔