وزیر اعظم کا دورہ امریکا

بھارت سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھی پاکستان کوبھارت سے براہِ راست مذاکرات کرنے چاہئیں۔


Dr Tauseef Ahmed Khan October 30, 2013
[email protected]

وزیراعظم نواز شریف ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، ڈرون حملوں کو رکوانے اور بھارت کو کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کے لیے دباؤ ڈلوانے کے نعروں کی گونج میں امریکا گئے۔ صدر اوباما سے کامیاب مذاکرات کی بازگشت میں واپس آگئے۔ مگر اب دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بین الاقوامی ذرایع ابلاغ کی زینت بننے کے بعد حقائق کچھ اور ظاہر کررہے ہیں۔ اخبارات میں واشنگٹن سے آنے والی اطلاعات سے واضح ہوتا ہے کہ صدر اوباما ڈرون حملوں کے خاتمے کے بارے میں حتمی رائے دینے پر آمادہ نہیں ہوئے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ کسی سطح پر زیرِ بحث نہیں آیا۔ امریکی حکومت کو کالعدم لشکر طیبہ کی سرگرمیوں پر سخت تشویش ہے۔ امریکی کہتے ہیں کہ ممبئی میں دہشت گردی کے واقعے میں حافظ سعید کے ملوث ہونے کے بارے میں خاصے ثبوت موجود ہیں اس لیے حافظ سعید کو بھارت کے حوالے کرنا چاہیے۔

اسی طرح بھارت سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھی پاکستان کوبھارت سے براہِ راست مذاکرات کرنے چاہئیں۔اسی طرح امریکی ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کو بھی ضرور ی سمجھتے ہیں۔ امریکی حکومت کا یہ مؤقف ریاستی اداروں کی پالیسی بنانے والوں کے لیے سمجھ سے بالاتر ہے۔ یوں میاں صاحب کے دورے کو ناکامی کے زمرے میں ڈالا جارہا ہے۔ امریکا اور پاکستان کے تعلقات قدیم ہیں۔ ان تعلقات کا آغاز قائد اعظم کی زندگی سے شروع ہوتا ہے۔ قائد اعظم نے 11 اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں اپنی پہلی پالیسی تقریر میں امریکا کا شکریہ ادا کیا تھا۔ جناح صاحب نے امریکی حکومت سے نئی ریاست کے لیے قرضے کی درخواست بھی کی تھی۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سب سے پہلے امریکا گئے تھے اور سوویت یونین کے دورے کی دعوت مسترد کردی تھی۔ پاکستان 50 کی دھائی میں معاہدہ بغداد پر دستخط کر کے امریکا کے اتحادی ممالک میں شامل ہوگیا تھا۔ امریکا نے سرد جنگ کے زمانے میں فوجی آمروں کو اپنے مفادات کے لیے بہتر جانا تھا جب کہ غلام محمد، اسکندر مرزا، جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق کی امریکا نے مکمل طور پر سرپرستی کی تھی۔

سرد جنگ کے دور میں امریکا کو پاکستان میں جمہوری نظام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ امریکی ایک فوجی جنرل سے معاملات کو طے کرنا زیادہ آسان سمجھتے تھے۔ مگر سرد جنگ کے خاتمے پر امریکی پالیسی ساز اداروں کو پاکستان میں جمہوری نظام کی اہمیت کا احساس ہونا شروع ہوگیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک نے امریکی موقف میں تبدیلی پیدا کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی حکومت نے اپنے پسندیدہ فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کو سویلین نظامِ حکومت کے قیام کے لیے راغب کیا تھا اور سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت نے جمہوریت کے استحکام کے منصوبے کی بھرپور حمایت کی تھی۔ امریکی حکومت 1988 سے 1999 تک پاکستان میں جمہوری حکومتوں کے حق میں رہی۔ جب جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف حکومت کو برطرف کیا تو صدر کلنٹن نے ان کی رہائی کے لیے خصوصی کوششیں کیں۔

صدر کلنٹن کے دباؤ پر سعودی بادشاہ شاہ فہد نے میاں نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کی رہائی کے لیے جنرل پرویز مشرف پر دبائو ڈالا تھا۔ جنرل پرویز مشرف امریکی دباؤ پر 2002 میں 1973 کا آئین بحال کرنے پر تیار ہوئے۔ امریکی حکومت نے صدر زرداری کے دورِ حکومت میں کانگریس سے کیری لوگر بل نافذ کرا کے فوج کے اقتدا رسنبھالنے کے راستے کو بند کردیا تھا۔ امریکی پالیسی ساز اداروں کے اراکین کا یہ خیال تھا کہ جمہوری حکومتیں انتہاپسندی کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ یوں امریکی حکمراں صدر زرداری کے دورِ حکومت سے توقع رکھ رہے تھے کہ جمہوری حکومت انتہاپسندوں کو محدود کرنے کے لیے خاطرخواہ اقدامات کرے گی۔ مگر پیپلز پارٹی کی کمزور حکومت کے رویے کی بناء پر امریکا کے اعتدال پسند حلقوں کو مایوسی ہوئی تھی، خاص طور پر ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی امریکا کے لیے خاصی تشویش کا باعث بنی۔

11 مئی 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگی حکومت کی کامیابی کا امریکا نے بھرپور خیر مقدم کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے امریکا پہنچتے ہی امریکا نے فوجی امداد بحال کردی تھی تاہم امریکا انتہاپسندوں کے خاتمے اور افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کے قیام، خاص طور پر 2014 میں امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی کے بعد خطے میں امن کے حوالے سے خاصا سنجیدہ ہے۔ صدر اوباما نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران مجموعی طور پر انتہا پسندی کے تدار ک کے اقدامات پر زور دیا۔ امریکی اہلکاروں کا جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرنے اور بھارت سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کے بارے میں براہِ راست بات چیت کے مشوروں کا مقصد انتہاپسندوں کے خلاف سخت پالیسی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

ڈرون حملے جاری رکھنے کا معاملہ اورانتہاپسندی کا معاملہ بھی انتہاپسندوں کی کمین گاہوں کے خاتمے اور سرحد پار طالبان کی کارروائیوں کی روک تھام سے منسلک ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے کارگل میں محاذ آرائی کر کے بھارت کو امریکا کے قریب کردیا جس کے بعد بھارت اور امریکا کے درمیان سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون شروع ہوا۔ ممبئی کے دہشت گردی کے واقعے کے بعد امریکا نے ہندوستان کی پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈوں کے بارے میں ڈاکٹرائن کو قبول کیا۔ اب امریکا بھارت کے اس مؤقف سے متفق ہے کہ پاکستان کو بھارت سے براہِ راست بات چیت کرنی چاہیے۔ صدر اوباما بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں مگر امریکا کی یہ پالیسی مقتدرہ قوتوں کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکی فوجی امداد ہی پاکستانی مسلح افواج کو متحرک رکھتی ہے۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف صدر اوباما سے انتہا پسندی کے ایجنڈے پر متفق ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نیو یارک ٹائم نے ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے لیے میاں صاحب کے اتفاق کے بارے میں خبر شایع کی ہے۔مگر عسکری مقتدرہ نے وزیر اعظم کے دورے سے قبل اپنا ایجنڈا الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے نشر کرایا یوں ملک میں ایک جذباتی فضا پیدا کی گئی۔ دانائی کا تقاضہ ہے کہ نائن الیون کے بعد نئی دنیا کے رجحانات کو سنجیدگی سے لیا جائے، ملک میں انتہاپسندی اور غیر ریاستی کرداروں کی حوصلہ شکنی کی جائے، بھارت سے براہِ راست بات چیت کی جائے، کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں پر چھوڑ دیا جائے اور ملک میں غربت و افلاس کے خاتمے ، تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے دنیا بھر سے مددلی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ہر سطح پر شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ امریکا، روس، چین اور مغربی ممالک ملک کی ترقی اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے مدد دینے کو تیار ہیں۔ پالیسی ساز اداروں کو اپنی سوچ کو تبدیل کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں جدید پاکستان کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوگا۔

مقبول خبریں