بنگلہ دیش اپوزیشن کی ہڑتال مظاہرے جاری مزید4ہلاک200زخمی

مرنے والوں میں حکمراں جماعت کا ایک کارکن بھی شامل، 4 روز میں ہلاکتیں 16ہوگئیں


News Agencies/AFP October 29, 2013
اپوزیشن کی اس ہڑتال کا مقصد وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو مجبور کرنا ہے کہ وہ سربراہ حکومت کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں ۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

KARACHI: بنگلہ دیش میں اپوزیشن کی ملک گیر ہڑتال کے دوسرے دن پیر کو ہونے والی جھڑپوں میں مزید 4 افراد ہلاک اور200 زخمی ہوگئے۔

اپوزیشن کی اس ہڑتال کا مقصد وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو مجبور کرنا ہے کہ وہ سربراہ حکومت کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں اور اگلے عام انتخابات ایک غیر جانبدار نگراں حکومت کرائے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق پورے ملک میں سڑکوں اور گلیوں میں اپوزیشن اور حکومتی جماعت کے ہزاروں کارکنوں کے درمیان جھڑپیں اور لڑائیاں ہوئیں۔ مغربی ہرینہ کندو قصبے میں ہونیوالے ایک بم دھماکے میں مقامی اپوزیشن رہنما ہلاک ہوگیا، دیگر علاقوں میں بھی حزب اختلاف کے 2 کارکن مارے گئے۔ جنوب مشرقی بنگلہ دیش میں ستکانیا کے ساحلی قصبے میں ہڑتال کے دوران ایک ٹرک ڈرائیور کواینٹیں مار مار کر ہلاک کردیا گیا۔



فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق پیرکو ہڑتال کے دوران جھڑپوں میں مارے جانے والے 2 مظاہرین کی موت ملک کے شمال اور جنوب مشرق میں ہوئی۔ پولیس کے مطابق پیرکو جو مظاہرین مارے گئے ان میں سے ایک حکمراں عوامی لیگ کا حامی تھا۔ اس طرح بنگلہ دیش میں گزشتہ جمعے سے اب تک سیاسی بدامنی میں ہلاک ہونیوالے افراد کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ مظاہرین نے مختلف شہروں اور قصبوں میں احتجاج کے دوران سڑکیں بلاک کردیں، خام تیل کے بم چلائے اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر حملے کیے، مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ربڑ کی گولیاں چلائیں، مظاہروں کے باعث ملک میں تعلیمی اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا۔