تعلیمی اداروں کی زبوں حالی

سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کے بارے میں رپورٹس تو متعدد بار تیار کی گئیں مگر ان پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا۔


Editorial December 20, 2019
سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کے بارے میں رپورٹس تو متعدد بار تیار کی گئیں مگر ان پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ فوٹو : فائل

حکومت پنجاب نے سرکاری اسکولوں کا سیکیورٹی آڈٹ کرایا جس میں ناقص حفاظتی انتظامات کاانکشاف ہوا ہے۔محکمہ داخلہ نے ستمبر، اکتوبر، نومبر میں آڈٹ کرایا۔تین متواترآڈٹس کے باوجود اسکولوں کی انتظامیہ یا صوبائی شعبہ تعلیم کی طرف سے بہتری نہیں لائی گئی۔

اس دوران (ایس اوپیز) عمومی طریقہ کارکے ضوابط میں بڑے پیمانے پرخلاف وزریاں سامنے آئیں۔اعلی حکام ،شعبہ تعلیم ،ڈویژنل کمشنرز اور ریجنل پولیس کو حفاظتی انتظامات بہتربنانے کے لیے اطلاع کردی گئی۔

پنجاب میں سیکیورٹی الرٹ کے باعث 4 ہزار849 اسکولوں کا آڈٹ کیا گیا۔ 10 اضلاع میں 1069 ایسے تعلیمی ادارے پائے گئے جن میں اکیڈمک بلاک کے قریب دیوار نہیں تھی۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کے گرد پوسٹیں نہ بن سکیں، ہاسٹل کے اردگردسرچ لائٹس بھی نہیں لگائی گئیں۔ آڈٹ رپورٹس میں ناقص حفاظتی انتظامات نے کئی سوالات کو جنم دیاہے ۔

صورتحال سے پریشان والدین نے مطالبہ کیاہے کہ اسکولوں کی انتظامیہ حفاظتی انتظامات بہترکرے تاکہ بچے تحفظ کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں ۔اسکولوں کی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے فنڈ نہیں دیے جا رہے۔ ملک بھر میں سرکاری اسکولوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں' بڑے شہروں میں حالات شاید قدرے بہتر ہوں مگر نواحی علاقوں اور دیہات میں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔

پنجاب' سندھ' خیرپختونخوا اور بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے بجٹ میں بہت کم رقم مختص کی جاتی ہے' یہی وجہ ہے کہ دور دراز کے علاقوں میں تعلیمی ادارے پسماندگی کا شکار نظر آتے ہیں' بہت سے تعلیمی اداروں میں بچے موسمی شدائد کے باوجود کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں' ایسے اداروں کی کمی نہیں جہاں یا تو اساتذہ کی مطلوبہ تعداد ہی موجود نہیں یا وہاں کے مقامی بااثر افراد نے عمارت پر قبضہ کر رکھا ہے۔

سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کے بارے میں رپورٹس تو متعدد بار تیار کی گئیں مگر ان پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ ترقی اور خوشحالی بیانات سے نہیں آتی بلکہ اس کے لیے حقیقی معنوں میں ٹھوس اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت سے امید ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے کی جانب بھرپور توجہ دے گی۔

مقبول خبریں