ہفتہ رفتہ پیداوار میں اضافے کی رپورٹس پر دنیا بھر میں روئی کی قیمتیں گرگئیں

نرخ پچھلے 9 ماہ کی کم ترین سطح تک آگئے،’’کاٹ لک‘‘ کی متضاد رپورٹ پر رواں ہفتے قیمتوں میں اضافے کے رجحان کا امکان


Ehtisham Mufti October 28, 2013
نرخ پچھلے 9 ماہ کی کم ترین سطح تک آگئے،’’کاٹ لک‘‘ کی متضاد رپورٹ پر رواں ہفتے قیمتوں میں اضافے کے رجحان کا امکان۔ فوٹو: فائل

امریکی کاٹن ایکسپورٹس بارے جاری ہونے والی منفی رپورٹ اور کپاس پیدا کرنے والے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں 2013-14 کے دوران کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہونے بارے رپورٹس جاری ہونے کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان غالب رہا جس کے باعث نیویارک کاٹن ایکس چینج میں روئی کی قیمتیں پچھلے 9 ماہ کی کم ترین سطح تک گر گئیں۔

تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مذکورہ رپورٹس کے اثرات زائل ہونے اور دنیا کے ایک معتبر ادارے ''کاٹ لک'' کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ حقیقت میں دنیا بھر میں کپاس کی مجموعی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 1لاکھ 8ہزار ٹن کم اور کھپت 70ہزار ٹن زیاد ہو گی، کے بعد رواں ہفتے کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی کا رجحان شروع ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے ) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے چین نے بھی دنیا بھر سے روئی اور سوتی دھاگے کی خریداری کافی حد تک کم کر دی ہے جس کے باعث بھی روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لگتا ہے کہ عالمی سٹہ بازوں نے رواں سال کپاس کی قیمتوں میں مصنوعی اتار چڑھائو پیدا کرنے کیلیے بھارت کی کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے اعدادوشمار کا انتخاب کیا ہے جس کے باعث بھارت میں آئے روز کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار بارے نت نئے اعدادو شمار جاری کیے جا رہے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل 2013-14 کیلیے کاٹن ایڈوائزری بورڈ (سی اے بی) بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار تقریباً 35ملین بیلز کے اعدادو شمار جاری کیے تھے جبکہ چند روز قبل کاٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا نے بھارت میں کپاس کی پیداوار 37.35ملین بیلز کے اعدو شمار جاری کیے جسے بعد میں بڑھا کر 38.1ملین بیلز کر دیا گیاجبکہ ایک اور بھارتی ادارے فیڈریشن کاٹن کراپ آف انڈیا نے گزشتہ ہفتے کے دوران بھارت میں 38.4ملین بیلز کے اعدود شمار جاری کیے جبکہ حقیقت میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران بھارت کے بعض کاٹن زونز میں ہونے والی تباہ کن بارشوں کے باعث کپاس کی مجموعی ملکی پیدوار 2012-13 کے مقابلے میں کم ہونے کے امکانات ظاہر کیے گئے تھے۔ یاد رہے کہ 2012-13میں بھارت میں 35.7ملین بیلز پیدا ہوئی تھی۔



انہوں نے بتایا کہ ستمبر اور اکتوبر کے دوران پاکستان کے بیشتر کاٹن زونز میں درجہ حرارت ملکی تاریخ میں نہ صرف سب سے زیادہ رہا بلکہ موسم گرما کا دورانیہ بھی پہلے کے مقابلے میں طویل ہونے کے باعث اس کے کپاس کی فصل پر انتہائی منفی اثرات دیکھے جا رہے ہیں جس سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی کے ساتھ ساتھ رس چوسنے والے کیڑوں کے حملے میں بھی خاصہ اضافہ دیکھا گیا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافے کا سلسلہ آئندہ سالوں میں بھی جاری رہا تو اس سے کپاس کی فصل میں کافی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ احسان الحق نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران آنے والی مندی کے باعث نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 4سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 85.95سینٹ فی پائونڈ تک جبکہ دسمبر ڈلیوری روئی کے سودے 4.03سینٹ فی پائونڈ کمی کے باعث 79.08سینٹ فی پائونڈ تک گر گئے۔

بھارت میں روئی کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کے دوران ریکارڈ 2ہزار 776روپے فی کینڈی کمی کے بعد 41ہزار 852روپے فی کینڈی تک گر گئے جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 100روپے فی من مندی کے بعد 6ہزار 800روپے فی من تک گر گئے اور چین میں نومبر ڈلیوری روئی کے سودے 145یو آن فی ٹن اضافے کے بعد 20ہزار 295یو آن فی ٹن تک مستحکم رہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران چین کے شہر شنگھائی میں منعقد ہونے والے ایک ٹیکسٹائل فئیر میں پاکستان ٹیکسٹائل ملز مالکان چین سے کاٹن پروڈکٹس کے آرڈرز لینے میں کافی حد تک ناکام رہے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکا کے دوران بھی وزیر اعظم امریکی حکام سے پاکستانی ٹیکسٹائل پروڈکٹس کی برآمدات کیلیے وہ رعایتیں لینے میں ناکام رہے جو اس خطے کے دیگر ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کو حاصل ہیں جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان میں کافی مایوسی پائی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر مملکت برائے کامرس خرم دستگیر اور فیڈرل کامرس سیکریٹری آئندہ چند روز میں یورپ کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ یورپی یونین سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کیلیے جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جو پچھلے کافی عرصے سے زیر التوا ہے۔

مقبول خبریں