قمبر شہداد کوٹ میں پینے کا پانی نایاب

پانی میں ذرات کے ارتکاز کی تعداد 2600 پائی گئی جو عمومی حد سے کہیں زیادہ تھی۔


Editorial December 20, 2019
پانی میں ذرات کے ارتکاز کی تعداد 2600 پائی گئی جو عمومی حد سے کہیں زیادہ تھی۔ فوٹو: فائل

کسی باشعور انسان کو اس حقیقت سے انکار نہیں کہ صاف اور پینے کے قابل پانی تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے تاہم سندھ میں رہنے والے اکثر افراد کے لیے یہ ایک نایاب شے بنتی جارہی ہے، میڈیا نے ایسا ہی کچھ درد ناک حال سندھ کے ضلع قمبرشہدادکوٹ کا بیان کیا ہے، جس کی آبادی 15لاکھ نفوس پر مشتمل ہے تاہم انھیں پانی کے حصول کے لیے گھنٹوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔

بوہر یونین کونسل کے 20 دیہات میں کیے جانے والے سروے میں انکشاف ہوا کہ گھروں میں نصب پمپوں کے ذریعے جو پانی حاصل کیا جاتا ہے وہ کھارا اور بدذائقہ ہے۔ ان 20 دیہات سے حاصل کیے جانے والے پانی کے نمونوں اور ٹی ڈی ایس میٹر (یعنی پانی میں کل کتنے اجزا شامل ہیں) کے تجزیے سے یہ ہوشربا انکشاف ہوا کہ 95 فیصد پانی کے نمونے انسانی صحت کے لیے مضر ہیں۔

پانی کے خراب معیار اور ذائقے کے باعث دیہات میں رہنے والے افراد اس بات پر مجبور ہیں کہ وہ پانی کے ان پمپوں کو گھروں سے دور نصب کریں خاص طور پر کسی زرعی زمین پر یا کسی کنال کے کنارے کیونکہ وہاں پانی کا معیار قدرے بہتر معلوم ہوتا ہے اور ٹی ڈی ایس کے تجزیے سے بھی یہ بات ظاہر ہے۔

گاؤں کے ایک رہائشی نے بات چیت میں بتایا کہ بہت پہلے کی بات ہے جب ہمارے گھروں میں پینے کا صاف پانی آیا کرتا تھا مگر اب بدقسمتی سے کنوؤں اور پمپوں کے ذریعے گھروں میں آنے والا پانی ذائقے میں کھارا اور اس میں ناگوار بو بھی آتی ہے۔

سروے کے دوران گاؤں کے ایک پرائمری اسکول ٹیچر نے دعویٰ کیا کہ اس کے گھر میں پمپ کے ذریعے جو پانی آتا ہے وہ معیاری ہے تاہم جب اسے ٹیسٹ کیا گیا تو اس کا دعویٰ غلط ثابت ہوا کیونکہ اس پانی میں ذرات کے ارتکاز کی تعداد 2600 پائی گئی جو عمومی حد سے کہیں زیادہ تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی کے دائیں گردے میں پتھری ہے اور معلوم نہیں وہ گندے پانی کی وجہ سے ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے ۔لیکن پینے کے صاف پانی کی ملک کے شہر ودیہات میں عدم دستیابی ایک افسوسناک واقعہ ہے۔

پاکستان کے قیام کو 72 سال ہوگئے لیکن ابھی تک ارباب اختیار اہل وطن کو بنیادی انسانی سہولتیں نہیں دے سکے ہیں اور اہل وطن کو پینے کا صاف پانی نہ ملے تو اس سے زیادہ عوام کی لاچاری اور حکمرانوں کی بے حسی اور کیا ہوسکتی ہے؟

مقبول خبریں