مہنگائی اور عوام کی بے بسی

نظر آرہا ہے کہ عوام کو معاشی مسائل نے شدید ڈپریشن میں مبتلا کردیا ہے۔


Editorial December 19, 2019
نظر آرہا ہے کہ عوام کو معاشی مسائل نے شدید ڈپریشن میں مبتلا کردیا ہے۔ فوٹو : فائل

ملکی معاشی صورتحال میں استحکام کے بہترین اشاریوں کے باوجود حقائق ابھی تک سیاسی حالات کے تعاقب میں ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاست اور معیشت کے تقابل سے بھی اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ حکمرانوں کو ابھی تک معیشت کے حقیقی دباؤکا سامنا ہے، عوامی ریلیف کے امکانات اتنے روشن نہیں کہ عوام کو حکومت کوئی بڑا ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہو اور ملکی معیشت اپنا راستہ سیاسی ڈائنامکس سے الگ کر لے یا معاشی مسیحا عوام کو واضح روڈ میپ ہی دیں ، مہنگائی کم ہو، روزگارکے مواقع ملیں ، قرضوں کا بوجھ کم ہو، اور معاشی استحکام اتنا معتبر، موقر، موثر اور نتیجہ خیز نظر آئے کہ وزیر اعظم اور ان کی سیاسی ٹیم معاشی مشکلات سے خود کو دور رکھ سکے۔

تاہم ایسا اسی وقت ممکن ہو گا جب معیشت زمینی حقائق سے جڑے رہنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی مشیر اور ماہرین کی منصوبہ بندی، ترقی وخوشحالی کے پروگرام اور اقتصادی نظام میں بنیادی تبدیلیوں سے قوم آشنا ہوجائے۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میکرو اکنامک شعبے میں حکومت ابھی اہداف سے بہت پیچھے ہے۔

عوامی توقعات کی تکمیل جب کہ بہت سارے روزمرہ معاشی انتظامات کی فراہمی بھی ایک چیلنج بن کر رہ گئی ہے، غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے، عام آدمی کی قوت خرید صفر ہوگئی ہے، اس کے لیے صبح ، دوپہر اور رات کی ضروریات کو پورا کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے، جسے اقبال کے لفظوں میں ان ہی الفاظ میں دہرایا جاسکتا ہے کہ ''ہیں تلخ بہت بندہ مزدورکے اوقات۔'' تاہم صدرمملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی اگلی دہائی انفارمیشن اورکمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کی دہائی ہوگی۔

بلاشبہ دنیا کی سیاسی معیشت کا بنیادی اصول ہے کہ عوام کی لازمی ضروریات پوری ہونگی تب ہی کسی ملک کی جمہوریت ، اس کی انتظامی فعالیت ، مارکیٹ میں چہل پہل اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے صائب اقدامات ہوسکیں گے اور حکومت یکسوئی کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا ماڈل لاسکے گی اور قوم کو ایک اقتصادی تبدیلی سیاسی اور معاشی نظام کی رگوں میں دوڑتی ہوئی ملے گی۔

لیکن ابھی وہ منزل نہیں آئی ، لوگوں کی معاشی ضروریات اور حکومتی معاشی پروگراموں کے درمیان حائل مختلف النوع تناؤ،کشیدگی اور پیدا شدہ نئے سیاق وسباق اورسنگین زمینی حقائق نے حکومت کو معیشت کے گراں بار مسائل کے حل کے لیے اپنے طرف کھینچ لیا ہے، اور نظر آرہا ہے کہ عوام کو معاشی مسائل نے شدید ڈپریشن میں مبتلا کردیا ہے۔ وجہ مہنگائی ہے، روز ایک نئے مسئلہ کا جن بوتل سے نکل کر عوام کا منہ چڑانے لگتا ہے۔ مثال کے طور پرآئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے گھریلو صارفین کے لیے گیس 214 فیصد تک مہنگی کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔

تندور صارفین کے لیے 245 ، کمرشل صارفین اور سی این جی سیکٹرکے لیے 31فیصد جب کہ فرٹیلائزر سیکٹرکے لیے گیس 153فیصد تک مہنگی ہوگی اور اس کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔ گھریلو صارفین کے لیے 50 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے پرگیس کے نرخ 121سے بڑھا کر380روپے فی ایم ایم بی ٹی یو، 100یونٹ پرنرخ 300سے بڑھ کر 353 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوجائیں گے۔ اوگرا نے ماہانہ 200 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے صارفین کے لیے گیس سستی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماہانہ 200 سے 300یونٹ والوں کے لیے گیس 553 روپے سے کم کرکے 530 روپے، 300یونٹ والے صارفین کے لیے گیس 738روپے سے کم کرکے 706روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگی۔ دوسری جانب ماہانہ 400 یونٹ والے صارفین کے لیے گیس1107روپے سے بڑھا کر 1273روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگی۔ میڈیا کے مطابق گیس نرخ میں ممکنہ اضافہ سے یوریا ، سی این جی مہنگی ہوجائے گی، پاکستان سے برآمد ویلیو ایڈڈ و دیگر مصنوعات کی لاگت میں بھی اضافہ کے خدشات ہیں، ماہرین کے مطابق عوام اور صنعتی شعبے کو مہنگائی سے بچانے کے لیے مطلوبہ اقدامات ناگزیر ہیںِ۔

لیکن متعلقہ وزارتیں غیر فعال ہیں یا حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کے لیے مامور حکام اور محکموں کے اہلکار اور افسران کو اپنی تنخواہوں، مراعات اور عیاشیوں کی پڑی ہوئی ہے۔ عوام کی کسے فکر ہے، اگلے روز ہی یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی کی برانڈڈ قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، نوٹیفکیشن کے مطابق یہ گھی ان اسٹورز پر فی کلو 16روپے تک مہنگا ہوا ہے، گھی کی قیمت 174روپے فی کلو سے بڑھاکر190روپے کر دی گئی ہے۔

اسی طرح مارکیٹ میں سبزیوں، پھلوں اور دوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ خواتین کی پرفیومز، کاسمیٹکس اور شیمپوز میں دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور دکانداروں نے ریٹس بڑھا دیے ہیں، درجنوں اصلی مصنوعات کے ساتھ ہی مارکیٹیں جعلی پروڈکٹس سے بھرگئی ہیں، بے شمار دوائیں جعلی اور دو نمبر کی ہیں مگر لوگ پبلسٹی کے باعث نقلی صابن ، شمپو، لوشن، دو دن میں چہرہ کی رنگت بدلنے والی مضر صحت کریمیں اور لمبے اور گھنے کرنے والے ہیئر آئل دھڑادھڑ خرید رہے ہیں۔

کھانے پینے کی اشیا کے معیار کی جانچ پڑتال کا کوئی ملک گیر میکنزم موجود نہیں، مگر درد مند دل رکھنے والی کوئی اعلیٰ افسر کہیں فوڈ اتھارٹی کی سربراہی پر مامور ہیں تو ان کے چھاپوںکی خبریں آجاتی ہیں ورنہ پورا ملک ملاوٹی ، نقلی اور جعلی پروڈکٹس سے اٹا ہوا ہے۔ اسمگل شدہ کپڑے ، سگریٹ، شراب، سیل فونز، گھڑیوں، منشیات اور سیکڑوں مصنوعات سے ملکی بازار بھرے ہوئے ہیں۔ لنڈا بازار میں جیکیٹس، سویئٹرز ، مفلرز،کوٹ ، پینٹس ، سوٹ، چادریں ، قالین، جوگرز اور غیر ملکی اسٹائلش جوتے بھی عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں وزارت پٹرولیم کے ایڈیشنل سیکریٹری تنویر احمد نے بتایا کہ قدرتی گیس کے ذخائرمیں سالانہ 7 فی صد کمی آرہی ہے۔ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل پی جی درآمد کی جا رہی ہے، انھوں نے کہا کہ اگر یہ بند کر دی جائے تو آدھے ملک کو گیس نہیں ملے گی، دیہات میں ایل پی جی کی قیمت قدرتی گیس سے بہت زیادہ ہے، جن علاقوں میں سے گیس نکلتی ہے وہاں پانچ کلو میٹر کے قطر میں گیس کی فراہمی کے لیے 7ارب روپے درکار ہیں۔

ادھر ایکسپریس کے مالیاتی ذرائع کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سوئٹزر لینڈ نے پاکستان کو پانچ سال پرانی ٹیکس معلومات فراہم کرنے کی درخواست مسترد کردی ، جس سے حکومت کے لیے بڑی ریکوری کے امکانات محدود ہوگئے ہیں جب کہ پاکستان کو اسی حوالہ سے معلومات ستمبر 2021 میں موصول ہونگی، ایف بی آر حکام کے مطابق سوئیٹزر لینڈ پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس کی صرف سال 2020کی تفصیلات فراہم کرسکے گا، لہذا ٹیکس حکام کے لیے بڑے پیمانے کی ریکوری کرنا ممکن نہیں ہوگا، یہ موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک ہوگا۔

ادھر مسلم لیگ ن نے موجودہ حکومت کی16 ماہ کی کارکردگی پر حقائق نامہ جاری کر دیا ، مسلم لیگ ن کی معاشی کانفرنس میں جاری وائٹ پیپر میں کہا گیا کہ موجودہ حکومت میں بیروزگاری وبائی مرض کی طرح پھیلی، مہنگائی12.7فیصد بڑھی، ادویات عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوگئیں ، وائٹ پیپر کے مطابق سی پیک رول بیک کرنے سے قوم کا معاشی مستقبل خطرے میں ڈال دیا گیا۔

دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ کے سینئر ایڈمنسٹریٹو جج جسٹس عرفان سعادت خان نے چارسدہ میں تربیتی ورکشاپ سے خطاب میں کہا کہ امن و استحکام ، خوشحالی و سلامتی، معاشی نمو، بنیادی انسانی حقوق ، انفرادی شہری آزادیوں کا تحفظ اور پائیدار ترقی اصل میں قانون کی حکمرانی سے مشروط ہے۔ یہ صائب پیغام حکومت تک پہنچ جانا چاہیے۔

مقبول خبریں