پاکستان کب بنے گا
اگر آج کوئی آپ سے پوچھے کہ ’’پاکستان کب بنے گا؟‘‘ تو آپ حیرت سے سوال کرنے والے کا چہرہ دیکھیں گے...
BETHESDA:
اگر آج کوئی آپ سے پوچھے کہ ''پاکستان کب بنے گا؟'' تو آپ حیرت سے سوال کرنے والے کا چہرہ دیکھیں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ تم جس سرزمین پر کھڑے ہو، تمہاری جیب میں جو کرنسی نوٹ ہیں اور تمہارا جو پاسپورٹ ہے وہ پاکستان کا ہے۔ ایسے میں یہ سوال کرنا دیوانگی کے سوا اور کیا ہے کہ پاکستان کب بنے گا؟ سوال کرنیوالا آپ کے سامنے ابراہیم جلیس کا نام لے گا اور آپ شرمسار ہوجائینگے کیونکہ یہ وہ تھے جنھوں نے اب سے دہائیوں پہلے اپنی ایک تحریر کو یہی عنوان دیا تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کا نعرہ لگاتے ہوئے جس مملکت کے خواب دکھائے گئے تھے اس کے خدوخال ابتدائی برسوں میں ہی دھندلا گئے۔ابراہیم جلیس ہندوستان کی تحریک آزادی کے دنوں میں جوان ہوئے۔ دل میں کچھ کر گزرنے کے ولولے تھے۔ حیدرآباد دکن کی علمی اور ادبی فضا تھی جس نے انھیں کوچۂ ادب کی راہ دکھائی۔ مخدوم محی الدین کی انقلابی فلموں اور تلنگانہ موومنٹ سے وابستہ پرُجوش جوانوں نے ان کا رشتہ ترقی پسند تحریک سے جوڑ دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ حیدرآباد کی ریاست میں ''انقلاب'' اور ''انجمن ترقی پسند مصنّفین'' سے وابستگی سنگین جرم تھی۔انھوں نے افسانے سے ناتا جوڑا تو وہ بھی ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے۔
تحریک نے اردو ادب کو جو گوہر آبدار دیے ان ہی میں سے ایک ابراہیم جلیس تھے، اور کیوں نہ ہوتے ، مزاحمت ان کے مزاج کا بنیادی عنصر تھی۔ انھوں نے اپنے قلم سے اس وقت آگ لگائی جب ہندوستان آزاد نہیں ہوا تھا۔ ان کا پہلا طویل افسانہ ''زرد چہرے'' شائع ہوا تو اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی۔ اس کے فوراً بعد انھوںنے ''چالیس کروڑبھکاری'' لکھا۔ ان کی یہ تحریر ، مزدور کی مفلسی اور کسان کی کم نصیبی کی بے مثال تصویر تھی۔ دو عظیم جنگوں نے جس طرح ہندوستان کے وسائل کا لہو نچوڑ لیا تھا اور احتیاج کے مارے ہوئے جوانوں کو چند روپوں کی تنخواہ کے عوض جنگ کے جہنم میں دھکیل دیا تھا، اس کی جھلکیاں ان کے ابتدائی افسانوں میں نظر آتی ہیں۔ انھوںنے بنگال کے قحط کو اپنے الفاظ سے یوں مصور کیا کہ اسے بھوک کا جیتا جاگتا مرقع بنا دیا۔ حیدرآباد دکن سے پاکستان آنے کے بعد ان کی راہ میں جیل کی کال کوٹھری بھی آئی۔ قصور صرف یہ تھا کہ انھوں نے ایک افسانہ ''سیفٹی ریزر ایکٹ'' لکھ دیا تھا جس کی سزا میں انھوں نے 1952ء کی کراچی سینٹرل جیل میں پانچ مہینے گزارے۔ یہیں انھوں نے اپنا مشہور رپورتاژ ''جیل کی راتیں جیل کے دن' 'لکھا۔ اس رپوتاژ کو پڑھیے تو پاکستانی سیاست کے آنے والے دنوں کی دھندلی سی تصویر اس میں نظر آتی ہے۔
وہ ایک ایسا نام ہیں جوآج بہت سے لوگوں کے لیے شاید بھولا بسرا ہو لیکن 60ء کی دہائی میں یہ وہ نام تھا جو اخبار پڑھنے والوں کی زندگی میں روزانہ سورج کی طرح طلوع ہوتا تھا۔مجھے اخبار پڑھنے کا نشہ بچپن سے رہا۔ میرا خیال تھا کہ اخبار کے لیے لکھنے والے ہی بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ میں نے اس زمانے میں ایسے بھی بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن تندور پر یا چھپر ہوٹل میں ابن صفی، ابراہیم جلیس اور ابن انشاء کے کالم کسی سے پڑھوا کر سنتے تھے ۔ آندھی آئے یا طوفان ''وغیرہ وغیرہ'' پڑھنا میرے لیے لازم تھا۔ ان ہی دنوںمیں نے ان کا مجموعہ ''چالیس کروڑ بھکاری'' پڑھا تو ان کے افسانوںکو ڈھونڈ کر پڑھنے لگی۔
پاکستان میںجنرل ایوب خان ظل الٰہی بنے تو اکثر ادیبوں نے چپ سادھ لی۔ ابراہیم جلیس کو معلوم تھا کہ دو ٹوک لکھنے کے نتائج کیا ہوں گے۔ انھوں نے طنز کے پردے میں ایک افسانہ'' آدم خور'' لکھا جو ایوب خان کے بعد آنے والے آدم خوروں پر بھی صادق آتا رہا۔ اس کی چند سطریں کچھ یوں ہیں کہ'' کسی زمانے میں اسی ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ اتنا عادل اور اتنا منصف مزاج تھا کہ اس نے کبھی شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پر پانی نہیں پینے دیا کہ کہیں پانی پینے کے بہانے شیر بکری کو ہڑپ نہ کرجائے۔ وہ اتنا رعایا پرور تھا کہ اس کی ساری رعایا فاقے کرتی، ننگی رہتی، بھوکوں مرتی۔ پرانے بادشاہوں کی طرح اسے بھی اچھی غذائیں کھانے کا بہت شوق تھا۔ وہ وقت واحد میں ایک سو آدمیوں کا کھانا کھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے ہر کھانے پر ایک سو آدمی مرجاتے تھے۔ مگر کسی مصاحب اور رعایا میں اتنی مجال نہ تھی کہ وہ ہنسی تو ہنسی ذرا سی مسکراہٹ بھی اپنے ہونٹوں پر لاسکتی۔ کیونکہ وہ بادشاہ تھا، یعنی ظل اللہ... یعنی خدا کا سایہ...''
انھوں نے کیسے نوکیلے اور کاٹ دار افسانے لکھے لیکن افسانہ نگاری سے گھر والوں کی کفالت تو نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ تھی کہ ابتدا میں انھوں نے دوسرے بہت سے ادیبوں کی طرح فلمی دنیا کا رخ کیا جہاں انھوں نے 'خاندان، تہذیب'احساس اور ''آنچل'' جیسی فلمیں لکھیں۔ وہ پاکستان آئے تو نئے ملک میں فلمسازی مشکل مرحلوں سے گزر رہی تھی۔ جلیس نے روزگار کے لیے صحافت کے کوچے میں قدم رکھا اور پھر وہیں کے ہورہے۔ وہ پاکستان کے مقبول ترین کالم نگاروں میں سے تھے۔ قلم کی اقلیم دو محبوبائوں کو برداشت نہیں کرتی۔ جی چاہے منٹو اور کرشن چندر کی طرح زود نویس ہو جائیے اور روٹی افسانہ نگاری سے ہی کھائیے اور جی چاہے تو ابراہیم جلیس کی طرح روزانہ کالم لکھئے اور جب دل میں ہوک اٹھے تو کبھی کبھار افسانے کے کوچے کی سیر بھی کر آئیے۔ وہ کالم نگاری کے جھنڈے گاڑتے ہوئے 'مساوات' تک پہنچے۔ مساوات کی ادارت بھٹو صاحب نے بذات خود ان کے سپرد کی تھی اور وہ آخری سانس تک اس کی ادارت سے وابستہ رہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پیپلز پارٹی سے وابستگی ،بھٹو صاحب کی گرفتاری اور پھر مساوات کی بندش ان پر شدید اعصابی دبائو کا سبب بنی جس کا بوجھ ان کا دماغ برداشت نہ کرسکا اور اس نے ہار مان لی۔ اس موقعے پر مجھے امر جلیل کی ایک تحریر یاد آ رہی ہے جس کا عنوان ہے '' جلیس کا وہ انٹرویو جو لیا نہیں گیا۔''
امر جلیل لکھتے ہیں :میں نے پوچھا آپ نے اپنا دماغ فرائی کرکے پاکستان کی سدا بہار بیوروکریسی کو کیوں نہیں کھلا دیا۔ جلیس بھائی کے ماتھے پر شکنیں پڑگئیں۔ دیکھیے نا جلیس بھائی میںنے کہا کہ جب انسان کی کھوپڑی میں ایک عدد دماغ ہوتا ہے تب وہ 'وغیرہ وغیرہ' قسم کے کالم میں وغیرہ وغیرہ باتیں کرجاتا ہے۔ جو وغیرہ وغیرہ قسم کے لوگوں پر گراں گزرتی ہیں۔ بھائی ابراہیم جلیس میری طرف دیکھتے رہے اور خاموش رہے۔ میں نے کہا کہ پاکستانی ادیبوں کا فرض ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں سدا بہار بیورو کریسی کو ناراض نہ کریں۔ ان سے بنا کر رکھیں اور... کچھ کہتے کہتے رک گیا جلیس بھائی نے برجستہ کہا اور ان کی منشا کے مطابق لکھیں ان کے اشاروں پر لکھیں۔ میں جھینپ گیا ۔ میں نے گردن کھجاتے ہوئے کہا دیکھیے نا جلیس بھائی ہم پاکستانی ادیب مفلس اور کنگال ہوتے ہیں۔ جب ہم بیورو کریسی سے بنا کر رکھتے ہیں تب ایک آدھ پلاٹ کے مالک بن جاتے ہیں۔ پرمٹ لیتے ہیں۔ ڈپو حاصل کرلیتے ہیں اور پھر ہمارے دماغ کی شریانیں نہیں پھٹتیں، خون نہیں بہتا۔''
1978ء میں ان کا مجموعہ 'الٹی قبر' بعد از مرگ شائع ہوا۔'الٹی قبر' کی ہیروئن عائشہ ہے۔ اسے ہیروئن کہنا جھوٹ اور بد دیانتی ہے۔ ہیروئنیں تو سشمتا سین، اور کرینہ کپور یا الزبتھ ٹیلر اور انجلینا جولی جیسی ہوتی ہیں۔ عائشہ تو بس افسانے کا مرکزی کردار ہے جسے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے الزام کی سزا یہ دی گئی کہ ایک سرکاری اہلکار اس کی جھونپڑی میں داخل ہوتا ہے اور عائشہ کے بدن کی زمین پر ناجائز قبضہ کرلیتاہے۔ قبضہ ختم ہوتے ہوتے عائشہ ہلاک ہوجاتی ہے اور اس کی عزت اس جھوٹ سے ڈھانپی جاتی ہے کہ بے چاری کو سانپ نے ڈس لیا ہے۔ اس کہانی میںہندوستان کے بٹوارے اور پھر پاکستان کی تقسیم کی تاریخ سمٹ آتی ہے۔
یہ لینڈ مافیا اور لینڈ گریبنگ پر ایک شاندار افسانہ ہے جسے جلیس صاحب نے اب سے 35 برس پہلے زندگی کے آخری دنوں میں لکھا۔ ان کا ایک افسانہ ''دودھ میں مکھی'' تھا۔ بقول کرشن چندر اس افسانے میں ابراہیم جلیس نے اس نکتے کی تشریح کی ہے کہ ہمارے سرمایہ پرست نظام زندگی میں بے حیائی کس طرح لمبا گھونگھٹ کاڑھے رہتی ہے۔ یہ لمبا گھونگھٹ کھوکھلی، اخلاقی اقدار پر ہی پڑا ہوا نہیں ہے۔یہ لمبا گھونگھٹ جسے کاڑھ کر سرمایہ پرست، وطن پرست کہلاتے ہیں اور اپنی قوم کو تباہ کرنے والے مجاہد بنتے ہیں اور مزدوروں کا خون چوسنے والے ملک کے معمار کہلاتے ہیں۔ کسانوں کی کھیتیاں ہڑپ کرجانے والے دیس کے محسن اور محنت کشوں پر گولیاں چلانے والے عوام کے سچے ہمدرد بن جاتے ہیں۔ ابراہیم جلیس نے اس لمبے گھونگھٹ کے بارے میں افسانے، کالم لکھے اور لکھتے چلے گئے۔ان کی ایک تحریر کا عنوان تھا ''پاکستان کب بنے گا؟'' یہ دہائیوں پہلے کی تحریر ہے لیکن آج کے پاکستان پر ایک نظر ڈالیے تو ان کا سوال زندہ ہوکر ایک بار پھر ہمارے سامنے آجاتا ہے کہ ''پاکستان کب بنے گا؟''
(انجمن ترقی پسند مصنّفین اور اکیڈمی آف لیٹرز کے جلسے میں پڑھا گیا)