شرح مہنگائی میں اضافہ کراچی حصص مارکیٹ مندی کا شکار127پوائنٹس گرگئے

کے ایس سی انڈیکس22649 پوائنٹس پر بند،297 میں سے 143 کمپنیوں کی قیمتیں نیچے۔


Business Reporter November 02, 2013
سرمایہ کاروں کے24ارب روپے ڈوب گئے،کاروباری حجم4فیصد زائد، 12 کروڑ 51 لاکھ حصص کی خریدوفروخت۔ فوٹو: آن لائن/ فائل

انفلیشن ریٹ اکتوبر 2013 میں 9 فیصد سے تجاوز کرنے اور آئندہ دنوں میں مہنگائی مزید بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو سرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں نے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی ۔

جس کی وجہ سے دونوں کاروباری سیشنز میں مارکیٹ اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کی زد میں رہی جس سے انڈیکس کی 22700 کی حد گرگئی، مندی کے باعث48.14 فیصد حصص کی قیمتیں گر گئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے24 ارب3 کروڑ22 لاکھ63 ہزار767 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ اکتوبر2013 میں غیرملکیوں کی جانب سے مجموعی طور پر1 کروڑ35 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری اور ایم سی بی ایل، اوجی ڈی سی ایل میں خریداری لہر نے جمعہ کو مارکیٹ کو استحکام بخشا اور ان عوامل کے سبب مارکیٹ مزید مندی سے بچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریزلٹ سیزن بھی اختتام پزیر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں کوئی خاص کاروباری دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر59 لاکھ84 ہزار125 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے سبب ایک موقع پر237.64 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی23000 کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی تھی۔



لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے19 لاکھ91 ہزار117 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے34 لاکھ 19 ہزار104 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے5 لاکھ73 ہزار903 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کو مندی میں تبدیل کردیا،کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس126.76 پوائنٹس کی کمی سے 22649.09 ہوگیا ۔

جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس17238.26 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس297.44 پوائنٹس کی کمی سے38390.56 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت4.43 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر12 کروڑ51 لاکھ3 ہزار510 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 297 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں130 کے بھاؤ میں اضافہ، 143 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔