تاجر اتحادکا آج ’انکم ٹیکس اصلاحات کانفرنس بلانے کا اعلان

پیچیدہ انکم ٹیکس قوانین پرغورکیلیے مارکیٹ نمائندوں اورماہرین کو شرکت کی دعوت


Business Reporter October 28, 2013
کانفرنس میں حکومت کی جانب سے متنازع ٹیکس قوانین برقرار رکھنے اور اس کے جبری نفاذ کی صورت میں احتجاجی لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔ فوٹو: فائل

آل کراچی تاجر اتحاد نے انکم ٹیکس کے پیچیدہ اور متنازع قوانین کی اصلاح، تجاویزاور ٹیکس دہندگان کی مشاورت کے حصول کے لیے منگل سہ پہر 3 بجے آرام باغ فرنیچر مارکیٹ میں''انکم ٹیکس اصلاحات کانفرنس'' منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کانفرنس میں انکم ٹیکس کے پیچیدہ اور متنازع قوانین پر غور و خوض کے لیے مارکیٹس کے نمائندگان اور ٹیکس ماہرین کو بھی دعوت دی گئی ہے، کانفرنس میں حکومت کی جانب سے متنازع ٹیکس قوانین برقرار رکھنے اور اس کے جبری نفاذ کی صورت میں احتجاجی لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے انکم ٹیکس اصلاحات کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ چند سال سے انکم ٹیکس سسٹم میں کی جانے والی ناقابلِ قبول اور متنازع تبدیلیوں کے باعث ملک بھر کے تاجروں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

ٹیکسوں کی شرح میں بے پناہ اضافہ، ٹیکس گزار کے خلاف جرمانے، وضاحتیں، تفصیلات، تفتیش اور جانچ پڑتال کے سخت ترین طریقہ کار کے نتیجے میں 3 سال کے دوران ٹیکس نیٹ سے راہ فرار اختیار کرنے والے ٹیکس گزاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ملک کی تمام بڑی اور قابلِ ذکر تاجر تنظیموں نے انکم ٹیکس کے موجودہ نظام کو ناقابلِ عمل قرار دے کر مسترد کردیا ہے جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وزارت خزانہ حقائق اور حالات کی حساسیت کو سمجھنے اور پیچیدہ ٹیکس قوانین کی اصلاح کرنے کے بجائے گوشوارے داخل کرنے کی تاریخ میں مسلسل توسیع پر اکتفا کررہے ہیں۔



انھوں نے کہا کہ انکم ٹیکس کا تبدیل شدہ سسٹم ملکی سطح پر متنازع ہوچکا، اصلاح نہ کی گئی تو رواں سال انکم ٹیکس کے گوشوارے داخل نہ کرنے والوں کی تعداد میں ریکارڈ ساز اضافہ ہوگا جس سے ملک شدید مالیاتی بحران کا شکار ہوجائیگا، ڈائریکٹ ٹیکس سسٹم تباہی سے دوچارہے اور اس میں اصلاحات ناگزیر ہیں، ملک کو مالیاتی بحران سے نکالنے اور قابلِ عمل ٹیکس پالیسیاں وضع کرنے کے لیے معیشت دانوں، تاجروں اور صنعت کار نمائندوں پر مشتمل معاشی کانفرنس بلائی جائے۔

انھوں نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے ذمے داران سے خصوصی اپیل کی کہ مالیاتی نظام کی تباہ کن صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس دہندگان سے تصادم کے بجائے ماضی میں پیش کی گئیں قابلِ قبول پالیسیوں کے مطابق آسان اور تاجر دوست ٹیکس نظام متعارف کرایا جائے۔ انھوں نے کہاکہ تاجر نمائندگان کی مشاورت اور افہام و تفہیم سے وضع کی گئیں ٹیکس پالیسیوں کی صورت میں تاجر طبقہ ٹیکس کلچر کے فروغ کے لیے حکومت سے مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔