غیر قانونی اسلحے کا مسئلہ
گزشتہ صدی کی 80 کی دہائی تک کراچی میں غیر قانونی اسلحہ نہ ہونے کے برابر تھا۔
کراچی میں دو ماہ قبل شروع ہونے والے ٹارگٹ آپریشن کا ایک اہم نکتہ غیر قانونی اسلحے کی ضبطی ہے۔ حکومت سندھ نے اس آپریشن کے شروع ہوتے ہی رضاکارانہ طور پر غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کی تاریخ کا اعلان کیا۔ حکومت سندھ نے رضاکارانہ بنیادوں پر غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے والوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرنے کا بھی اعلان کیا تھا مگر چند پستولوں کے علاوہ کسی قسم کا اسلحہ جمع نہیں کرایا گیا۔ اب پولیس حکام غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے لیے حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حکام کسی خاص علاقے میں کرفیو نافذ کر کے اسلحہ برآمد کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ کراچی میں آپریشن کرنے والے اداروں رینجرز اور پولیس نے کئی سو چھاپوں میں قتل اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث اہم ملزمان کی گرفتاریوں کا بھی دعویٰ کیا ہے اور ان چھاپوں میں اسلحے کی غیر معمولی برآمدگی بھی ہوئی ہے مگر کراچی میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں برآمد ہونے والے اسلحے کی تعداد انتہائی کم ہے۔ کراچی بھر میں روزانہ ہونے والے اسٹریٹ کرائم، بینکوں کو لوٹنے کی وارداتوں، لیاری میں جاری گینگ وار اور پولیس اہلکاروں کی ہر روز ہونے والی قتل کی وارداتوں سے شہر میں پھیلے ہوئے غیر قانونی اسلحے کی مقدار کا انداز لگایا جاسکتا ہے۔ کراچی میں غیر قانونی اسلحہ ملک کی مجموعی صورتحال سے منسلک ہے۔
گزشتہ صدی کی 80 کی دہائی تک کراچی میں غیر قانونی اسلحہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ عمومی طور پر قتل کی وارداتوں میں چاقو، خنجر یا ڈنڈے استعمال ہوتے تھے۔ جنرل ضیا الحق نے امریکی منصوبے کے تحت افغانستان کی انقلابی حکومت کے خاتمے کے پروجیکٹ میں شمولیت اختیار کی تو پہلی دفعہ ریاستی اداروں نے غیر ریاستی کرداروں پر مشتمل گروہ تشکیل دینے شروع کیے۔ افغان جہاد کے نام پر غیر ریاستی کرداروں کو مسلح کیا گیا اور ان غیر ریاستی کرداروں میں دنیا بھر کے انتہاپسندوں کو شامل کیا گیا۔ ان مسلح گروہوں نے افغانستان میں کارروائیاں شروع کیں۔ ان لوگوں نے روسی ساختہ اسلحہ لوٹنے کے ساتھ ساتھ امریکی، فرانسیسی، اسرائیلی ، بھارتی اور پاکستانی سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے مفت میں ملنے والے اسلحے کو پاکستان میں فروخت کرنا شروع کیا۔ اس کاروبار میں فوجی جنرل، خفیہ عسکری ایجنسیوں کے اہلکار، مذہبی جماعتوں کے رہنما اور سردار بھی شامل ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان سے ہیروئن کی تجارت بھی شروع ہوگئی۔ سرکاری سرپرستی میں اسلحہ اور منشیات کا کاروبار تقویت پاگیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان کا پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد ان غیر ریاستی کرداروں کوبھارت کے زیرانتظام کشمیر میں برآمد کرنا شروع کیا۔ کشمیر میں کارروائیوں کے لیے نئے گروہ تشکیل دیے گئے۔ ان گروہوں نے جوانوں کی تربیت کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تربیتی کیمپ قائم کیے۔
ان انتہاپسند گروہوں کے اراکین نے ملک میںفرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ شروع کردی۔ اس کے بعد مختلف نوعیت کے گروہوں کی تشکیل شروع ہوگئی۔ ان میں لسانی، مذہبی، سیاسی اور جرائم پیشہ مافیاز پر مشتمل گروہ شامل تھے۔ ان گروہوں نے کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم کرلیں۔ یہی وجہ تھی کہ 1986 سے 1990 تک سندھ میں مختلف نوعیت کے لسانی فسادات ہوئے جن میں سیکڑوں لوگ مارے گئے۔ اس کے ساتھ پورے ملک میں اغوا برائے تاوان اور قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہوا اور ملک بھر میں مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر بہت سے لوگ قتل ہوئے۔ بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان قتل کی وارداتوں کے ذمے داروں کا تعلق کشمیر کے جہاد سے تھا۔ اس بنا پر پولیس نے خاموشی اختیار کرلی۔ 1986 سے 2013 تک بعض پریشر گروپوں کی طاقت کو کم کرنے کے لیے نئے گروہوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔
ان گروہوں نے سرکاری سرپرستی میں فرائض انجام دیے۔ مگر اسلحہ اور منشیات کی تجارت سے کروڑوں روپے کمائے گئے۔ کراچی میں امن و امان کے بارے میں تحقیق کرنے والے صحافی خاص طور پر گلستان جوہر کے علاقے رابعہ سٹی اور لیاری کا حوالہ دیتے ہیں۔ ہزاروں فلیٹوں پر مشتمل رابعہ سٹی پر ایک تنظیم کے کارکنوں نے قبضہ کیا ہوا تھا۔ رابعہ سٹی کی دیوار کے ساتھ سینٹرل آرڈیننس ڈپو COD اور کچھ فاصلے پر کراچی ایئرپورٹ کا رن وے ہے۔ ایسا ہی لیاری میں ہوا۔ خفیہ ہاتھوں نے لیاری میں بی ایل ایف اور قوم پرستوں کی سرگرمیوں اور لیاری کو دوسرا بلوچستان بننے سے روکنے کے لیے جرائم پیشہ گروہوں کو استعمال کیا۔ ان گروہوں نے کس طرح پورے شہر میں تہلکہ مچایا۔ کراچی کے حالات سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص واقف ہے ۔ اب حالات اتنے خراب ہیں کہ رینجرز اور پولیس اپنی کامیابیوں کے دعووں کے باوجود گینگ وار کو روکنے میں ناکام ہے۔ کسی بڑے مجرم کو نہیں پکڑا گیا، بعض فرار کرائے گئے۔ حالات اب اتنے بے قابو ہوچکے ہیں کہ رینجرز اور پولیس حکام تک لیاری میں فائرنگ رکوانے کے لیے مقامی بزرگوں کی کمیٹی سے درخواست کررہے ہیں اور دو دن میں 11 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
کراچی میں غیر قانونی اسلحے کی فراہمی سندھ اور بلوچستان کے راستوں سے ہوتی ہے اور اس اسلحے کا راستہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی افغانستان کے سرحدی علاقے سے منسلک ہے۔ غیر قانونی اسلحے کے تاجر پنجاب، بلوچستان اور اندرونِ سندھ کے سرداروں اور بااثر افراد کی سرپرستی میں اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ رینجرز کے حکام کا کہنا ہے کہ سمندری جہازوں سے آنے والے نیٹو کے کنٹینرز کا اسلحہ بھی کراچی میں استعمال ہورہا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کراچی اور ٹھٹھہ میں قائم بااثر افراد کی نجی لانچوں سے اسلحہ اترتا ہے اور پھر یہ شہر میں کھلے عام فروخت ہوتا ہے۔ جب بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں جنرل نصیر اﷲ بابر نے کراچی میں آپریشن شروع کیا تھا تو انھوں نے کراچی میں اسلحے کی فراہمی کو روکنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے تھے۔
ان اقدامات کی بنا پر قبائلی علاقوں میں کلاشنکوف کی قیمتیں گرگئی تھیں اور کراچی میں اسلحہ انتہائی مہنگا ہوگیا تھا۔ جنرل نصیر اﷲ بابر کی کمانڈ میں تمام ایجنسیاں متحد تھیں۔ اس بنا پر اس کے نتائج زیادہ دیرپا ثابت ہوئے تھے۔ کراچی میں غیر قانونی اسلحے کی فراہمی کو روکنے کے لیے پورے ملک میں ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ محض کراچی میں کسی قسم کی کارروائیوں کو اسی صورت میں روکا جاسکتا ہے کہ جب ملک بھر میں سخت اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی ادارے غیر ریاستی کرداروں کی سرپرستی کی پالیسی کو ترک کردیں ورنہ اسلحے کی پابندی کا معاملہ ذرایع ابلاغ تک ہی محدود رہے گا۔ تحفظ پاکستان کے قانون کے تحت چند افراد کو سزا دے کر یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔