روسی منڈی ہاتھ سے نکلنے کا خدشہ فروٹ ایکسپورٹرز کا برآمدات کیلیے ماسکو سے عبوری اجازت لینے پر زور

ایسوسی ایشن کے مطابق روسی پابندی کے نتیجے میں پاکستان کی 17کروڑ ڈالر کی منڈی حریف تجارتی ملکوں کے ہاتھ لگ جائیگی


Business Reporter October 28, 2013
ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین وحید احمد کے مطابق مذکورہ 12کمپنیاں روس کو کی جانے والی برآمدات میں 80فیصد کی حصہ دار ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل

آل پاکستان فروٹ اینڈویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ پر زور دیا ہے کہ روس کی جانب سے پاکستانی زرعی مصنوعات پر عائد پابندی ختم ہونے تک روسی قرنطینہ کی جانب سے پاکستان میں منظور شدہ کمپنیوں کے لیے ایکسپورٹ کی عبوری اجازت حاصل کی جائے۔

مزید فیکٹریوں کو بھی روسی قرنطینہ سے منظور کرایا جائے تاکہ روسی منڈی مکمل طور پر حریف تجارتی ملکوں کے ہاتھ لگنے سے روکتے ہوئے قیمتی زرمبادلہ کے نقصان کو کم کیا جا سکے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ تجاویز وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سے اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے دوران دی گئیں۔ وفاقی وزیر سے ملاقات کرنے والے ایسوسی ایشن کے وفد کے اراکین نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ روسی قرنطینہ حکام نے 6 سال قبل پاکستان کی 12فروٹ پراسیسنگ فیکٹریوں کا باریک بینی سے معائنہ کرکے انہیں روسی قرنطینہ اصولوں کے مطابق قرار دیتے ہوئے روس کے لیے برآمدات کی اجازت دی تھی، بعد ازاں حکومت پاکستان نے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے مزید2 فیکٹریوں کو روسی معیار کے مطابق قرار دیا۔

ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین وحید احمد کے مطابق مذکورہ 12کمپنیاں روس کو کی جانے والی برآمدات میں 80فیصد کی حصہ دار ہیں، یہ فیکٹریاں روس کے علاوہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے قرنطینہ اصولوں پر بھی پورا اترتی ہیں اور ان فیکٹریوں کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی گئی ہے۔



ایسوسی ایشن کے مطابق روسی پابندی کے نتیجے میں پاکستان کی 17کروڑ ڈالر کی منڈی حریف تجارتی ملکوں کے ہاتھ لگ جائیگی اور سیزن نکل جانے کے بعد پابندی کے خاتمے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسوسی ایشن نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ عبوری آپشن کے طور پر روسی حکام سے پاکستان میں منظورہ شدہ فیکٹریوں کی برآمدات کو جاری رکھنے کی اجازت حاصل کی جائے ۔

تاکہ پاکستان روسی منڈی سے مکمل طور پر باہر نہ رہے، اس دوران روسی حکام کی جانب سے پاکستانی قرنطینہ نظام کے بارے میں اٹھائے گئے خدشات کو دور کیا جائے، مزید فیکٹریوں کی روسی قرنطینہ سے منظوری کا عمل بھی جاری رکھا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ فیکٹریاں روس کوایکسپورٹ کرسکیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق روسی قرنطینہ حکام کے اعتراضات دور کرنے کے دوران پاکستان سے کینو کی ایکسپورٹ کا سیزن گزر جائے گا، روس پاکستانی کینو کی سب سے بڑی منڈی ہے اور روس کو ایکسپورٹ کیا جانے والا کینو کسی دوسرے ملک کو ایکسپورٹ نہیں کیا جاتا، روس کو چھوٹے سائز کا کینو ایکسپورٹ ہوتا ہے اس سال روس کو کینو ایکسپورٹ نہ ہوا تو پاکستان میں ایکسپورٹرز کے ساتھ کاشتکار اور کینو کی صنعت سے جڑے لاکھوں لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کینو کی برآمدات کا آغاز ایک ماہ بعد ہوجائے گا، ایکسپورٹ کے لیے کم از کم ایک ماہ قبل تیاریاں مکمل کرنا ہوتی ہیں، روسی پابندی کی وجہ سے خود روسی امپورٹرز بھی شش و پنج میں مبتلا ہیں اور ابھی تک ایکسپورٹ کے آرڈرز نہیں دیے گئے، دوسری جانب روس کے لیے شپنگ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی تذبذب کا شکار ہیں، بعض شپنگ کمپنیاں خصوصی طور پر روس کے لیے سروس فراہم کرتی ہیں اور ابھی تک روس کے لیے خالی کنٹینرز کا بھی بندوبست نہیں کیا جاسکا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق روس کی منڈی میں پاکستان کا حصہ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر 12منظورہ شدہ کمپنیوں کے لیے ایکسپورٹ کے عبوری اجازت نامے حاصل کیے جائیں بصورت دیگر روس کی منڈی پر حریف تجارتی ملکوں کا غلبہ ہو جائے گا۔