پنجاب میں 50 لاکھ بائیو گیس پلانٹس لگائے جاسکتے ہیں ماہرین

3کروڑ 20 لاکھ سے زائد گائے، بھینسیں دستیاب، گوبر سے مفت گیس حاصل ہوسکتی ہے


Numainda Express October 27, 2013
حکومت کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فرا ہمی کو یقینی بنائے تاکہ پاکستان کے زرعی شعبے میں ترقی ممکن ہوسکے۔ فوٹو: فائل

زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ زیادہ پیداوار کے حصول جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کا تقاضا ہے۔

حکومت کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فرا ہمی کو یقینی بنائے تاکہ پاکستان کے زرعی شعبے میں ترقی ممکن ہوسکے اور پاکستان زرعی اجناس میں خودکفیل ہوسکے غیر تصدیق شدہ بیج تحقیق کا فقدان سیم وتھور قرضوں کی عدم فراہمی مشینی کاشت کی کمی اور غیر متوازن استعمال پاکستان کی شعبہ زراعت میں خود کفالت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔



ملک میں جاری توانائی بحران میں شعبہ زراعت سمیت ہر شعبہ زندگی کو شدید متاثر کیا موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ زرعی مقاصد کیلیے استعمال ہونے والے ٹیوب ویلوں کیلیے دیہی علاقوں میں بائیو گیس ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے کیونکہ صوبہ پنجاب میں 3کر وڑ 20لا کھ سے زائد گائے بھینسں دستیاب ہیں جن کے گو بر سے 50لا کھ بائیو گیس پلانٹس چلائے جاسکتے ہیں، ان ٹیوب ویلوں کو با آسانی بائیو گیس پر منتقل کر کے بجلی وڈیزل کی بچت اور کھانا پکانے کیلیے مفت گیس کی فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر زیادہ سے زیادہ بائیو گیس ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے۔