لاپتہ افراد کے ورثا کا کوئٹہ سے کراچی تک لانگ مارچ شروع

زلزلہ زدہ علاقوں سے بھی لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں، واقعات میں شدت آگئی، نصراللہ بلوچ


INP/Net News October 28, 2013
کوئٹہ: لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے لانگ مارچ کا آغاز کررہے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی

بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کیلئے انکے رشتہ داروں نے کوئٹہ سے کراچی تک لانگ مارچ کا آغاز کر دیا۔

قیادت وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین عبدالقدیر بلوچ کر رہے ہیں، کوئٹہ پریس کلب سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں خواتین بھی شامل ہیں، صوبے کی تاریخ میں یہ پہلا احتجاج ہے جس کے شرکاء روزانہ صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک پیدل سفر کریں گے اور کراچی پہنچ کر علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کریں گے۔ وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے اور اب تو زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے بھی لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں' موجودہ حکومت کے دور میں لوگوں کو لاپتہ کرنے میں تیزی آئی ہے۔



پہلے دو دو تین تین افراد کو اٹھایا جاتا تھا لیکن اب درجنوں افراد کو ایک ساتھ اٹھایا جا رہا ہے، 2002 سے اب تک لاپتہ افراد کی تعداد اٹھارہ ہزار ہے جبکہ جن افراد کی باقاعدہ رجسٹریشن ہوئی ہے ان کی تعداد ڈھائی ہزار ہے'بی بی سی کے مطابق لاپتہ طالب علم رہنما ذاکر مجید بلوچ کی بہن کا کہنا تھا کہ 'میرا بھائی 4سال سے جو اذیت سہہ رہا ہے اور میری ماں اس کے انتظار میں جو اذیت سہہ رہی ہے اس کے مقابلے میں کراچی تک پیدل مارچ کی مشقت کی کوئی حیثیت نہیں۔

مقبول خبریں