کراچی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکیوں کی بڑے پیمانے پر خریداری465 پوائنٹس کا اضافہ

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس465.25 پوائنٹس کے اضافے سے 22775.85 ہوگیا


Business Reporter October 31, 2013
تیزی کے باعث52.61 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں 1 کھرب 8 ارب10 کروڑ15لاکھ95 ہزار 271 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ فوٹو: آن لائن / فائل

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ موخر ہونے سے پاکستان کے لیے امریکی تعاون بڑھنے کی امیدوں، وزیراعظم کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے بیان اور نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری بڑھنے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو غیرمتوقع طور پر تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی ۔

جس سے انڈیکس کی22400، 22500، 22600 اور22700 کی 4 حدیں بیک وقت بحال ہوگئیں، تیزی کے باعث52.61 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں 1 کھرب 8 ارب10 کروڑ15لاکھ95 ہزار 271 روپے کا اضافہ ہوگیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بین الاقوامی کموڈٹی اور ایکویٹی مارکیٹس مندی کا شکار رہیں لیکن اسکے برعکس کراچی اسٹاک ایکس چینج میں غیرمتوقع طور پر تیزی رونما ہوئی اور اس تیزی میں ایم سی بی ایل اور اوجی ڈی سی ایل کا اہم کردار سامنے آیا ہے۔

جس میں مختلف شعبوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی، ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر51 لاکھ35 ہزار994 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔



جس سے ایک موقع پر78.57 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے کی جانے والی42 لاکھ6 ہزار386 ڈالر اور میوچل فنڈز کی جانب سے9 لاکھ29 ہزار608 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری تیزی میں معاون ثابت ہوئی ۔

جسکے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس465.25 پوائنٹس کے اضافے سے 22775.85 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 410.47 پوائنٹس کے اضافے سے 17376.18 اور کے ایم آئی30 انڈیکس742.36 پوائنٹس کے اضافے سے 38688.00 ہو گیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت30.68 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 11 کروڑ97 لاکھ90 ہزار730 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 325 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں171 کے بھائو میں اضافہ، 130 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔