معیشت کی زبوں حالی
رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران عبوری ریونیو شارٹ فال 211 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے
پاکستان کی معاشی اور اقتصادی مشکلات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ موجودہ حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے' اس وقت سے لے کر اب تک حکومتی زعما معیشت کی بدحالی اور کرپشن کی ہی گردان کرتے چلے آ رہے ہیں البتہ اب وزیراعظم عمران خان قوم کو یہ امید دلا رہے ہیں کہ مشکل حالات پر قابو پا لیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں صورت حال بہتر ہو جائے گی ۔
اس امید افزا اعلان پر ظاہر ہے کہ اطمینان کا اظہار ہی کیاجا سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو بقول ان کے ملکی معیشت تباہ ہو چکی تھی اور سابق حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کا دیوالیہ نکال دیا تھا۔ حد سے زیادہ قرضے لیے گئے جس کی وجہ سے برسر اقتدار عمران خان حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ادھر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں یہ ایک روایت چلی آ رہی ہے کہ آنے والی حکومت تمام خرابیوں کا ذمے دار ماضی کی حکومت کو قرار دیتی ہے۔ بہرحال جو بھی حکومت عنان اقتدار سنبھالے تو اس کی اولین ترجیح معیشت کو سنبھالنا اور ملک میں انتظامی نظم و نسق کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آ کر ٹیکس نیٹ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے سخت اقدامات کیے 'حکومت کے یہ ٹیکس وصولی کے طریقہ کار اور ٹیکس قوانین کی وجہ سے کاروباری طبقے میں خاصی پریشانی پیدا ہوئی جو کہ کسی نہ کسی شکل میں تا حال جاری ہے۔ ادھر ایک خبر کے مطابق نومبر کے لیے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 30 ارب 42 کروڑ روپے کی کمی ہوئی ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران عبوری ریونیو شارٹ فال 211 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جس میں صرف نومبر کے دوران 47 ارب روپے کا عبوری ریونیو شارٹ فال آیا تاہم چیئرمین ایف بی آر کے ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر کے دوران مجموعی طور پر 334 ارب روپے ٹیکس کی وصولیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔ ادھر ایک دوسری خبر میں یہ بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے قرضوں پر سود کی ادائیگی اور ملکی دفاع کی مد میں میں رواں مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں 814 ارب روپے خرچ کیے۔ یوں دیکھا جائے تو ملک کی مالیاتی پوزیشن کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔
پاکستان میں معاشی پالیسیوں میں ہمیشہ نقائص رہے ہیں۔ ہر حکومت نے ڈنگ ٹپاؤ معاشی پالیسیاں اختیار کیں اور اپنا کام چلایا ۔ اس پالیسی کی وجہ سے جب کوئی نئی حکومت اقتدار میں آتی ہے تو اسے مسائل کا پہاڑ ورثے میں مل جاتا ہے۔ پھر یہ حکومت بھی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی ہی کے تحت کام کرتی ہے اور مسائل کا انبار آنے والی حکومت کے لیے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔
پاکستان کے اکنامک مینیجرز نے کبھی ملک کے حقیقی وسائل کو سامنے رکھ کر پالیسی نہیں بنائی۔ یہ بھی نہیں دیکھا گیا کہ پاکستان کا اصل معاشی پوٹینشل کن کن شعبوں میں موجود ہے۔ کاغذات میں اور معاشی ماہرین کی تقریروں میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک زرعی معیشت کا حامل ملک ہے۔ یہ باتیں حقیقت بھی ہیں، آج بھی پاکستان میں تقریباً 70 فیصد لوگ کسی نہ کسی طرح دیہی معیشت سے وابستہ ہیں۔ اس کے باوجود گراس روٹ لیول پر جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی فی ایکڑ پیداوار انتہائی کم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم رقبہ کے حامل زمینداروں کے لیے زیادہ مراعات نہیں ہیں۔
بارانی علاقوں میں جہاں فصلوں کا دارومدار بارشوں یا ٹیوب ویل پر ہوتا ہے ' ان کی مالی مشکلات نہری زمین کے حامل کاشتکاروں سے زیادہ ہوتی ہیں جن زمینداروں نے ٹیوب ویل لگا رکھے ہیں ' انھیں بھاری بجلی کے بل ادا کرنا پڑتے ہیں۔ اگر کسی نے پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والے چھوٹے ٹیوب ویل لگائے ہیں ان کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ بیج ' کھاد اور زرعی ادویات بہت مہنگی ہیں، ان وجوہات کی بنا پر چھوٹا کسان اپنے اخراجات پورے نہیں کر سکتا۔ اس کی فصل کو شہروں میں منڈی کے آڑھتی اونے پونے خرید لیتے ہیں ۔ اس صورت حال پر ہمارے اکنامک مینیجرز نے کبھی کوئی منصوبہ سازی نہیں کی۔ ایگری بزنس کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو یہاں خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔
مویشی پالنے والے کسانوں کو بھی حکومت کی جانب سے کچھ نہیں ملتا۔ زرعی بینکوں کے قرضے بڑے بڑے رقبوں کے مالک جاگیردار حاصل کر لیتے ہیں جب کہ چھوٹے کاشتکارکے لیے مویشی پالنا بھی خاصے خرچے کا کام بن گیا۔ پاکستان کے اکنامک مینیجرز اگر زرعی شعبے اور چھوٹے کسانوں پر توجہ دیتے اور ان کے حق میں پالیسیاں بناتے تو آج پاکستان میں سبزیاں مہنگی ہوتیں اور نہ ہی دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا۔ صنعتی پالیسی میں بھی بہت مشکلات ہیں۔ اگر کوئی سرمایہ کار کوئی فیکٹری لگانا چاہتا ہے تو اس کی راہ میں بھی بے شمار بیوروکریٹک رکاوٹیں حائل ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں کے اہلکار کاروباری افراد کو تنگ کرنے سے باز نہیں آتے۔ ادھر ٹیکس قوانین کی پیچیدگیاں بہت زیادہ ہیں۔ حکومت کا ٹیکس گزاروں کے ساتھ رویہ توہین آمیز ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں بھی مانند پڑ رہی ہیں اور ٹیکس کے اہداف بھی حاصل نہیں ہوتے۔ سرکاری اداروں کے افسروں اور اہلکاروں کی کرپشن کا راستہ بھی پیچیدہ اور یکطرفہ قوانین کے ذریعے کھلتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی ضروریات 'مقامی ماحول' مقامی ثقافت اور پوٹینشل کو سامنے رکھ کر پالیسیاں تشکیل دے۔ زراعت کو ترقی دینے کے لیے کثیر الجہتی پالیسی اختیار کی جائے۔ مویشی پالنا بھی زرعی معیشت کا اہم حصہ ہے' اس کے ساتھ ساتھ درخت بھی دیہی معیشت کا اہم حصہ ہوتے ہیں' حکومت کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ گلہ بانی اور درخت اگانے کے لیے بھی کسانوں کی مدد کرے۔
اس طرح کسان خوشحال ہو جائے گا۔ دوسری جانب ٹیکس قوانین کو سادہ بنایا جائے اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کو کم سے کم کیا جائے۔ حکومت معیشت پر بے جا قوانین نافذ کرے گی تو اس سے پیچیدگی ہو گی۔ صنعتکاروں کے لیے ون ونڈو آپریشن شروع کیا جائے' پوری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر کسی نے کارخانہ لگانا ہے تو اسے ایک ہی جگہ سے ہر قسم کی منظوری حاصل ہونی چاہیے۔ اسی طرح شہروں میں ریٹیلرز اور دیگر کاروباری افراد کے لیے بھی آسانیاں پیدا کی جائیں۔ اس طریقے سے ملکی معیشت میں بہتری آئے گی اور روز گار کے مواقعے پیدا ہوں گے۔