بھارت کے مسلمان مخالف شہریت بل کی مذمت

امریکی کمیشن کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل غلط سمت میں خطرناک قدم ہے۔


Editorial December 12, 2019
امریکی کمیشن کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل غلط سمت میں خطرناک قدم ہے۔ (فوٹو: فائل)

بھارت سیکولر مخالف دلدل میں پھنستا جارہا ہے اور مسلمان دشمنی اسے غلط سمت میں دیوانہ وار دھکیلے جانے لگی ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے جس میں بھارتی لوک سبھا میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر مبنی بھارتی شہریت کے متنازع ترمیمی بل کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے، سات ریاستوں میں ہڑتال رہی، شمال مشرقی ریاستوں آسام ، منی پور ، تریپورہ اور میگھالیہ میں 12 گھنٹے تک ہڑتال رہی اور آسام میں تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند جب کہ امتحانات ملتوی کردیئے گئے۔

دریں اثنا کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے انسانی حقوق کا عالمی دن یوم سیاہ کے طور پر منایا، مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی، اس موقع پر لاہور،اسلام آباد سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں اور مظاہرے ہوئے، کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر میں فوجی محاصرے اور سخت پابندیاں 128ویں روز بھی برقرار رہیں، حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے الگ الگ بیانات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا جائزہ لینے کے لیے اپنی ٹیمیں بھیجیں۔

بھارتی پولیس نے سکھ برادری کی نمایندہ تنظیموں دل خالصہ،شرومنی اکالی دل، اور سکھ اسٹوڈنٹس تنظیم کے سری نگر کی طرف مارچ کو روکنے کے لیے مارچ کے شرکا کو کولکھن پورہ، جموں ہائی وے پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کا نشانہ بنایا، بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت میں تعینات یورپین یونین کے نئے سفیر ایگواستوتو نے نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں پر تشویش ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت وادی میں کرفیو ختم، حالات معمول پر لائے۔ لیکن مودی حکومت کے اعصاب پر مخالف اقلیتوں سے انتقام اور مسلمان دشمنی کا بھوت سوار ہے اس لیے بھارتی حکومت اس دیوانگی کے نتائج کا بھی ادراک نہیں کررہی کہ اس کے غیر انسانی رویے کے باعث بھارت کے بانیان آئین کی روحیں بھی شرما رہی ہونگی۔

وزیراعظم عمران خان نے بھارتی لوک سبھا سے منظور ہونے والے متنازع شہریت کے بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مودی حکومت کی فسطائیت اور آر ایس ایس کے ہندو راشٹر نظریے کا حصہ ہے، عمران نے کہا کہ اس قانون کے تحت پاکستان،بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیرمسلموں کو تو شہریت دے دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں ، ٹویٹر پر بیان میں وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں 4 ماہ سے زائد عرصے پر محیط محاصرے کی بھی مذمت کی اورکہا کہ قابض بھارتی حکومت تمام انسانی، و بین الاقوامی قوانین کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں جوانوں،بچوں اورعورتوں کا بہیمانہ قتل عام بند کرے، عمران نے کہا کہ ہم حق خودارادیت کے لیے میدان میں ڈٹے ہوئے جری کشمیریوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور پوری ثابت قدمی سے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کے غیرمسلم باشندوں اور تارکین وطن کو بھارتی شہریت دینے سے متعلق بھارتی لوک سبھا میں حالیہ قانون سازی اقدام انسانی حقوق کے عالمی منشور اور ہر طرح کے امتیازات، مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصبات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی معاہدات کی کھلی خلاف ورزی ہے، امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا کو بھارتی وزیر داخلہ اور دیگرقیادت کے خلاف پابندیوں کی تجویز پیش کردی، امریکی کمیشن کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل غلط سمت میں خطرناک قدم ہے۔

مذہب کی بنیاد پرمسلمانوں کوبل میں شامل نہیں کیا گیا، ادھر مذکورہ بل پاس ہونے پر اپوزیشن جماعتوں کا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بل کو بھارتی آئین کے منافی قرار دے دیا، راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ اس بل کی حمایت کرنے والا ہر شخص بھارتی قوم کی بنیادوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے،بی جے پی کے اتحادی اکالی دل نے بھی بل میں مسلمان تارکین وطن کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کردیا،حیدر آباد سے لوک سبھا کے رکن اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے بل کی کاپی ایوان میں پھاڑ دی اور کہا کہ یہ بل ان رہنماؤں کی توہین ہے جنہوں نے اس ملک کو آزاد کرایا تھا۔ قومی اسمبلی نے بھی متنازع بھارتی شہریت بل کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی اور بھارتی لوک سبھا میں امتیازی ومتعصبانہ قانون سازی کی شدید مذمت کی ہے۔

وقت آگیا ہے کہ بھارت تیز ہواؤں کے رخ کا اندازہ کرے، کشمیری عوام کی جدوجہد کو سنگینوں، کرفیو اور بربریت کے ہتھکنڈوں سے کچلا نہیں جاسکتا۔ مودی کو بھارتی جمہوریت اور سیکولرازم کی گری ہوئی دیواروں کی داخلی گڑگڑاہٹ کی آوازوں پر کان دھرنے ہونگے،کیونکہ کشمیریوں پر جاری ظلم وستم کے دن گنے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں