جاگ ابن آدم جاگ

آج انسان، انسانیت کو تہہ و بالا کرکے انسانیت تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے


یسریٰ طیب December 17, 2019
اشرف المخلوقات کہلانے والا انسان کس ڈگر پر چل نکلا ہے؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کہتے ہیں سائنس اور ٹیکنالوجی نے جتنی اس رواں صدی میں ترقی کی ہے، اتنی انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔ انسان اب زمین کے مدار سے باہر نکل کر چاند، ستاروں اور سیاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے۔ خلائے بسیط کے رازوں کا کھوج لگا رہا ہے۔ یہ اس ٹیکنالوجی کا ہی کمال ہے کہ ہم خود سے ہزاروں میل دور بیٹھے کسی شخص سے فوری رابطہ کرسکتے ہیں۔ مگر دوسری جانب یہ عالم ہے کہ ایک ہی گھر، گلی اور محلے میں رہنے والوں کا بھی آپس میں رابطہ فقط ضروریات تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ خود سے ہزاروں میل دور واقع دنیا کی خبریں جاننے والا انسان آج اپنے ہم وطنوں کے دکھ درد سے ناواقف نظر آتا ہے۔

آج اگرچہ مشکلات کا حل تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ دنیا انسانی انگلیوں کی پوروں پر سمٹ چکی ہے۔ گوگل کے پاس ہر چیز اور مسئلے کا حل موجود ہے۔ ذرا کہیں پھنسے یا کسی الجھن کا شکار ہوئے، فٹ جا پہنچتے ہیں اپنی آسانی کےلیے گوگل کی مدد لینے۔۔ کل ہمارے محلے کے ایک بوڑھے چاچا نے ہمیں باہر جاتے ہوئے گھیر لیا اور بولے ''بیٹا ہم نے سنا ہے یہ گوگل کے پاس ہر درد کی دوا ہے۔ ہم تو ٹھہرے کم پڑھے لکھے، ناسمجھ ہیں، مگر تم تو دور جدید کی نوجوان نسل ہو، ذرا ہمارا ایک کام تو کردو''۔

چاچا جی کی مدد کےلیے ہم فوراً تیار ہوگئے ''جی چاچا جی! بولیے آپ کو کیا کام پڑگیا؟'' چاچا غمگین لہجے میں بولے ''مجھے انسانیت کی تلاش ہے۔ ذرا اس کا پتا تو ڈھونڈ کے نکال دو کہ کہاں ملے گی؟''

میں نے چاچا جی کی شکل دیکھی اور سوچا کہ ہزاروں کی تعداد میں انسانوں کے مجمع میں انہیں انسانیت کہیں نظر نہیں آئی، جو حضرت اسے ڈھونڈنے کےلیے گوگل کی مدد لینے نکل پڑے۔ چاچا جی بولے ''ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ جدھر دیکھو صرف بھاگم بھاگ اور بے چینی نظر آتی ہے۔ انسان تو زندہ ہیں مگر انسانیت اپنا سب کچھ سمیٹ کر دار فانی سے کوچ کرچکی ہے۔ انسان نام کی مخلوق ہی انسانیت کو مٹانے کے درپے ہے۔ میری مانو بیٹا، اگر آگے معاشرے میں ترقی کرنا ہے تو اس چیز کو ڈھونڈ کے لادو۔ یہ نوجوان نسل کےلیے ایک انمول خزانہ ہے، جو نجانے کہاں کھو گیا ہے۔ مردہ ضمیر قومیں تو کبھی ترقی نہیں کرپاتیں اور ہمارے پیچھے تو بہت سی دشمن قوتیں پڑی ہیں، جو پاکستان کو کبھی پھلتے پھولتے نہیں دیکھنا چاہتیں۔ اسی لیے یہاں کے نوجوانوں سے احساس اور انسانیت نام کی چیز چھین لی گئی ہے اور انہیں دنیا کی دیگر غیر اہم چیزوں میں الجھا دیا گیا ہے''۔

چاچا جی تو یہ ذمے داری مجھے سونپ کے چلے گئے، مگر میرے دماغ میں ایک احساس ضرور جگا گئے۔ اپنے آس پاس نظر دوڑائی تو واقعی ایسے مناظر دیکھنے کو ملے، جن سے پتا لگا کہ انسانیت واقعی کہیں آنکھیں موندے سو رہی ہے۔

اشرف المخلوقات کہلانے والا انسان کس ڈگر پر چل نکلا ہے؟ ابن آدم کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نجانے کہاں جا سوئی ہے؟ کچھ دن پہلے کا ہی واقعہ لے لیجئے۔ ایک اسپتال جہاں مریض اس امید کے ساتھ جاتے ہیں کہ وہ صحت یاب ہوکر لوٹیں گے، وہاں انصاف فراہم کرنے والوں نے ہی انصاف کی دھجیاں اڑا دیں اور اسپتال پر دھاوا بول دیا۔ ڈاکٹرز اور دیگر عملے کے ساتھ ہاتھا پائی اور توڑ پھوڑ کی۔ پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہ تک نہ سوچا کہ دل کے اسپتال جیسی نازک جگہ پر اس طرح کی ہنگامہ آرائی کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ طبی امدار نہ ملنے پر کتنے مریض جان سے گئے، اس بات کی فکر نہ کالے کوٹ والوں نے کی اور نہ ہی مسیحائوں نے احساس کیا۔ اس تنازع میں کتنے معصوم لوگ پس رہے ہیں اس کا ذرہ برابر بھی کسی کو خیال نہیں۔ انسانیت کی خدمت کرنے کا حلف لینے والوں کو بھی اس کا احساس نہ رہا اور نہ ہی انصاف مہیا کرنے والوں کو۔ جس جگہ لوگ زندگی بچانے کی غرض سے جاتے ہیں وہاں حملہ ہونا پوری قوم کے مستقبل کےلیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

وکلا اور ڈاکٹرز کے درمیان جو بھی تنازع رہا ہو، وہ افہام و تفہیم کے ساتھ بھی تو حل کیا جاسکتا تھا۔ اسپتال میں توڑ پھوڑ اور تشدد کی کیا ضرورت تھی؟ احتجاج اور ہنگامہ آرائی تو پڑھی لکھی قوموں کا وتیرہ نہیں۔ اتنی اشتعال انگیزی آخر کس بات کی تھی؟ قانون سازی کرنے والے یہ سب کریں گے تو ملک میں پھیلنے والے انتشار پر خوف محسوس ہوگا۔ اگر فریقین اپنی اپنی انا پر نہیں اڑتے اور انسانیت کےلیے پیچھے ہٹ جاتے تو شاید قیمتی انسانی جانوں کا نقصان نہیں ہوتا اور تعلیم یافتہ طبقے کے افسوس ناک رویے کی قیمت عوام کو نہیں چکانی پڑتی۔ اپنے مسائل کو حل کرنے کےلیے اگر تشدد کا سہارا لیا جانے لگے تو عوام کی شنوائی کہاں ہوگی؟ اس واقعے کے بعد ہماری قوم کےلیے کیا امید باقی رہ جاتی ہے؟ یہ ایک نہایت ہی غور طلب بات ہے۔ شہری اپنے مسائل کے حل کےلیے کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟

آج انسان، انسانیت کو تہہ و بالا کرکے انسانیت تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ساری دنیا کے انسان اپنی اپنی انسانیت ڈھونڈ رہے ہیں۔ اگر ابھی خواب غفلت سے نہ جاگے تو تباہی و بربادی مقدر بن جائے گی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مقبول خبریں