لاپتہ افراد کے مقدمے میں حساس اداروں نے کبھی سچ نہیں بولا سپریم کورٹ

حکومت بے بس ہے توخودتلاش نہیں کرسکتے،جسٹس اعجازافضل،لاپتہ خیرالرحمان کا والد پھوٹ پھوٹ کررودیا


Numainda Express October 30, 2013
ایجنسیوں کے اہلکار سپریم کورٹ میں پیش ہوکرجھوٹ بولتے ہیں،سپریم کورٹ۔ فوٹو: فائل

لاپتہ افرادکی بازیابی ریاست اور ریاستی اداروں کی ذمے داری ہے، اگر ریاست اور حکومت بے بس ہے اور ذمے داروں پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا توعدالت خود اٹھ کر انھیں تلاش نہیں کرسکتی ۔

پشاور سے لاپتہ خیرالرحمان کے کیس میں جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ استغاثہ عدالت کو حقائق فراہم کرتا ہے جب عدالت سے جھوٹ بولا جائے گا تو پھرعدالت خود جا کرکسی کو تلاش نہیں کرسکتی،لاپتہ افرادکا معاملہ خراب سے خراب تر ہوتا جا رہا ہے،ایجنسیوں نے اس بارے میں ہمیشہ غلط بیانی سے کام لیا ہے، ایجنسیوں کے اہلکار سپریم کورٹ میں پیش ہوکرجھوٹ بولتے ہیں، جن افرادکے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایجنسیوں کے پاس نہیں ہیں وہ بعد میں ایجنسیوں سے بازیاب ہوئے۔فاضل جج نے کہا کہ اگرحکومت اور پولیس بے بس ہے توپھرعدالت ہوا میں تیر نہیں چلا سکتی۔

عدالت کے سامنے ٹھوس حقائق اور اصل صورتحال نہ ہو تو لاپتہ افرادکے بارے میں عدالت کی ساری مشق بیکار ہوگی۔بینچ کے سربراہ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم لاپتہ لوگوں کے لواحقین کا دکھ سمجھتے ہیں لیکن اس معاملے میں جب تک اٹھانے والوں کو سزا کا خوف نہ ہوکچھ نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے اس کیس میں نامزد پولیس انسپکٹر ارشد پر فرد جرم عائدکرنے اور ان کا ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔اسلام آباد پولیس کے لاپتہ انسپکٹر رانا پرویزاختر اورکانسٹیبل اظہرمحمودکے معاملے میں عدالت نے انسپکٹر جنرل اسلام آباد کوطلب کرلیا اور ایس ایس پی آپریشن کو 7 دن کے اندر جامع رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔



جسٹس اعجاز احمد چوہدری اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل بینچ نے اظہر محمودکے والد بشیرکی درخواست پر سماعت کی ۔ایس ایس پی آپریشن نے بتایا کہ انسپکٹر پرویزاختر پراپرٹی کا کاروبارکرتا تھا اورلاپتہ ہونے کے روزکانسٹیبل بھی ساتھ تھا ۔آن لائن کے مطابق خیرالرحمان کیس میں جسٹس ثاقب نثار نے کہا لاپتہ افراد کا معاملہ محض عدالتوں میں کیس سننے سے حل نہیں ہوگا،اس کاٹھوس حل چاہتے ہیں۔جسٹس اعجازافضل نے کہالاپتہ افرادکے مقدمات میں حساس اداروں نے کبھی سچ نہیں بولا،حساس اداروں کے افسران کیخلاف کارروائی کرنے سے پولیس افسران کے پر جلتے ہیں ۔

خیرالرحمان کے والد نے عدالت میں اپنا گریبان تار تارکردیا اور منہ پر طمانچے مارے ،اس نے کہا عدالت پولیس کو حکم دے کہ وہ مجھے گولی ماردے۔اس موقع پروہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑااورپوری عدالت سوگوار ہوگئی۔ عدالت نے مزید سماعت11 نومبر تک ملتوی کرکے آئی جی اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کوطلب کرلیا۔