بڑے نیب کیسزکی تحقیقات کیلیے مشترکہ کمیٹی بنانے کافیصلہ
احتساب کے عمل میں کسی کے سابق یاموجودہ عہدوں کالحاظ نہیں کیاجائیگا،چیئرمین نیب
چیئرمین نیب چوہدری قمرزمان کی صدارت میں نیب کے اجلاس میں تمام بڑے زیر تفتیش کیسزکی مزیدتحقیقات کیلیے مشتر کہ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کافیصلہ کیاگیاہے۔
چیئرمین نے کہاہے کہ نیب میں احتساب کے عمل میں کسی کے سابق یاموجودہ عہدوںکالحاظ نہیں کیاجائیگا،کسی کی ذاتی پسنداوروفاداری کی سوچ سے نکل کراحتساب میرٹ پرکیا جائے گا،یہ نہیں دیکھاجائیگاکہ کون کیاہے اور کیاتھا،نیب نے بلا تخصیص احتساب کی پالیسی اختیار کی ہے۔چیئرمین نے 3سال پرانے کیسز کے جائزے کیلیے بنائی گئی کمیٹی کوہدایت کی اپناکام جتناجلدہوسکے مکمل کرے اوررپورٹ آٗئندہ ایگزیکٹیوبورڈاجلاس میں پیش کی جائے۔

چیئرمین نیب نے لاہورہائیکورٹ کی جانب سے2روز قبل نیب کو دیے گئے نوٹس پر کہاہے کہ آئندہ سماعت پر نیب کی جانب سے سینئروکیل کو پیش کرنے کے انتظامات کیے جائیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کی عدم پیشی ان کے گھریلو مسائل کی وجہ سے ہوئی،ایک اہم کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرنے کے حوالے سے چیئرمین نیب نے کہا کہ اپیل دائر کرنے سے قطع نظرکیس کھولنے بندکرنے اور کا اختیار چیئرمین نیب کا ہے،اپیل دائرکرناآینی حق ہے لیکن کسی فرد کے خلاف بغیرکسی ٹھوس شواہد کے عدالتی چارہ جوئی پر توجہ دینے پرزور دینے سے گریز کی پالیسی اختیار کی جائے اس نوعیت کے کیسز متعلقہ ڈی جی کوبھیجے جائیں۔