مکی آرتھر خوش مصباح الحق اداس

جب مصباح الحق آئے تو قدرے پریشان سے لگ رہے تھے، بعض سوالات کے جواب بھی انھوں نے الٹے دیے۔


Saleem Khaliq December 18, 2019
جب مصباح الحق آئے تو قدرے پریشان سے لگ رہے تھے، بعض سوالات کے جواب بھی انھوں نے الٹے دیے۔ فوٹو: فائل

زیادہ پرانی بات نہیں لگتی مگر حقیقت میں 10برس گذر چکے جب کراچی میں آخری ٹیسٹ کا انعقاد ہوا تھا۔

اس وقت مصباح الحق ٹیم کے عام کھلاڑی تھے جبکہ اب ہیڈ کوچ وغیرہ وغیرہ ہیں، میرے دل میں اب بھی اس میچ کی یادیں تازہ ہیں جب نیشنل اسٹیڈیم میں رنز کے چشمے پھوٹ پڑے تھے،سری لنکا نے 600 سے زائد رنز بنائے تو پاکستان نے 700پلس اسکور سے جواب دیا، مہمان ٹیم کے مہیلا جے وردنے اور تھیلان سمارا ویرا نے ڈبل سنچریاں بنائیں تو میزبان کپتان یونس خان نے ٹرپل سنچری داغ دی، اس وقت بھی کراچی میں سیکیورٹی سخت تھی مگر اب تو بلاشبہ فول پروف انتظامات ہوتے ہیں، ماضی کے مقابلے میں میڈیا کتنا بڑھ چکا اس کا اندازہ پریس کانفرنس میں ہوا،پورا ہال کیمرہ مینز اور صحافیوں سے بھرا ہوا تھا۔

پہلے مکی آرتھر آئے، فرق یہ تھا کہ اس بار وہ گرین کے بجائے بلو شرٹ زیب تن کیے ہوئے تھے، سامنے کی نشستوں پر بیٹھے جن پاکستانی صحافیوں سے وہ واقف تھے ان سے مصافحہ کیا اور پھر پریس کانفرنس شروع ہو گئی، ان کی باتوں سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ وہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ حد سے زیادہ انوالو ہوگئے تھے، اب حریف کیمپ میں ہیں لیکن پھر بھی اسے مس کرتے ہیں، بابر اعظم جیسے کھلاڑیوں کو انھوں نے گروم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اب انھیں کامیابی کی منازل طے کرتے دیکھ کر وہ بیحد خوش ہوتے ہیں، مکی آرتھر کا انداز پریس کانفرنس میں دوستانہ تھا اور وہ ہنستے مسکراتے جواب دیتے رہے۔

دوسری جانب جب مصباح الحق آئے تو قدرے پریشان سے لگ رہے تھے، بعض سوالات کے جواب بھی انھوں نے الٹے دیے، اگر کوئی اور یہ کہتا کہ ''سری لنکا سے بولتے ہیں 16کھلاڑیوں کو کھلانے کی اجازت دے دو'' تو شاید قہقہے لگ جاتے مگر مصباح کا انداز اتنا تلخ تھا کہ کوئی مسکرایا تک نہیں، حد سے زیادہ ذمہ داریوں کے بوجھ نے انھیں پریشان کر دیا ہے لیکن وہ یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے، اسٹیڈیم میں پی سی بی کے آفیشلز سے بھی ملاقات ہوئی جب ''بڑے'' آپ سے خوش نہ ہوں تو ''چھوٹوں'' کی گرمجوشی بھی ہوا ہو جاتی ہے۔

اس کا عملی ثبوت مجھے بھی دیکھنے کو ملا، ذاکر خان بھی اپنی روایتی شان سے چلتے دکھائی دیے، 10سال پہلے کے ٹور میں بھی وہ انتظامی امور کا اہم حصہ تھے۔ نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا دونوں ٹیموں نے بھرپور پریکٹس سیشن بھی کیا،راولپنڈی میں موسم کی وجہ سے شائقین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن کراچی میں امید ہے ایسا نہیں ہوگا، یہاں گوکہ سردی ہے لیکن آئندہ چند دنوں میں بارش کاکوئی امکان ظاہر نہیں کیاگیا، امید یہی ہے کہ شائقین کو اچھی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔