بھارت سے آبی تنازعات پاکستانی وفد امریکا روانہ

حقیقت میں بھارت سندھ طاس معاہدہ کی روح پر حملے کی تاک میں ہے۔


Editorial December 17, 2019
حقیقت میں بھارت سندھ طاس معاہدہ کی روح پر حملے کی تاک میں ہے۔ فوٹو:فائل

پاکستان نے بھارت کے ساتھ آبی تنازعات کے حل کے لیے ایک مرتبہ پھر ورلڈ بینک سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد امریکا روانہ ہو گیا ہے جہاں وفد ورلڈ بینک حکام کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرانے کے لیے مذاکرات کریگا۔

ذرایع کے مطابق ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کا گارنٹر ہے، وفد انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ اور اٹارنی جنرل آفس میں عالمی مذاکراتی یونٹ کے سربراہ احمد اسلم کی قیادت میں مذاکرات کریگا، عالمی بینک کے ساتھ متنازعہ کشن گنگا اور ریتلے ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ اٹھایا جائیگا۔ حقیقت میں بھارت سندھ طاس معاہدہ کی روح پر حملے کی تاک میں ہے۔

مودی حکومت نے پہلے ہی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا پرچار شروع کردیا تھا، اور گزشتہ چند ماہ کے دوران اس نے پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ کے تحت پانی کی شیئرنگ کے فطری پرویسس سے محروم کرنے کی کئی بار کوشش بھی کی، چناب، اور دیگر آبی ذرایع سے محروم کرنے کے لیے اقدامات پر سختی سے عمل بھی کیا تھا جس کے خلاف پاکستان نے عالمی بینک اور عالمی برادری کو بھارت کے مذموم عزائم سے آگاہ بھی کیا تھا تاہم اب خدشہ اس سے بڑی جارحیت کی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ بھارت مذکورہ دونوں ڈیموں کے لیے بڑی جھیلیں بنانے کا خواہاں ہے ، مقصد اس کا بانی کی غیر قانونی اور اضافی مقدار کو ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیموں کی مزید تعمیر ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ ایسا کرنا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، یاد رہے سندھ طاس معاہدہ پر 1960پر دستخظ ہوئے تھے۔ عالمی بینک کے مطابق سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان اور بھارت کودریاؤں سے پانی کے حصول میں پیدا شدہ تنازعات اور اختلافات کے لیے تصفیہ کے قانونی ذرایع بھی حاصل ہیں، فریق واٹر کمیشن ، غیرجانبدار ایکسپرٹ اور کورٹ آف آربی ٹریشن سے رجوع کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل بھی پاکستان عالمی بینک سے رجوع کرچکا تھا ، جب کہ بینک کا موقف تھا کہ دونوں ملک اپنے طور پر معاملہ کے تصفیہ پر اتفاق رائے پیدا کریں۔تاہم بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ درپردہ آبی معاہدہ کی ناگزیریت کو نقصان پہنچائے اور اپنے ہتھکنڈوں سے آبی وسائل سے زیادہ سے زیادہ پانی حاصل کرکے پاکستان کو آبی جارحیت کانشانہ بنائے۔

ذرایع کے مطابق عالمی بینک کے ساتھ مذاکرات میں پاکستانی وفد ثالثی عدالت کی تشکیل پر زور دے گا جب کہ بھارت غیر جانبدار ماہر کا تقرر چاہتا ہے۔ پاکستان کو بھارتی عزائم سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں