غیر قانونی رکشوں کیخلاف کارروائیدرجنوں گاڑیاں تھانوں میں بند

ٹریفک پولیس سیکشن لطیف آباد نے مسافروں سے بھرے رکشے روک کر روٹ پرمٹ و فٹنس اورکاغذات چیک کیے ، متعدد کے چالان


Numainda Express October 31, 2013
ٹریفک پولیس سیکشن لطیف آباد نے مسافروں سے بھرے رکشے روک کر روٹ پرمٹ و فٹنس اورکاغذات چیک کیے ، متعدد کے چالان

ٹریفک پولیس سیکشن لطیف آبادنے بغیر روٹ پرمٹ، فٹنس اور کاغذات چلنے والے رکشوں کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے درجنوں کے چالان کرتے ہوئے تحویل میں لے کر مختلف تھانوں میں بند کر دیے۔

جنہیں بعد ازاں مبینہ طور پر معاملات طے ہو جانے پر چھوڑ دیا گیا، چیکنگ کے باعث رکشا ڈرائیور ٹریفک سیکشن کے قریب سے گزرنے سے گریز کرتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک محتاط اندازے کے مطابق حیدرآباد ضلع میں تقریباً 7 ہزار سی این جی اور ایل پی جی رکشے رواںدواں ہیں۔ ٹریفک پولیس سیکشن لطیف آباد پونے7 کے اہلکاروں نے روٹ پرمٹ، فٹنس اور کاغذات نہ رکھنے پرکارروائی کرتے ہوئے مسافروں سے بھرے درجنوں رکشوں کو روک کر چالان کر دیا۔ چیکنگ کی وجہ سے رکشوں میں سوار شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے باعث مسافروں اور ٹریفک پولیس اہلکاروں کے مابین تلخ کلامی کے واقعات بھی رونما ہوئے۔



ٹریفک پولیس اہلکاروں نے روٹ پرمٹ، فٹنس اور کاغذات کے بغیر چلنے والے درجنوں رکشے تحویل میں بھی لیے لیے، جنہیں مختلف تھانوں میں بند کر دیا گیا ، کارروائی کے دوران کئی رکشے جمع ہونے جانے کے باعث ٹریفک کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ ٹریفک پولیس اور رکشہ ڈرائیور دن بھر الجھتے رہے۔ کئی رکشہ ڈرائیوروں نے الزام لگایا کہ کاغذات مکمل ہونے کے باوجود ان کا چالان کر دیا گیا۔

جبکہ کئی ڈرائیوروں کا یہ بھی کہنا تھاکہ کئی گھنٹے کھڑے رکھنے کے بعد 5 سو روپے فی کس لے کر رکشوں کو چھوڑا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر روٹ پر رکشہ چلانے کے عوض پہلے ہی ٹریفک پولیس کو طے شدہ رقم ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے پولیس ترجمان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ علاوہ ازیں انسان دوست فاؤنڈیشن کے چیئرمین نعیم نورانی، جنرل سیکریٹری عارف قائمخانی نے ایک بیان میں آئی جی سندھ، سیکریٹری داخلہ، کمشنر حیدرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس سیکشن لطیف آباد پونے7 کے اہلکاروں کی رکشہ ڈرائیوروں سے زیادتی اور رشوت خوری کا نوٹس لیا جائے۔