فلمی صنعت بے حال ہےمستقبل تابناک ہونا چاہیے پرویز رشید

سنسرشپ کے لفظ کے حق میں نہیں،فخرعالم کی ٹودی پوائنٹ میںگفتگو


Monitoring Desk October 31, 2013
رعایت ملنی چاہیے،ندیم مانڈوی والا، سید نور اور ہمایوں سعیدکابھی اظہارخیال۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

KARACHI: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات پرویزرشید نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے فلمی صنعت کی بحالی کیلیے بڑاکام کیا ہے۔

سابق دورمیں پنجاب میں سنیماانڈسٹری کوٹیکس فری کردیا تھا۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میںانھوں نے کہا کہ فلمی صنعت کا حال بڑابے حال ہے تاہم مستقبل تابناک ہوناچاہیے۔ چیئر مین سندھ سنسربورڈ فخرعالم نے کہاکہ اویس مظفریقینا میرے دوست ہیں تاہم میںکام نہیں کروںگا تومجھے ہٹادیا جائے گا۔ سنسرشپ کے لفظ کے حق میںنہیں، یہ ڈریکولین لفظ ہے۔ ہم نے سمری بھیج دی ہے۔ سندھ فلم سنسر بورڈ کا نام تبدیل کرکے سندھ فلم سرٹیفکیشن اینڈڈویلپمینٹ اتھارٹی میںتبدیل کرینگے۔ انھوںنے کہاکہ کم بجٹ میں بھی اچھی فلم بن سکتی ہے۔ فلمی صنعت اپنی ناکامی پر خود بھی غور کرے کہ 700 سنیمااسکرینوں سے170تک کیوںپہنچے۔ ڈسٹری بیوٹرندیم مانڈوی والانے کہاکہ بھارت کی طرح پاکستان میںبھی فلمی صنعت کوترغیبات دی جانی چاہئیں۔ ٹیکسوںمیں رعایت ملنی چاہیے۔ خداکیلیے اوربول جیسی فلموں نے کروڑوں کمائے۔



چنائے ایکسپریس ساڑھے 3 ہزار اسکرینوں پر جبکہ پاکستانی فلم وار صرف34 اسکرینوں پر لگی لیکن اس کے باوجود ہٹ ہوئی۔ سیدنور نے کہاکہ 100 کروڑ کے سامنے 2کروڑ کی فلم لگانا مشکل ہے۔ بڑے بجٹ کی فلم بنائیںگے توبھارتی صنعت کا مقابلہ کرپائیں گے۔ خوشی ہے وارنے بھارتی اداکاراکشے کمار کی فلم باس کوشکست دی۔ چوڑیاں صر ف 55 لاکھ میں بنائی تھی۔ حکومت سنیما کو سپورٹ دے، عیدوںپر بھارتی فلمیں نہ لگائی جائیں۔ دنیا بھر میں اکیلی اسکرین والے سنیماٹوٹے تاہم ان کی جگہ ملٹی پلیکس بنے۔ یہاں پٹرول پمپ بن گئے۔ واراور میںہوں شاہدآفریدی فلمی صنعت کی بحالی کاآغاز ہے۔ ندیم مانڈوی والاکودیکھ کر 10 مزید ملٹی پلیکس بنے۔ اداکاراور فلمسازہمایوں سعیدنے کہاکہ دبنگ ٹو 80کروڑ میںبنی، پاکستانی فلم 5،6کروڑ میںبنے توکیا مقابلہ ہوگا۔ میںہوں شاہدآفریدی کی نمائش پرلوگوں نے کہاکہ ہم کئی برسوںبعد فلم دیکھنے آئے ہیںجس سے ڈسٹری بیوٹرکا اعتمادقائم ہواہے۔ میںاگلی فلم زیادہ آب وتاب سے بناؤںگا۔

مقبول خبریں