پہلی سہ ماہی میں سونادرآمدہی نہیں کیا جیولری ایسوسی ایشن

برآمدی زیورات درآمدی نہیں بیرونی خریدارکے فراہم کردہ سونے سے تیارکیے جاتے ہیں


Business Reporter October 28, 2013
ایسوسی ایشن کے چیئرمین حبیب الرحمن نے وضاحت کرتے ہوئے ادارہ شماریات پاکستان کی مذکورہ خبرکومن گھڑت اورجیولری مینوفیکچررز کے خلاف سازش کے مترادف قراردیا۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

آل پاکستان جیمز مرچنٹس اینڈجیولری ایسوسی ایشن نے ادارہ شماریات پاکستان کے حوالے سے شائع ہونے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ پاکستان میں سونے کی درآمدات میں 380 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین حبیب الرحمن نے وضاحت کرتے ہوئے ادارہ شماریات پاکستان کی مذکورہ خبرکومن گھڑت اورجیولری مینوفیکچررز کے خلاف سازش کے مترادف قراردیا اور کہا کہ ادارہ شماریات کی رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی (جولائی تاستمبر) کے دوران ملک میں سونے کی درآمدات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں سونا ہی امپورٹ نہیں کیا گیا، ایکسپورٹرزنے جوسونے کے زیورات ایکسپورٹ کیے ہیں وہ اس سونے سے تیار کیے جاتے ہیں۔



جوغیرملکی خریدار ایڈوانس سونے کی شکل میں ایکسپورٹرز کوفراہم کرتے ہیں لہٰذا اس نوعیت کا ملک میں لایاجانے والا سونا کسی بھی صورت میں درآمدشدہ سونا نہیں کہا جائے گا اور اس قسم کے سونے کو ملک میں لانے پر ایک ڈالر کا بھی زرمبادلہ خرچ نہیں ہوتا کیونکہ یہ سونا غیرملکی خریدارکا ہوتا ہے۔ حبیب الرحمن نے کہاکہ اس قسم کی منفی خبروں سے اصل حقائق کوچھپایانہیں جاسکتا جبکہ ردعمل کے طورپرپاکستانی زیورات کی برآمدات بری طرح متاثرہوتی ہیں۔