اخراجات کم اسٹیٹ بینک سے قرضے لینا بند کریں آئی ایم ایف کا انتباہ

ملک کے اقتصادی اعشاریوں کو بہتر بنایا جائے اور افراط زرکی شرح کوکنٹرول کیاجائےآئی ایم ایف جائزہ مشن


Numainda Express November 03, 2013
آئندہ چندروز میں پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کاجائزہ مکمل کرکے واپس جاکرآئی ایم ایف بورڈکورپورٹ پیش کریگا۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

ISLAMABAD: آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کیلیے مقررکردہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے عدم حصول، حکومتی اخراجات پورے کرنے کیلیے اسٹیٹ بینک سے بھاری قرضہ لینے اوردوبارہ سے گردشی قرضہ پیدا ہونے پر شدید تحفظات کااظہار کیاہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کومنظورشُدہ قرضے کی اگلی قسط کی فراہمی کیلیے ملک کی اقتصادی صورتحال کاجائزہ لینے کیلیے پاکستان کے دورے پرآئے ہوئے آئی ایم ایف کے جائزہ مشن نے پاکستانی حکام پرزوردیا ہے کہ ملک کے اقتصادی اعشاریوں کو بہتر بنایا جائے اور افراط زرکی شرح کوکنٹرول کیاجائے جبکہ ملک کے مالیاتی خسارہ کم کرنے کیلیے اخراجات کم کیے جائیں اور اسٹیٹ بینک سے قرضے لینابندکیا جائے۔

پاکستانی اقتصادی ٹیم نے آئی ایم ایف حکام کے سامنے اعتراف کیاکہ سبسڈی میں کمی کیلیے بجلی قیمتوںمیں اضافہ سمیت حال ہی میں کیے گئے اقدامات کے نتیجے میںرواں سہ ماہی کے دوران گردشی قرضوں میں کمی ہوگی،سبسڈی میں بتدریج کمی کی جارہی ہے جبکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلیے 31 ہزارسے زائد امیرلوگوں کونوٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔اس کے نتیجے میں ایک ہزارسے زائد لوگ ٹیکس گوشوارے جمع کراچکے ہیں جبکہ 8 کروڑ روپے سے زائد کا اضافی ریونیو بھی حاصل ہوچکا ہے۔ وفد آئندہ چندروز میں پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کاجائزہ مکمل کرکے واپس جاکرآئی ایم ایف بورڈکورپورٹ پیش کریگا جسکی روشنی میں قرضے کی اگلی قسط فراہم کرنے بارے میں فیصلہ ہوگا۔